fbpx
خبریں

گاجر کا جوس کینسر کے مریض کیلئے کیا اثر رکھتا ہے؟

موسم سرما میں گاجریں بازار میں عام دستیاب ہیں اور اگر اس موسم میں گاجر کھانے فوائد آپ جان لیں تو آپ یومیہ بنیادوں پر اسے خرید کر لے آئیں گے۔

گاجر نہ صرف حلوہ، گجریلا بلکہ سلاد اور سالن کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے، اس کے استعمال کا ایک اور طریقہ اس کا جوس پینا بھی ہے۔

قدرت نے بینائی دور کرنے والی اس انمول سبزی میں بے شمار فائدے رکھے ہیں، گاجر وٹامنز، غذائی فائبر اور اینٹی آکسیڈینٹ کی خوبیوں کی حامل سبزی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گاجر کا جوس دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ مل کر ان کا ذائقہ اور افادیت بڑھا دیتا ہے۔ گاجر کے جوس کے فوائد سے پہلے یہ جان لیجئے کہ اس میں کون سے اہم غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایک کپ گاجر کے جوس میں 94 کلو کیلوریز غذائیت ہوتی ہے، جس میں سے 2.24 گرام پروٹین، 0.35 گرام چکنائی، 21.90 گرام کاربوہائیڈریٹس، 1.90 گرام فائبر، 689 ملی گرام پوٹاشیم، 20 ملی گرام وٹامن سی، 0.217 ملی گرام تھایامین، 0.512 ملی گرام وٹامن بی 6، 2,256 مائیکروگرام وٹامن اے، 36.6 مائیکروگرام وٹامن کے علاوہ دیگر اجزا پائے جاتے ہیں۔

گاجر کا جوس غذائیت سے بھرپور تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ کئی خوفناک امراض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل سطور میں بیان کی جارہی ہے۔

معدے کا کینسر

گاجر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جن کی سرطان روکنے کی صلاحیت سے سب واقف ہیں، ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ گاجر کا جوس معدے کے کینسر کو دور رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اگر مسلسل گاجریں کھائی جائیں تو معدے کے سرطان کے امکانات 26 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔

لیوکیمیا کا تدارک

ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ گاجر کا رس لیوکیما کے خلیات (سیلز) کو ختم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ بسا اوقات گاجر کا جوس لیوکیما کے خلیات کو ازخود تباہ کردیتا ہے اور ان کے پھیلاؤ کو روکتا ہے البتہ اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لیوکیمیا خون اور ہڈی کے گودے میں ہونے والا ایک کینسر ہے، یہ بچوں اور نوعمروں میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے، لیوکیمیا ہڈی کے گودے کے صحیح طور پر کام نہ کرنے سے ہوتا ہے۔

چھاتی کے سرطان سے بچائے

گاجروں میں کیروٹینوئیڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو چھاتی کے کینسر کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکتی ہے، اس کے علاوہ سائنسدان پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی، بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔

اس کےلیے ایک چھوٹا سا مطالعہ کیا گیا کہ خواتین کو تین ہفتوں تک روزانہ 8 اونس گاجر کا جوس پلایا گیا۔ اس کے بعد جب ان خواتین کے خون کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کے خون میں کیروٹینوئیڈز کی مقدار زیادہ تھی جب کہ آکسیڈیٹیو اسٹریس کی علامات کم تھیں جو کینسر کی وجہ بن سکتی ہیں۔

سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مفید

گاجر کا جوس وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے اور یہ سانس کے ایک مرض کرونک اوبسٹرکٹیو پلمونری ڈیزیز(سی او پی ڈی) کی شدت کم کرتا ہے۔ اس ضمن میں کوریا میں 40 سال سے زائد عمر کے افراد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں سی او پی ڈی کا مرض تھا وہ کیروٹین سمیت پوٹاشیم، وٹامن اے اور وٹامن سی کا استعمال کم کررہے تھے اور ان میں سے سگریٹ پینے والے وہ افراد جو وٹامن سی کی مناسب مقدار کھارہے تھے ان میں سی او پی ڈی کا مرض بہت کم تھا۔

دیگر فوائد

گاجروں میں موجود وٹامن اے آنکھوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس میں موجود ریشے (فائبر) خون میں کولیسٹرول کم کرتے ہیں اور وزن کو بھی قابو میں رکھتے ہیں۔

 

Comments




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button