غزل

غزل / ویسے تو ہر بات سنبھالی جا سکتی ہے / عبداللہ ندیم

غزل

 

ویسے تو ہر بات سنبھالی جا سکتی ہے

دل سے کب وہ یاد نکالی جا سکتی ہے

 

کھلی ہوئی ہے رخ پر اس کے ایسی سرخی 

سورج کے چہرے سے لالی جا سکتی ہے 

 

دعا کا رد ہو جانا کوئی کھیل نہیں ہے

صدا کا کیا ہے ،یہ تو خالی جا سکتی ہے 

 

شب بھر دل کا جلنا ہی کب لازم ٹھہرا

دیے سے بھی تو رات اجالی جا سکتی ہے

 

گھر میں جس کا آنا جانا ہے ، اس سے 

رشتے کی بنیاد بھی ڈالی جا سکتی ہے 

 

جی بھر کے نظّارہ اپنا کر لینے دو

بعد میں دنیا دیکھی بھالی جا سکتی ہے

 

ٹھیک ہے ان کا دل میں رہنا ٹھیک نہیں ہے

اک خواہش توپھر بھی پالی جا سکتی ہے 

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x