fbpx
خبریں

گلگلت بلتستان: گندم پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیکن ’دھرنا جاری‘

پاکستان کے زیر انتظام گلگلت بلتستان میں تقریباً ایک مہینے سے جاری دھرنے کے منتظمین نے حکومت کی جانب سے گندم کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے باوجود دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

گلگلت بلتستان کی مختلف شہری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی نمائندہ ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے زیر انتظام اس دھرنے میں دیگر چھوٹے گروپ بھی شامل ہیں جو دیگر مطالبات کے ساتھ گندم کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے پر زور دے رہی تھے۔

دھرنا گلگلت شہر میں ہو رہا ہے جس میں نگر، غذر اور گلگلت بلتستان کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں مظاہرین شریک ہیں۔ 

گذشتہ روز عوامی ایکشن کمیٹی سمیت دیگر تنظیموں نے گلگلت بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرتے ہوئے 15 مطالبات رکھے۔

دھرنا منتظمین اور حکومت کے مابین مذاکرات کے بعد حکومت نے گندم پر سبسڈی ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔

گلگلت بلتستان کے محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر شمس الرحمان نے بتایا کہ مظاہرین کا ایک بڑا مطالبہ گندم پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینا تھا جو پورا کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’پچھلے سال دسمبر میں گندم پر سبسڈی ختم کرنے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن گذشتہ رات دھرنا منتظمین کے ساتھ مذاکرات کے بعد واپس لے لیا گیا اور امید ہے کہ دھرنا منتظمین اب دھرنا ختم کریں گے۔‘

شمس الرحمان کے مطابق مظاہرین کے بعض مطالبات گلگلت حکومت کا مینڈیٹ نہیں مثلاً یہ مطالبہ کہ گلگت میں باقاعدہ قانون ساز اسمبلی قائم کی جائے۔

نوٹیفیکیشن واپس لیے جانے کے باوجود مظاہرین کا دھرنا جاری ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگلت کے کوآرڈینیٹر فدا حسین نے بتایا کہ ان کی کور کمیٹی میٹنگ کے بعد فیصلہ کرے گی کہ دھرنا ختم کیا جائے یا نہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے دیگر مطالبات حل طلب ہیں اور صرف گنڈم سبسڈی کے حوالے سے ہمارا مطالبہ نہیں تھا۔ ہم تمام مظاہرین کی رائے کو دیکھ کر دھرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے لیکن دھرنا ابھی جاری رہے گا۔‘

انہوں  نے بتایا کہ گندم پر سبسڈی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن کی واپسی مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک شرط تھی اور اب ہماری کور کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ 

دھرنا منتظمین کے 15 مطالبات کیا ہیں؟

1: گندم سبسڈی واپس لینا، اور حکومت سے فی کس ماہانہ نو کلو گرام آٹا دینے کا مطالبہ۔ 

2:گلگلت بلتستان میں نافذ گلگلت فنانس ایکٹ ختم کیا جائے جس کے تحت علاقے میں مختلف ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔

3:گلگلت بلتستان میں بجلی کا مصنوعی بحران ختم کر کے بجلی کی پیدوار میں اضافہ کیا جائے۔ 

4:گلگلت بلتستان حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ نیشنل فنانس کمیشن(این ایف سی) کی طرح کا معاہدہ کرے اور گلگلت کا مالیاتی پیکج حاصل کرے۔ 

5:گلگلت بلتستان ریفارمز بل کے ذریعے تمام غیر آباد اور بنجر زمین کو 100 فیصد عوامی ملکیت قرار دیا جائے۔ 

6:گلگت بلستان اسمبلی کی بجائے آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ 

7:دیامر بھاشا ڈیم کی 80 فیصد رائلٹی گلگلت کو  دیتے ہوئے مفت بجلی فراہم کی جائے۔ 

8:غیر مقامی افراد کو مائننگ لیز منسوخ کر کے مقامی افراد کو ٹھیکہ دیا جائے۔ 

9:گلگلت بلتستان میں سیاحت سے وابستہ ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ 

10:سیاحت کے فروغ کے لیے شونٹر ٹنل کو جلد از جلد بنایا جائے۔ 

11 اور 12:گلگلت بلتستان میں میڈیکل اور انجینیئرنگ کالج کا قیام عمل میں لایا جائے اور خواتین کے لیے خواتین یونیورسٹی بنائی جائے۔ 

13:گلگلت بلتستان کی قدیم شاہراہوں اور راستوں کو بحال کیا جائے۔ 

14:پی ایس ڈی پی کے ترقیاتی منصوبوں میں مقامی ٹھیکہ داروں کو ٹھیکے دے کر غربت کا خاتمہ کیا جائے۔ 

15:گندم سپلائی کے ٹھیکے کے ادارے نیٹکو کو دیگر اداروں کے خسارے سے نکالا جائے۔ 

گلگلت بلتستان کو گندم سبسڈی کیوں ملتی ہے؟

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو مالی سال 2022-23 میں گندم پر چار ارب روپے کی سبسڈی دی جو ملک میں مہنگائی اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر ساڑھے نو ارب ہو گئی۔

تاہم اس سے علاقے میں گندم کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی اور رواں سال گلگت بلتستان حکومت نے ترقیاتی کاموں سے مزید دو ارب نکال کر گندم سبسڈی کی مد میں دیے۔

 

گلگت بلتستان کو گندم کی مد میں سبسڈی 1972 میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوئی تھی۔

 

یہ سبسڈی گلگلت کا دیگر پاکستان سے سفری مشکلات اور ٹرانسپورٹ پر زیادہ خرچہ آنے کی وجہ دی گئی تھی تاکہ دیگر پاکستان کی طرح گلگت کے لوگوں کو بھی گندم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے میں ملک میں مہنگائی کی وجہ سے یہ سبسڈی پچھلے مالی سال کے مقابلے میں دگنی سے بھی بڑھ گئی ہے اور موجودہ مارکیٹ کے حساب سے دیگر شہروں کے مقابلے میں گلگت بلتستان میں گندم کی قیمتیں تقریباً پانچ گنا سستی ہے۔

آج کل دیگر صوبوں میں آٹے کے 40 کلو گرام تھیلے کی قیمت تقریباً چھ ہزار روپے ہے اور یہی تھیلا گلگلت بلتستان میں تقریباً 1100 روپے میں ملتا ہے۔

 

اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کو گندم کی قیمتوں میں دیگر شہروں کے مقابلے میں اتنا زیادہ فرق کو کم کرنے کو کہا۔

 

سبسڈی کیوں ختم ہوئی؟

گلگلت بلتستان کی حکومت نے تین مہینے پہلے اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں گندم پر سبسڈی سرکاری گریڈ 17 ملازم اور اس سے اوپر کے ملازمین کے لیے ختم کی جا رہی ہے ۔

 

اسی طرح گلگلت بلتستان کابینہ کے فیصلے کے روشنی میں فی کلو آٹے کی قیمت 20 روپے سے بڑھا کر سبسڈائزڈ قیت فی کلو 52 روپے کر دی گئی یعنی اب 40 کلو کا تھیلہ 2080 روپے میں ملے گا جبکہ یہی تھیلہ دیگر شہروں میں پانچ سے چھ ہزار روپے کا ملتا ہے۔

 

گلگت بلتستان کے محکمہ فوڈ کے ڈائریکٹر اکرام محمد نے سبسڈی ختم ہونے کے بعد گذشتہ سال نومبر میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا: ’گندم کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا کیونکہ حکومتی خزانے پر بہت بڑا معاشی بوجھ پڑ رہا ہے۔‘

 

انہوں نے بتایا تھا کہ درآمدی گندم کی فی کلو مارکیٹ قیمت 166 روپے ہے جب کہ گلگت میں یہ 20 روپے پر ملتی تھی جبکہ مقامی گندم کی قیمت فی کلو 125 روپے ہے۔

 

’ہم نے سبسڈی ختم نہیں کی لیکن مہنگائی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جبک ہ اب بھی دیگر شہروں کے مقابلے میں یہ کم قیمت ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button