ادبی خبریںرپورٹ

سائبان میں ادبی و مکالماتی نشست / رپورٹ: سیدہ عطرت بتول نقوی

حسین مجروح صاحب کے مہمان خانہ ’’سائبان‘‘، ویسٹ وُڈ سوسائٹی میں معروف صحافی، اینکر، تجزیہ نگار اور شاعرہ یعنی ہمہ جہت شخصیت عائشہ مسعود صاحبہ اور اکبر نیازی صاحب کے اعزاز میں ایک مکالماتی اور شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ معزز مہمان اسلام آباد سے لاہور تشریف لائے تھے۔ نشست نہایت بھرپور اور کامیاب رہی۔

جس کی صدارت ڈاکٹر دانش عزیز اور غلام حسین ساجد صاحب نے کی۔ شعراء کرام نے بھرپور شرکت کی اور اپنا عمدہ کلام سنایا، جس پر شرکاء نے دل کھول کر داد دی۔ شاعرات میں دلشاد نسیم، رقیہ اکبر، شازیہ مفتی، ڈاکٹر شاہدہ حیدر اور وفا آزر نے اپنا کلام پیش کیا۔ بہت عمدہ اشعار سننے کو ملے اور تمام حاضرین نے اپنے اپنے کلام سے محفل کو رونق بخشی۔

میں چونکہ نثر نگار ہوں، اس لیے جب میری باری آئی تو میں نے عائشہ مسعود کے کالمز اور تجزیوں پر گفتگو کی، جو بہترین، ادبی چاشنی سے بھرپور اور تاریخی حوالوں سے مزین ہوتے ہیں۔ عائشہ مسعود سے مل کر بہت اچھا لگا۔ وہ ایک بے لاگ صحافی ہیں۔ تقریب کے آخر میں ان سے مکالمہ بھی کیا گیا۔ شرکاء نے سوالات پوچھے جن کے انہوں نے نہایت عمدگی سے جوابات دیے۔

حسین مجروح صاحب کی میزبانی نہایت عمدہ تھی۔ انہوں نے ہر کسی کو خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ قبل ازیں انہوں نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور اپنے مہمان خانے ’’سائبان‘‘ کے قیام کی غرض و غایت بیان کی۔ آخر میں غلام حسین ساجد صاحب نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔

عائشہ مسعود اس پذیرائی پر بہت خوش تھیں۔ انہوں نے حسین مجروح صاحب کا اس خوبصورت نشست کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور ان کی ’’سائبان تحریک‘‘ کی تعریف کی۔ بلا شبہ حسین مجروح صاحب نے ادیبوں کے لیے یہ عمارت بطور مہمان خانہ مختص کر کے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ ادیبوں کو چاہیے کہ وہ ان سے تعاون کریں اور ان کی اس کاوش میں ان کا ساتھ دیں۔

آج کی نشست نہایت کامیاب، یادگار اور بھرپور رہی، جس کے لیے تمام منتظمین مبارکباد اور نیک خواہشات کے مستحق ہیں۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x