اُردو ادبافسانہ

چھت / شبیر علوی

مجبوری میں سوال نہیں صرف قبول کرنا ہوتا ہے, اٹھارہ سال کی ماہم کے اس جملے نے مجھے اپنے لڑکپن و جوانی کے وہ دن یاد دلا دیے جب گھر کے چولہے کو جلائے رکھنے کےلیے کتابیں اس کی نذر کرکے ہتھوڑی اور کرنڈی میں نے تھام لیے اور ایک جگہ کام کرتے ہوئے جب مجھے ڈانٹا گیا تو کام چھوڑنے کا ارادہ اس لیے ترک کرنا پڑا کہ غربت سے لڑنا ہے تو انکار نہیں صرف جی ہاں کہنا پڑے گا ۔
خود سے منسلک رشتوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کےلیے انہیں پیٹ بھر کھلانے کےلپے پیسہ کمانے کے سفر میں اس قدر محو رہا کہ رشتے کب مجھ سے دور ہوئے مجھے خبر ہی نہ ہوئی ۔ آج اسی برس کی عمر میں یہ سوچ کر میرا ضعیف دل دہل جاتا ہے کہ دو درجن پوتے نواسے ہونے کے باوجود میں تنہا ہی مروں گا ۔
اٹھارہ برس کی ماہم میرا خیال رکھنے کےلیے تنخواہ پر رکھی گئی ہے ۔
میری خود کلامی بڑبڑاہٹ بھی وہ بڑی اچھی طرح ناصرف سمجھ جاتی ہے بلکہ شائستگی سے جواب بھی دیتی ہے ۔
زندگی کی تلخیوں سے جب دل و دماغ میں درد شدت اختیار کرجائے تو ماہم کے مخملی ہاتھ سکون آور مساج مجھے گہری نیند میں لےجاتے ہیں ۔
نیند میں انسان جن جگہوں سے ہو آتا ہے عموماً ویسے مناظر دنیا میں کم ہی ملتے ہیں ,
عمر کے اس حصے میں ماہم کا ہاتھ تھامے ایسے ہی ایک میدانِ بےکنار میں تھا جہاں بڑے بڑے ہال, بارہ دریاں بنی ہوئی تھیں ۔
جہاں مختلف ادوار کی مختلف تہذیبوں کے عکس دکھائے جارہے تھے ۔ چکنے صاف فرش پر ضعفِ جسم کے سبب میرے پھسلنے کے خدشات تھے مگر ماہم نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
یہ کوئی عام میلہ نہیں تھا مختلف ادوار و مقام پر انسان کی خودساختہ عظمت کا مظاہرہ تھا اور میں تماشائی ۔
مٹی کی خوشبو بیل گاڑی کی چرچراہٹ اور گیت گاتی ہوئی عورتیں پانی بھرنے جا رہی تھیں ان میں ایک مجھے دیکھ کر رک گئی اس کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی جیسے وہ مپری منتظر ہو ۔
اس نے بتایا کہ میں ایک دیوی ہوں لیکن جب مجھے کھیتوں میں ہل چلانے کےلیے جویا جاتا ہے تب میری پوجا نہیں کی جاتی , اس کی بات سن کر میں نے ماہم کی طرف دیکھا تو ماہم نے مجھے کہا اس کی بات آپ نہیں سمجھ پاؤ گے ہم آگے چلتے ہیں ۔ میدان کے ہر طرف بلند و بالا بارہ دریاں کشادہ سڑکیں رنگین خیمے لگے تھے ۔ ایک طرف کافی بھیڑ دیکھ کر وہاں چلے گئے ایک چوراہے کےدرمیان بنے چبوترے پر بہت خوبصورت مجسمے بنائے جارہے تھے ۔ ساتھ ہی ایک خوبصورت رقاصہ گیت گا رہی تھی ۔ میرے گانے سنے جاتے میری ہنسی کے لاکھوں دیوانے ہیں ۔ میرے جسم کو چاند کی چاندنی کہا جاتا ہے ۔ لیکن میرے دکھ نہیں سنے جاتے تب میری سسکی پر میری عقل کو بھی ناقص کہہ دیا جاتا ہے ۔
اس کے جواب میں کچھ کہنے سے پہلے ہی ماہم نے میری توجہ دور ایک منظر کی طرف کروائی جہاں بہت سارے دانشور محفل سجائے بیٹھے تھے ۔ ان کے چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر موجود تھے ۔
کتابوں کے دوسری طرف پردے کے پیچھے ایک خوبصورت دوشیزہ قہوہ بنا رہی تھی ۔ مجھے اور ماہم کو دیکھ کر مسکرائی اور کہنے لگی دراصل بابا کی طرف سے ورثے میں کتابوں والا حصہ میرے بھائیوں کو ملا, پردے کے اس طرف والا مجھے وگرنہ درد کم کرنے والی جڑی بوٹی کا قہوہ بنانے کے جرم میں شیطان کی ساتھی کہہ کر میری بہنوں کو جلایا نہ جاتا ۔
ماہم کو میں نے بتانا چاہا کہ مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے چلیں ۔
آگے کچھ دور گئے تو سنگِ مرمر کے ستون مشک و عنبر کی مسحورکن خوشبو ریشم کے خوبصورت جھلملاتے پردے اور زیورات سے آراستہ پلنگ پر بیٹھی خوبصورت ملکہ ۔
ملکہ کو دیکھ کر دل بہت خوش ہوا ۔ میرے منہ سے بےساختہ اس کے پاؤں میں پہنی پازیب کی تعریف ہونے لگی ۔ ماہم حیرانی سے مجھے دیکھنے لگی اسی اثنا میں ملکہ نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر کہا یہ پائل نہیں ایک زنجیر ہے
یہ محل نہیں ایک خوبصورت دلفریب قید ہے جہاں آزادی کا لفظ بولنا تو دور سوچنا بھی گناہ ہے ۔ ملکہ کی بات سن کر جی بھر سا آیا میں نے اپنے ضعیف قدموں سے آگے بڑھنا چاہا اسی وقت محل کے بادشاہ نے تالی بجائی اور کچھ حرکارے حاضر ہوئے جنہوں نے مجھے چلنے میں مدد کی, میدان میں ایک سڑک کے کنارے کھجور کے تن آور درخت بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔ ماہم وہاں مجھ سے پہلے کیسے پہنچی مجھے یاد نہیں رہا ۔ ایک خیمے میں موجود خواتین خوش ہیں ۔
ان کے ہاتھوں میں کتابیں ہیں ۔
سب پڑھ رہی ہیں لیکن ایک لڑکی سے نہیں پڑھا جا رہا وہ غمزدہ ہے ۔ میں نے اسے سمجھایا کہ تم کوشش کرو, تو وہ یہ بتاتے ہوئے رو پڑی کہ یہ کتاب میری زبان میں نہیں لکھی ہوئی ۔ میں نے ماہم کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے لےکر ایک دوسرے ہال میں آگئی , اس ہال کے ایک طرف عورتیں مختلف کھیلوں میں مصروف جبکہ دوسری طرف کچھ عورتیں لکھ پڑھ رہی ہیں اور بازار میں مصنوعات کا ڈھیر لگا ہے جنہیں عورتیں ہی بیچ رہی ہیں ۔ مجھے یہ سب دیکھ کر اچھا لگا کہ یہاں کوئی عورت پرشکوہ نہیں کسی کی زبان پر نوحہ نہیں لیکن اسی ہال میں لگی ہوئی اسکرین کی طرف ماہم نے توجہ دلائی جہاں میری بیٹی سب کو بتا رہی تھی کہ میں بولتی ہوں لوگ سنتے ہیں مگر جب میں خود کو دکھاؤں۔ میری صلاحیت تب تک قیمتی ہے جب تک میں دلچسپ ہوں ۔ میری مسکراہٹ کو پیسے سے ناپا جا رہا ہے۔ لباس بدلے زبان, بدلی , رسمیں بدلیں , مگر میرا مقدر نہیں بدلا میری ماں کو پیدا ہوتےہی دفنایا گیا میرے شوہر کی اچانک موت ہوئی تو مجھے ساتھ مار کر تماشہ بنایا گیا اور اب بھائیوں کی طرف سے مجھے پھر آزادی کے نام پر تماشہ ہی بنایا جا رہا ہے ۔
بیٹی کا شکوہ سن کر میری پیشانی پر پسینہ آگیا آنکھیں نم ہو گئیں اور ہچکی بندھ گئی , خوف سے جسم لرزنے لگا ۔
ماہم نے مجھے گلے لگا کر اپنی بانہوں کے حصار میں لےلیا مجھے سنبھالا دیا , میرے آنسو صاف کیے میں سوچنے لگا, کیا احساسِ کمتری یا احساسِ برتری ماہم جس طرح مجھے سنبھال رہی ہے , اپنی جوانی میری خدمت حفاظت عیادت پر صرف کر رہی ہے اس روپ میں عورت انسانیت کی معراج پر کھڑی ہے ۔
میری آنکھ کھل چکی تھی ماہم میرے سامنے دلہن کے لباس میں کھڑی رخصتی سے پہلے سر پیار کی منتظر تھی ۔ لیکن میرے ناتواں ہاتھ اٹھنے سے قاصر تھے , آنکھوں سے میری بےبسی ماہم سمجھ چکی تھی , آگے بڑھ کر ماہم نے بانہوں میں بھرکر میری پیشانی پر بوسہ دیا مجھے سکون آگیا , ماہم سے میری ماں کے لمس کی مہک آئی , جو مجھے دودھ پینے کی عمر میں ہی چھوڑ گئی تھی ۔
چھت کو گھورتے ہوئے
میرے خیال میں یہی بات گونجتی رہی کہ عورت کی ہر قربانی کےپیچھے چھت ہے ۔ عورت ازل سے محض چھت کی ہی طلبگار ہے ۔

Author

Related Articles

Back to top button