ویڈیوز
احمد فراز کی شاعری: تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

احمد فراز کی شاعری: تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
احمد فراز کی اس لازوال غزل میں زندگی کے دکھوں اور محبت کی تلاش کا بیان ہے۔ دیر سے ملنے والے محبوب کا شکوہ، محبت میں ہار جانے کا حوصلہ اور تنہائی کا احساس، یہ سب اس شاعری کو دل میں اتر جانے والا بناتے ہیں۔ اگر آپ اردو شاعری کے مداح ہیں تو یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔
یہ ویڈیو احمد فراز کی ایک مشہور غزل پر مبنی ہے جس میں زندگی سے شکوہ کیا گیا ہے کہ محبوب بہت دیر سے ملا۔ شاعر کہتا ہے کہ اسے محبت میں ہارنے کا بھی حوصلہ ہے، بس کوئی محبت سے پیش تو آئے۔ دل دھڑکنے کی بجائے ٹپکتا ہے اور کل کی خواہش آج ایک ناسور بن چکی ہے۔ شاعر کو ہجوم نہیں بلکہ ایک ہم سفر کی تلاش ہے اور اس کے لئے ایک مسافر ہی کافی ہے۔ فراز کہتے ہیں کہ کوہ کن ہو، قیس ہو یا خود فراز، سب میں اسے ایک ہی شخص ملا ہے۔
غزل کے چند اہم اشعار درج ذیل ہیں:
* زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
* تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
* دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
* ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
* کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔ
سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے



