خبریں

کراچی میں آگ کی لپیٹ میں آنے والی عمارت سے تین لاشیں ملی ہیں: ریسکیو اہلکار


کراچی میں ریسکیو حکام کے مطابق عائشہ منزل کے قریب ایک عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ریسکیو اہلکار اورنگزیب نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار امر گروڑو کو بتایا ہے کہ عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے بعد جب اس کا جائزہ لیا گیا تو وہاں سے تین لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ملنے والی لاشوں میں سے ایک کی شناخت 45 سالہ غلام رضا ولد رجب علی کے نام سے ہوئی ہے۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ فوم کے گدوں کی دکان میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے، جس نے قریبی دکانوں کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے احمد ایدھی کے مطابق آگ کراچی کے علاقے عائشہ منزل کے قریب عرشی پلازہ میں موجود فرنیچر کی دکانوں میں لگی ہے۔

اس سے قبل آتشزدگی کی زد میں آنے والی عمارت کے قریب موجود ایدھی کے ایک رضاکار نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار امر گروڑو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں شام پانچ بج کر 42 منٹ پر کنٹرول روم سے آگ لگنی کی اطلاع دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کے عمارت کے نچلے حصے پر زیادہ آگ تھی جبکہ اوپر والے حصے میں لوگ تھے۔

ایدھی رضاکار کے مطابق ’عمارت کے اوپر والے حصے میں موجود لوگوں کو فوراً ہی پچھلی سیڑھیوں سے ریسکیو کیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کافی حد تک آگ پر قابو پا لیا گیا ہے مگر عمارت کے کچھ حصوں میں ابھی آگ لگی ہوئی ہے جسے بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل فائر بریگیڈ حکام کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں ایک باؤزر اور ایک اسنارکل آگ بجھانے کے لیے پلازے کے باہر موجود ہیں۔

جبکہ سی ای او واٹر کارپوریشن انجینیئر سید صلاح الدین احمد کے مطابق حادثے کے مقام پر پانی سے بھرے متعدد ٹینکرز روانہ کر دیے گئے تھے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button