fbpx
خبریں

قاتل نے 23 سال بعد ’ماں بیٹی‘ کے قتل کا اعتراف کیوں کیا؟ دلخراش داستان/ اردو ورثہ

ورجینیا : امریکا میں سفاک قاتل نے 23 سال قبل کیے والے دہرے قتل کا اعتراف کرلیا، ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے جائے وقوعہ سے دونوں لاشیں برآمد کرلیں۔

امریکی ریاست مغربی ورجینیا میں قاتل نے 23 سال قبل ماں بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرکے پولیس کی مشکل آسان کردی، ملزم لیری ویب نے سال 2000 میں سوسن کارٹر اور اس کی 10 سالہ بیٹی نتاشا ایلکس کارٹر کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پولیس حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کچھ شواہد اور شک کی بنیاد پر 84سالہ ملزم لیری ویب کو گرفتار کیا گیا تھا جس کی تفتیش جاری تھی تاہم گزشتہ روز دوران حراست طبیعت خرابی کے باعث اسے اسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں بستر مرگ پر ملزم نے پولیس کو اعترافی بیان ریکارڈ کرایا۔

 Homicide Case Homicide Case

حکام نے بتایا کہ موت سے پہلے ملزم لیری ویب نے دہرے قتل کی واردات کے بارے میں تفصیلی، ناقابل تردید اور غیر متنازعہ اعترافی بیان دیا جس کے اگلے روز  اس کی موت واقع ہوگئی۔

ملزم کے اس دہرے قتل کے اعتراف کے نتیجے میں پولیس نے مقتولہ 41 سالہ سوسن کارٹر اور اس کی دس سالہ کمسن بیٹی نتاشا کی 23 سال سے زائد پرانی باقیات کو برآمد کرلیا۔

Discovery Discovery

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ میں نے ماہ اگست 2000 میں واردات کے بعد مقتولین کی لاشیں گھر کے پچھلے حصے میں دفن کردی تھیں، ملزم ویب نے بتایا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ لڑکی کہاں تھی یا اس نے اسے آخری بار کب دیکھا تھا، اس نے کہا کہ وہ بالکل بھی کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ اسے بھولنے کی بیماری ڈیمنشیا ہے۔

قاتل ویب نے پولیس کو بتایا کہ اس نے سوسن کو اس لیے مارا کہ اس نے دیکھا کہ میرے گھر سے کچھ رقم غائب ہے تو میں نے سوچا کہ وہ رقم اسی نے چوری کی ہوگی اور وہی اس کی ذمہ دار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ویب نے 10 سالہ بچی کو اس لیے گولی ماری تاکہ سوسن کارٹر کے قتل کا ثبوت مٹایا جاسکے۔

Two BodiesTwo Bodies

پریس کانفرنس کے دوران پولیس حکام نے بتایا ملزم لیری ویب کی موت کے چھ گھنٹے بعد پولیس اور ایف بی آئی کے ارکان کو وہ چیز ملی جو ان کے خیال میں سوسن اور اس کی بیٹی کی باقیات تھیں۔

“لیری ویب نے جس طرح سے جرم کی تفصیل ہمیں بتائی اور جس حالت میں ہمیں لاشیں ملی ہیں اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں لاشیں سوزن اور ایلکس کارٹر کی ہی ہیں۔”

Comments




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button
نوٹیفیکیشن فعال کریں OK No thanks
Close

Adblock Detected

برائے مہربانی ایڈ بلاکر ختم کیجئے