غزل
غزل/میں نے اقرار وفا کر لیا نادانی میں/اختر عبدالرزاق

غزل
اختر عبدالرزاق
دیکھنا جھیل کو کیفیت وجدانی میں
چاند اترے گا نہانے کے لیے پانی میں
کو بکو حیرت تحریر لیے پھرتا ہوں
خط کہاں لکھ دیا اس نے مجھے عبرانی میں
جانتے بوجھتے تجھ ایسے جفا کار کے ساتھ
میں نے اقرار وفا کر لیا نادانی میں
یوں نہ ہو حیرت حالات نگل جائے مجھے
خوف بھی ہو گیا شامل مری حیرانی میں
اتنا مخدوش کنارا تھا سنبھلنا مشکل
ہر قدم پر یہ لگا اب میں گیا پانی میں
جو نہیں جانتے پوچھیں تو بتاؤں ان کو
زندگی کیسے گزرتی ہے پریشانی میں
میں تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں تھا اختر
کون رکھتا مجھے پھر اپنی نگہبانی میں




