اُردو ادبافسانہ

سرخ چوڑیاں / راحت سرفراز

عید کی آمد کی آہٹ تھی.
فضا میں خوشیوں کے ہلکے ہلکے چراغ جلنے لگے تھے۔ کہیں چہرے مسکراہٹوں سے روشن ہو رہے تھے، تو کہیں اداسی اپنے قدم اور مضبوطی سے جما رہی تھی۔
اداسی…
اگر کسی سبب سے ہو تو وقت کے ساتھ بہہ جاتی ہے، جیسے بارش کے بعد مٹی کی نمی خشک ہو جاتی ہے۔
لیکن جب اداسی بے سبب ہو… تو وہ روح کے کسی اندھیرے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتی ہے—اور پھر وہاں چراغ نہیں جلتے۔
اس کے اندر بھی ایسی ہی ایک اداسی بسی ہوئی تھی…
خاموش، گہری، اور ضدی۔
کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دنیا بھر کی اداس شاعری اسی کے نام وقف کی گئی ہو۔
ایک شعر اس کے ذہن کے دریچوں پر بار بار دستک دیتا:
میرے گھر کی در و دیوار پر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
وہ اس شعر کو نہیں پڑھتی تھی… وہ اسے جیتی تھی۔
گھر کی دیواروں پر ابھرتی ہوئی سیم اسے یوں لگتی جیسے نمی نہیں، آنسو رس رہے ہوں۔
اکھڑا ہوا پلستر—گویا کسی نے اپنے دکھ کو دیواروں میں سر دے کر دفن کرنے کی کوشش کی ہو۔
آسمان پر بکھرے بادل اسے یوں محسوس ہوتے جیسے کوئی خاموش مجلسِ ماتم سجی ہو، جہاں ہر بادل سر جھکائے بیٹھا ہو۔
اور کوئی آوارہ بادل—
ایسا جیسے کسی اجڑی ہوئی سہاگن کے بکھرے بال، جنہیں ہوا بے رحمی سے الجھا رہی ہو۔
حتیٰ کہ فرش پر گرا ہوا پانی بھی اسے ایک تصویر دکھاتا—
ایک ایسی تصویر، جس میں کوئی چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہو… اور لبوں پر شکوہ، آنکھوں میں سوال۔
لوگ اسے دیکھتے تو حیران ہوتے—
کبھی وہ آسمان کو یوں تکتی جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو۔
کبھی دیواروں کے زخموں میں نظریں گاڑ دیتی، جیسے وہی اس کا آئینہ ہوں۔
اور پھر…
بغیر کسی وجہ کے آنکھیں بھیگ جاتیں۔
پوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر کہہ دیتی:
“بس… دل اداس ہے۔”
مگر اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ اداسی کب اس کے وجود میں اُتری تھی—
شاید اس دن…
جب وہ پہلی بار پانچ برس کی عمر میں عید پر سرخ کانچ کی چوڑیوں کی ضد پر اڑ گئی تھی۔
اور اس کی ماں نے محبت بھرے خوف کے ساتھ کہا تھا:
“اگر گر گئی تو کانچ تمہیں زخمی کر دے گا۔”
چوڑیوں کی جگہ اسے پلاسٹک کی چوڑیاں مل گئیں—
رنگ تو وہی تھا… مگر آواز نہیں تھی۔
اور بعض چیزیں…
صرف دیکھی نہیں جاتیں، سنی بھی جاتی ہیں۔
عید کے دن جب اس نے اپنی سہیلیوں کے ہاتھوں میں کھنکتی ہوئی چوڑیاں دیکھیں تو اس نے معصومیت سے پوچھا تھا:
“کیا یہ سب نہیں گر سکتیں؟”
ماں نے جواب دیا تھا:
“گر سکتی ہیں… زخمی بھی ہو سکتی ہیں…
لیکن فرق یہ ہے کہ ان کی ماؤں کو ڈر نہیں لگتا…
مجھے لگتا ہے…”
وہ ماں کے خوف کے سائے میں پروان چڑھتی رہی—
مگر اس سائے نے روشنی کو راستہ نہیں دیا۔
اور یوں…
ہر نئے خوف نے ایک نئی خواہش کا گلا گھونٹا—
اور وہ انیس برس کی عمر میں خزاں جیسی بہاریں دیکھ چکی تھی۔
اس شام چاند نظر آنے کی امید تھی۔
لوگوں کی نظریں آسمان پر تھیں… اور دل مسجد کے اعلان پر۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
“حوا…! دروازہ دیکھو!”
اپنے نام پر اسے ہمیشہ کوفت ہوتی تھی—
“حوا…”
گویا ایک نام نہیں، ایک الزام ہو۔
وہ دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ ماں کی آواز آئی:
“پہلے دوپٹہ ٹھیک کرو!”
وہ رک گئی—
جیسے زندگی نے ایک بار پھر اسے روک لیا ہو۔
دروازہ کھولا تو سامنے عصمت بوا تھیں—
اور ان کے پیچھے… آدم۔
عصمت بوا بہار کی طرح آتی تھیں،
اور آدم… شاید وہ ہوا تھا جس میں بہار کی خوشبو ہوتی ہے۔
کچھ دیر بعد…
جب وہ برآمدے میں مصروف تھی—
آدم اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اس کے ہاتھ میں کاغذ میں لپٹی ہوئی کوئی چیز تھی۔
اس نے آہستگی سے وہ اس کی طرف بڑھائی—
شوخ سرخ کانچ کی چوڑیاں۔
ایک لمحہ…
صرف ایک لمحہ کے لیے اس کا دل بچپن بن گیا۔
مگر اگلے ہی لمحے—
وہ پھر بڑی ہو گئی۔
اس نے چوڑیاں لینے سے انکار کر دیا۔
کیوں کہ بعض اوقات…احتیاط کی مٹھی میں قید کئے ہوے امید کے جگنو اڑ جانے کا خوف ہوتا ہے۔اور بہت سارے دوسرے خوف بھی۔۔۔جن میں سر فہرست ہوتا ہے چوٹ لگنے کا خوف۔۔۔۔
چوٹ لگنے کا خوف، خوشی حاصل کرنے کی خواہش سے بڑا ہو جاتا ہے۔
آدم نے اسے پکارا:
“حوا…”
اور پہلی بار۔۔۔
اسے اپنا نام پانی کی طرح شفاف، اور آبشار کی طرح زندہ محسوس ہوا۔
وہ رک گئی…
مگر ٹھہری نہیں۔
کیوں کہ کچھ آوازیں دل تک پہنچتی ہیں،
مگر زندگی تک نہیں۔
“آدم آخری بار آیا ہے…”
باپ کی آواز نے اس کے قدموں سے زمین کھینچ لی۔وہ جانتی تھی کہ مولوی بشارت ۔۔۔اس کا باپ۔۔۔یہ کبھی نہیں سننا گوارا کرے گا کہ ۔۔۔مولوی صاحب کی بیٹی کا نکاح اس کی پسند سے ہوا ہے۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔
چوڑیاں آدم کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکی تھیں۔
کانچ کے ٹکڑے…
جیسے خواب کے بکھرے ہوئے حصے ہوں۔۔۔
اور آدم کی آنکھوں کے جگنو…
بجھ چکے تھے۔
وہ آہستہ سے اس کے قریب آئی اور کہا:
“تم پہلے بھی آئے تھے…
تب بھی یہی کہا گیا تھا… آخری بار…”
ایک لمحہ رکی… پھر بولی:
“محبت… میرے لیے شجرِ ممنوعہ ہے۔
اگر میں نے اس کا پھل چکھ لیا…
تو اپنے باپ کی جنت سے نکال دی جاؤں گی…”
وہ پلٹنے لگی—
مگر آدم کی آواز نے اسے روک لیا:
“میں وہ پھل ضرور کھاؤں گا…
چاہے چالیس سال معافی مانگنی پڑے…”
وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔۔
کچھ جنگیں جیتی نہیں جاتیں، صرف ٹالی جاتی ہیں۔
کمرے میں آ کر اس نے ڈائری کھولی اور
لکھا:
اس کی آخری نگاہ میں عجب درد تھا، منیر
اس کے جانے کا غم مجھے عمر بھر رہا…
پھر کچھ دیر رکی…
اور ایک اور جملہ لکھا:
“ماں کا خوف… ہمیشہ جیت گیا۔
اور میں… ہر بار ہار گئی۔”
مگر وہ یہ نہ لکھ سکی ۔۔
کہ بعض اوقات
ہارنے والے… دراصل جیتنے کی قیمت چکا رہے ہوتے ہیں ۔

Author

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

3 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
رانا سرفراز احمد
رانا سرفراز احمد
42 minutes ago

تجزیہ بر افسانہ “سرخ چوڑیاں اور شجرِ ممنوعہ” راحت سرفراز
از رانا سرفراز احمد

جبر خوف، نامکمل خواہشات اور بچپن سے لے کر پچھلی عمر تک کا مزاج تخلیق کرتے ہوۓ سائیکوموٹرز کے باعث پیدا ہونے والے المیے کا اظہار کرتا ہوا یہ افسانہ محض ایک افسانہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک داخلی کرب کی دستاویز بھی ہے۔ جو شاید اپلائیڈ سائیکولوجی کی حقیقت کا ایک ثبوت بھی بن سکتا ہے۔
راحت نے جو لکھا ہے وہ کہانی کم اور احساس سے تعلق رکھنے والی حساس چیز زیادہ ہے جو اس افسانے کی اصل طاقت ہے۔،

ہم کہہ سکتے ہیں کہ زیرِ نظر افسانہ نفسیاتی، علامتی اور شاعرانہ نثر کا ایک بہت اچھا نمونہ ہے۔ اگر علامات و استعارات کی بات کی جاۓ تو ہمیں چند ایک استعارات ہمیں ملتے ہیں جو کہ افسانے کو مزید گہرائی و گیرائی عطا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں چوڑیوں کی جو کہ نسوانیت کا ایک جزوِ لاینفک ہے۔ اس میں ابتداء میں کانچ کی چوڑیوں کا ذکر ہے چونکہ کانچ ہمیشہ نازکی اور ناپائیداری کا تاثر دیتا ہے لیکن اس کی تیز دھار گہرے زخم کا باعث بنتی ہے یہ ایک میسیج دے رہی ہے کہ کچی عمر کے زخم گہرے اور مستقل ہوتے ہیں مزید برآں یہ بالی عمر کے کچے خیالات کا تاثر بھی پیدا کر رہی ہیں، اور پلاسٹک ایسا چیز ہے جو کہ ہر طرح کی چوٹ، گرنا، دباؤ وغیرہ کافی حد تک برداشت کر لیتا ہے اور اس میں پختہ عمر والی لچک موجود ہوتی ہے اس میں عمر کے مطابق خیالات اور پسند ناپسند کی تبدیلی کا تسلسل بھی نظر آ رہا ہے گویا چوڑیوں کا موضوع اپنے آپ میں ایک الگ افسانہ بنتا نظر آتا ہے۔ دوسری بات ہم شجرِ ممنوعہ کی کریں گے جو کہ ایک نثری تلمیح ہے شجرِ ممنوعہ کا تعلق آدم و حوا سے ہے جو کہ دونوں کی آزمائش کا استعارہ تھا۔ لیکن مغربی ادب کے زیرِ اثر (جیسا کہ ملٹن کی پیراڈائز لاسٹ) اس شجر کو پابندیوں سے آزادی فطرت سے بغاوت اور محبت اور خواہشات کی قیمت کے استعارے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یعنی یہ استعارہ بھی اپنے طور پر ایک مکمل بحرِ معانی ہے۔ تیسرا استعارہ یہاں آدم و حوا کا نام۔ہے جو کہ افسانے کے کرداروں اور خاص طور پر مرکرزی موضوع کو یونیورسلائز کر رہا ہے۔ اور افسانے کو تمام تہذیبی، مذہبی اور زمان و مکاں کی سیماؤں سے بلند تر کر کے اسے آفاقیت عطا کر رہا ہے۔

انسان جب زمین پر نازل ہوا ہے تو وہ پہلے انسان تھا نبی نہیں تھا اس سے انسان کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور انسان جذبات سے مبرا نہیں ہے اس الوہی مہمان نوازی اور خدا کی جنت سے بچھڑنے کی اداسی روح کی ہے اور دنیاوی اسباب سے بچھڑنے کی اداسی جب اس الوہی اداسی سے ہم آہنگ ہو جاۓ تو روح اور دل و دماغ کی اداسیاں مل کر کہیں نیچے گہرائیوں میں جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور وہ تب دور ہو سکتی ہے جب میزبانِ ازل و اول مہمان نوازی کرے یا اسے دور کرے۔ اداسی کا تاثر افسانے کا سب سے مضبوط تاثر ہے جو قاری کے بھی اندر جا کر بیٹھتا محسوس ہو رہا ہے۔ اس تاثر کو مضبوط کرنے کیلئے علامتوں کو سہارا لیا گیا ہے جو کہ امیجنری ہیں دیواروں کی سیم کو آنسو کہنا، بادلوں کی مجلس کو ماتمی کہنا اور پانی میں سے اداسی کا عکس ابھرنا اگرچہ اپنی جگہ پر مبہم محسوس ہوتی ہیں لیکن اس کے پیچھے یہ تاثر ہے کہ جب انسان اداس ہو تو اسے ہر متعلقہ و غیر متعلقہ چیز میں وہی اداسی نظر آتی ہے یہاں وہم و حقیقت یکجا ہوتے نظر آتے ہیں۔
اب افسانہ جذباتیات کو حقیقت کی تیز دھوپ سے ہم آہنگ کرتا نظر آتا ہے جہاں ماں کو بیٹی کی خواہشات کےکمزور پن اور ناپائیداری کے باعث دکھوں میں بدل جانے کا ڈر محسوس ہونے لگتا ہے جو کہ۔عین معاشرتی اور سماجی حقائق سے متعلقہ چیز ہے۔ یعنی پلاٹ اب میچورٹی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ افسانے کا کونفلکٹ ہے جو کہ بہت حقیقی معاشرتی و سماجی و انفرادی و مجموعی موضوع ہے۔ اور اس سے آگے کانچ کا ٹوٹنا اور بکھرنا اس سماج، حقیقت اور میچورٹی کو تسلیم کر لینے کا استعارہ ہے۔ کانچ کا بکھرنا خوبوں کا بکھرنا بن جاتا ہے۔ یہاں افسانہ محسوس کئے جانے کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ ہارنے والے جیتنے کی خواہش کی قیمت ادا کرتے ہیں، بہت مضبوط اور گہری لائن ہے۔
تاہم افسانہ بعض مقامات پر نثر کی بجاۓ شاعری زیادہ لگنے لگتا ہے آدم و حوا کے کرداروں کی حقیقی زندگی کم اور جذباتی زندگی زیادہ دکھائی گئی ہے۔
باپ کو مولوی بشارت بنا کر یک رخا کر دیا گیا یے۔ زیادہ تر کردار یک رخے زیادہ محسوس ہو رہے ہیں۔ مجموعی طور پر افسانہ بہ
ت اچھا رہا۔

عارفین یوسف
عارفین یوسف
39 minutes ago

راحت سرفراز صاحبہ کا افسانہ اس ویب سائٹ پر دیکھ کر خوشی ہوئی کہ باقاعدہ لکھنے والوں میں ایک اور خوشگوار اضافہ ہوا۔ امید ہے وہ اپنی اس روش کو جاری رکھیں گی اور ہمیں خوبصورت افسانے پڑھنے کو ملتے رہیں گے۔ افسانہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ بچپن میں ذہنوں میں انڈیلے گئے اندیشے کس طرح تمام عمر کے لیے انسانی شخصیت کا لازمہ بن جاتے ہیں۔ افسانہ میں لکھے گئے جملے معنویت سے بھرپور ہیں۔ جیسے اداسی کے اظہار کرنے کے لیے جن تشبیہات اور استعارات کا استعمال کیا گیا انہوں نے ایک بھرپور اداس فضا قائم کر دی۔ "اپنے نام سے اسے ہمیشہ کوفت ہوتی تھی۔۔۔ حوا۔۔۔۔ گویا ایک نام نہیں الزام ہو” جیسے جملوں نے عورت کے استحصال اور اس کے ساتھ ناروا سلوک کی تمام داستانوں کو اس ایک فقرے میں رقم کر دیا۔ یہاں راحت صاحبہ ایک بھرپور فیمینسٹ کے طور پر متحرک دکھائی دیتی ہیں جو خواتین کے حقوق کی علمبردار اور ان پر ظلم کے خلاف ایک جاندار آواز ہیں۔
یہ افسانہ دراصل ان عورتوں کا نوحہ ہے جن کو بے جا پابندیوں اور بے سروپا روایت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور اس امر میں اس حد تک جانبداری و ضد کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جائز مذہبی اور شرعی حقوق سے بھی دستبردار ہو جاتی ہیں۔ایک بھرپور افسانہ۔ میری خالصتاً ذاتی رائے میں اس افسانہ کا اختتام دو مقامات پر کیا جا سکتا تھا۔۔۔ ایک۔۔۔ "محبت میرے لیے شجر ممنوعہ ہے اگر میں نے اس کا پھل چکھ لیا ۔۔۔۔تو اپنے باپ کی جنت سے نکال دی جاوں گی۔۔۔”
یا۔۔۔”ماں کا خوف ۔۔۔ ہمیشہ جیت گیا اور میں ۔۔۔ ہر بار ہار گئی۔”
ایک بھرپور افسانہ۔۔ بے حد داد۔

Related Articles

Back to top button
3
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x