غزل

غزل /اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں /احتشام حسن

غزل 

احتشام حسن 

یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔

ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل پڑے ہیں

وہ تشنہ لب جو سراب آنکھیں سجا کے نکلے

سمجھ رہے تھے کہ چند قدموں پہ جل پڑے ہیں 

تمہارے جلووں سے دو قبیلوں میں ٹھن گئی ہے

پرانے یاروں کی دوستی میں خلل پڑے ہیں

یہ سن کے پیاسوں نے ایک صحرا کا رخ کیا تھا

کہ دشت میں ایڑیوں سے چشمے ابل پڑے ہیں

کہو تو پل بھر میں ختم کر دوں میں دے کے بوسہ 

جو برہمی سے تمہارے ماتھے پہ بل پڑے ہیں

اسے یہ سمجھا کے میں نے خود سے جدا کیا ہے

جہاں میں میرے ہزار نعم البدل پڑے ہیں

ہمارے حلیے مقامی لوگوں سے مختلف تھے

سو ختم کر کے پڑاؤ بستی سے چل پڑے ہیں

اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں

رکے ہوئے پانیوں پہ جیسے کنول پڑے ہیں

پہنچ گئے اشک دل سے آنکھوں تلک اچانک

بتا تو دیتے کہ ہم یہاں سے نکل پڑے ہیں

حسن ہے سچ یہ فقیر جو کچھ بھی کہہ رہا ہے

سمجھ گئے جو وہ بیٹھے بیٹھے اچھل پڑے ہیں

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x