fbpx
خبریں

یوکرین: ہزار سال پرانی قبر دریافت، مردوں کی گردن میں کڑے اور پیروں پر بالٹیاں

یوکرین میں ایک ہزار سال قدیم قبرستان دریافت ہوا ہے، جہاں موجود ڈھانچوں کی گردنوں کے گرد کڑے اور پیروں پر بالٹیاں رکھی ہوئی ہیں۔

دارالحکومت کیئف کے قریب سے ملنے والی ہڈیوں کے ساتھ کلہاڑیاں، تلواریں، نیزے، زیورات اور مرغی کی ہڈیاں بھی پائی گئیں، خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پیگن کی اجتماعی قبر ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق ماہرینِ آثار قدیمہ کو پتھر کی ایک قربان گاہ کے ساتھ ساتھ بریسلیٹ، موتی اور انڈوں کے خول جیسی باقیات بھی ملی ہیں۔

ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون کے ڈھانچے کی گردن اور کلائیوں کے گرد کڑے لگے ہوئی ہیں۔ محققین کے بقول ہوسکتا ہے اس کا استعمال مردے کی جنس میں فرق کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب اس قبرستان میں مردے دفنائے جاتے تھے، یوکرین میں لوگ مسیحیت قبول کر رہے تھے۔ اس میں عظیم وولودی میر بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے عقائد اور روایات چھوڑ کر 987 کے آس پاس بپتسمہ لیا۔

اس پراجیکٹ کی قیادت کرنے والے محققین ویسوولود ایواکین اور ویاچیسلاو بارانوف کا کہنا ہے: ’اوسٹریو میں پائے جانے والے ہتھیار کیون رس (Kyivan Rus) اور شمال مشرقی یورپ میں زیادہ عام ہیں۔

’دیگر اشیا، جیساکہ مردوں کی دو اوسٹریو قبروں کی بالٹیاں، 11 ویں صدی میں پروشیا میں فوجی اشرافیہ کے پومیرانیائی اور ماسوویائی قبرستانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔‘

محققین نے 2017 اور 2022 کے درمیان اس قبرستان کی کھدائی کی۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے سائنس لائیو کو بتایا کہ یوکرین پر جاری روسی حملے نے یوکرین میں بہت سی کھدائیوں کو روک دیا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے یونان میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے سونے اور زیورات سے بھرے 2000 سال پرانے مندر کا سراغ لگایا تھا۔ یونانی جزیرے ایویا میں کھدائی کے بعد سونے، چاندی اور امبر سے بھری ہوئی یہ جگہ دریافت ہوئی۔

ساتویں صدی قبل مسیح کی اس 100 فٹ اونچی عمارت کو 2023 میں 50 محققین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا تھا۔

یونان کی وزارت ثقافت کے بقول قدیم مندر کی کھدائی سے کورنتھین الابسٹر، اٹاری کے گلدان، مقامی طور پر تیار کردہ رسموں میں استعمال ہونے والے جگ اور سونے، چاندی اور مرجان جیسے قیمتی مواد سے بنے زیورات بھی ملے ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button