fbpx
خبریں

یو این ایجنسی کے ملازمین نے حماس حملے میں حصہ لیا، 9 ممالک نے بہانہ بنا کر غزہ فنڈنگ اچانک کم کر دی

غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا آپریشن خطرے میں پڑ گیا ہے، 9 ممالک نے بہانہ بنا کر غزہ فنڈنگ میں اچانک کٹوتی کر دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے میں امدادی ایجنسی کے ملازمین نے بھی حصہ لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں اقوام متحدہ کی مرکزی امدادی ایجنسی کے سربراہ نے ہفتے کو رات گئے خبردار کیا ہے کہ چار ماہ قبل اسرائیل کے خلاف حماس کے مہلک حملے میں ایجنسی کے کئی ملازمین کے حصہ لینے کے الزامات پر 9 ممالک نے فنڈنگ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے پی کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ فلیپ لازرینی نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے فیصلے ایسے وقت میں لیے گئے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ میں لکھا ’’غزہ میں فلسطینیوں کو اس اضافی اجتماعی سزا کی ضرورت نہیں تھی، یہ ہم سب کو اس جرم میں شراکت دار بناتا ہے۔‘‘

فلیپ لازرینی نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ چند ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہے، کہ آیا انھوں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا تھا یا نہیں۔

اسرائیلی الزامات کے بعد امریکا نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے 12 ملازمین زیر تفتیش ہیں، اس لیے وہ ادارے کی فنڈنگ معطل کر رہا ہے، اس کے بعد آسٹریلیا اور کینیڈا نے فنڈنگ معطل کی، اب ہفتے کو برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور فِن لینڈ نے بھی امداد معطل کر دی ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے چند گھنٹے قبل اسرائیل ایئر لائن کا جنوبی افریقہ کے خلاف متعصبانہ قدم

واضح رہے کہ غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے میں 13 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں، یہ اس جاری انسانی تباہی کے دوران غزہ کی آبادی کو مدد فراہم کرنے والی ایک اہم تنظیم ہے، اور اس علاقے کے 23 لاکھ میں سے دو لاکھ افراد اپنی بقا کے لیے اس ادارے پر انحصار کرتے ہیں۔

فلیپ لازرینی نے بہت دکھ سے خبردار کیا ہے کہ غزہ والوں کے لیے یہ لائف لائن اب کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔

Comments




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button