fbpx
خبریں

چاروں صوبائی اسمبلیوں کی بڑی جیت اور بڑی شکستیں

پاکستان میں عام انتخابات 2024 کے دوران صوبائی اسمبلیوں کی تقریباً تمام نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں اور تاحال چند ہی حلقے ہیں جہاں کے نتائج باقی ہیں۔

عام انتخابات 2024 میں تمام ہی بڑی جماعتوں کے اہم رہنما اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تاہم کچھ سیاسی رہنماؤں کو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم انہی فتوحات اور شکستوں کا جائزہ لیں گے۔

صوبائی اسمبلی پنجاب

پی پی 158 سے پاکستان کے سابق وزیراعظم، پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف 38 ہزار 642 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

میاں شہباز شریف اس کے ساتھ اپنی قومی اسمبلی کے لیے لاہور اور قصور کے دو حلقوں سے بھی جیت چکے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی نشست جیتنے کے ساتھ ساتھ لاہور کے صوبائی اسمبلی کے حلقے این اے 159 سے 23 ہزار پانچ سو 98 ووٹ لے کر یہ نشست بھی جیت لی۔

پی پی 147 سے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز 83 ہزار سے زائد ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔

حمزہ شہباز شریف قومی اسمبلی کی نشست بھی لاہور سے جیتے ہیں۔ وہ گذشتہ انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیتے تھے، جس کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد حمزہ شہباز صوبے کے وزیراعلیٰ کے طور پر چند دن کے لیے منتخب ہوئے، جس کے بعد عدالت نے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

پی پی 184 قصور سے سابق سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان 41 ہزار 270 ووٹ لے کر پانچویں مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

 رانا قبال 2008 سے 2018 تک دو اسمبلیوں کے سپیکر رہ چکے ہیں اور متعدد بار قائم مقام گورنر پنجاب کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی نشست جیتنے والے نمایاں امیدواروں میں پی پی 139 شیخوپورہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا تنویر حسین نے 35659 ووٹ لے کر فتح حاصل کی۔

رانا تنویر مسلم لیگ ن کے ہی ٹکٹ سے قومی اسمبلی کا انتخاب جیتے ہیں اور گذشتہ تین انتخابات میں مسلسل یہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اورمسلم لیگ ن کے ادوار میں دو مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔

پی پی 154 سے پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ سلمان رفیق 35 ہزار 232 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کی نشست جیت گئے۔

 خواجہ سلمان رفیق مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور صابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے چھوٹے بھائی ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق چوتھی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ یہ 2013 سے 2018 تک میاں شہباز شریف کی صوبائی کابینہ میں وزیر بھی رہے ہیں۔

محمد احمد چٹھہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے تھے، انہوں نے پی پی 36 وزیر آباد سے 87 ہزار 549 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

محمد احمد چٹھہ پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے سینیئر نائب صدر تھے اور وزیر آباد میں عمران خان پر ہونے والے حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے۔

محمد احمد چٹھہ پاکستان کے سینیئر سیاست دان سابق وفاقی وزیر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے بھی ہیں۔

پی ٹی آئی کی ہی آزاد امیدوار آشفہ ریاض فتیانہ پی پی 123 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 51 ہزار 219 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔

آشفہ ریاض فتیانہ پہلی مرتبہ 2002 میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اس وقت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ کا حصہ تھیں۔

2018 کے عام انتخابات میں انہوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتا اور عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل ہوئیں۔

پی پی 171 لاہور سے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار میاں محمد اسلم اقبال 61 ہزار 847 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

میاں اسلم اقبال چوتھی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی بنیں گے جبکہ وہ پہلی مرتبہ 2002 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزیر بنے۔

گذشتہ دور حکومت میں بھی اسلم اقبال پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز رہے۔

پی پی 32 گجرات سے پاکستان مسلم لیگ ق کے چوہدری سالک حسین 55 ہزار 615 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور وہ گجرات سے ہی قومی اسمبلی کی نشست بھی جیت چکے ہیں۔

چوہدری سالک حسین، چوہدری شجاعت حسین کے بڑے صاحبزادے ہیں اور اس سے پہلے بھی 2018 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

چوہدری سالک حسین نے صوبائی حلقے میں اپنے ماموں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو 10 ہزار 902 ووٹوں سے شکست دی۔

 چوہدری شجاعت حسین کے دوسرے صاحبزادے چوہدری شافع حسین پی پی 31 گجرات سے 64 ہزار 132 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ چوہدری شافع پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی بنیں گے۔

ملتان سے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 213 سے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید علی حیدر گیلانی 42 ہزار 404 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین (پی پی پی پی) سے ہے۔

علی حیدر 2018 کے عام انتخابات میں پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2013 کے انتخابات میں پولنگ والے دن دہشت گرد انہیں ملتان سے اغوا کر کے افغانستان لے گئے جہاں سے وہ تقریباً دو برس کے بعد رہا ہوئے۔

لاہور کے حلقے پی پی 149 سے استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان 51 ہزار 756 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

علیم خان 2002 میں پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اس وقت وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی کابینہ میں بھی شامل رہے۔

ان کا شمار پی ٹی آئی کے صفحہ اول کے رہنماؤں میں ہوتا تھا لیکن پھر انہوں نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر کے جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر استحکام پاکستان پارٹی تشکیل کر لی۔

علیم خان پراپرٹی ٹائیکون کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن حال میں ہی انہوں نے ایک بڑا نیوز چینل بھی خریدا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے بڑے اپ سیٹ کی بات کریں تو اس میں سب سے بڑا اپ سیٹ چوہدری پرویز الٰہی کی شکست ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی گجرات کے حلقے پی پی 32 سے اپنے بھانجے سالک حسین سے شکست کھا گئے۔

چوہدری پرویز الٰہی اس وقت جیل میں ہیں اور انہیں عدالتی حکم پر پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔

پرویز الٰہی دو مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب، دو مرتبہ سپیکر پنجاب اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے 2008 سے 2013 کے دورِ حکومت میں کچھ عرصے تک ڈپٹی وزیراعظم پاکستان رہ چکے ہیں۔

چوہدری پرویز الٰہی 1985 سے لے کر 2018 تک کوئی انتخاب نہیں ہارے اور یہ ان کی پہلی شکست ہے۔

دوسرا اپ سیٹ مسلم لیگ ن کے انعام اللہ خان نیازی کا ہے، جو میانوالی کے حلقے پی پی 87 سے یہ انتخاب ہار گئے۔

انعام اللہ خان نیازی کا شمار ایک وقت میں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

انعام اللہ خان نیازی تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے قریبی رشتے دار ہیں لیکن 1999 تک ان کا شمار میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوا کرتا تھا۔

انعام اللہ خان نیازی 2002 میں مسلم لیگ ن چھوڑ گئے اور اب دوبارہ مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑے لیکن ہار گئے۔

تیسرا اپ سیٹ مخدوم سید فیصل صالح حیات کا ہے۔ جھنگ کے حلقے پی پی 125 سے فیصل صالح حیات آزاد امیدوار سردار الحاج غلام احمد خان گاڈی سے شکست کھا گئے۔

فیصل صالح حیات کا شمار پاکستان کے سینیئر ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔

وہ پہلی مرتبہ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 2012 تک چھ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

فیصل صالح حیات مختلف ادوار میں وفاقی وزیر برائے داخلہ، کامرس، ماحولیات اور امورِ کشمیر رہے۔

انہوں نے کچھ ماہ قبل ہی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سندھ اسمبلی

لاڑکانہ کے حلقے پی ایس 10 سے پاکستان پیپلز پارٹی کی فریال تالپور 85 ہزار 917 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔

فریال تالپور پی پی پی کی ویمن ونگ کی صدر ہیں۔ یہ 2018 کے عام انتخاب میں بھی لاڑکانہ سے ہی رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔

اس سے پہلے 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں بھی فریال تالپور لاڑکانہ سے ہی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔

فریال تالپور 2001 اور 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں دو مرتبہ نوابشاہ کی ناظم منتخب ہوئیں۔

فریال تالپور سابق صدر پاکستان آصف زرداری کی بہن ہیں۔

شہید بے نظیر آباد کے حلقے پی ایس 36 سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی ڈاکٹر عذرا فضل 75 ہزار 866 ووٹ لے کر دوسری مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر عذرا فضل گذشتہ اسمبلی میں بھی اسی حلقے سے منتخب ہو کر آئیں اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کابینہ میں وزیر صحت کے طور پر خدمات سرانجام دیتی رہیں۔

اس سے پہلے وہ عام نشست پر تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں اور یہ بھی سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

جام شورو کے حلقے پی ایس 77 سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مراد علی شاہ 74 ہزار 613 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

مراد علی شاہ چوتھی مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور صوبائی وزیر کے طور پر سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی کابینہ میں مختلف وزارتوں کا قلم دان سنبھال چکے ہیں۔

جولائی 2016 میں جب وہ قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر خزانہ کے طور پر کام کر رہے تھے تو قائم علی شاہ کی صحت ناساز ہونے کی وجہ سے مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔

2018 کے عام انتخابات کے بعد وہ دوبارہ وزیراعلیٰ سندھ بن گئے۔

خیر پور کے حلقے پی ایس 26 سے سید قائم علی شاہ 63 ہزار 686 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

قائم علی شاہ تین مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

 پہلی مرتبہ وہ 1970 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جس کے بعد 1988 کے عام انتخابات میں وہ سندھ اسمبلی کی سیٹ جیتے اور پہلی مرتبہ سندھ  کے وزیراعلیٰ بنے۔ اس وقت سے لے کر 2008 تک وہ سندھ اسمبلی کے رکن رہے اور صرف 1997 کے عام انتخاب میں ہارے تھے۔

مجموعی طور پر وہ آٹھ میں سے سات انتخابات جیت چکے ہیں اور پاکستان کے سینیئر ترین سیاست دان کہلاتے ہیں۔

پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ ان کی صاحبزادی ہیں۔

شکار پور کے حلقے پی ایس 9 سے آغا سراج خان درانی 63 ہزار 760 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

آغا سراج خان درانی گذشتہ دورِ حکومت میں سپیکر سندھ اسمبلی تھے۔ وہ پہلی مرتبہ 1988 میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

ان کے والد آغا صدر الدین اور چچا آغا بدرالدین بھی سندھ اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں۔

سندھ میں اپ سیٹ کی بات کریں تو پی ایس 81 دادو سے سابق وزیراعلیٰ سندھ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے امیدوار لیاقت علی جتوئی پی پی پی کے فیاض علی سے شکست کھا گئے۔

لیاقت علی جتوئی قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی پی پی پی کے امیدوار سے شکست کھا چکے ہیں۔

لیاقت علی جتوئی 1997 سے لے کر 1998 تک نواز شریف کے دورِ حکومت میں وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر چکے ہیں اور یہ سابق وزیراعلیٰ سندھ اور سابق نگران وزیراعظم مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کے بھتیجے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ 1977 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

بلوچستان اسمبلی

پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے پی پی پی پی کے میرسرفراز بگٹی 52 ہزار 485 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔

سرفراز بگٹی ان انتخابات سے پہلے نگران وفاقی وزیر داخلہ اور سینٹ کے رکن تھے۔

انتخابات سے پہلے انہوں نے سینیٹ اور وزارت سے استعفیٰ دے کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولت اختیار کی اور اس حلقے سے کامیاب قرار پائے۔

2013 کے انتخابات میں انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتا اور مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی اور بلوچستان کے وزیر داخلہ کے طور پر کام کرتے رہے۔

پی بی 18 خضدار سے پی پی پی پی کے سردار ثنا اللہ زہری 20 ہزار 14 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

سردار ثنا اللہ زہری 2015 سے 2018 تک بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر بھی تھے۔

ثنا اللہ 1988 سے اب تک مسلسل رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر پی پی پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پی بی 37 مستونگ سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر 13 ہزار 668 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

نواب اسلم رئیسانی پیپلز پارٹی کے دور میں 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے جبکہ 2021 میں انہوں نے اپنی راہیں پیپلز پارٹی سے جدا کر لیں۔

نواب اسلم رئیسانی معروف سیاست دان نواب لشکر رئیسانی کے بڑے بھائی ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی سراج رئیسانی 2018 کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ایک خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔

پی بی 22 لسبیلہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے جام کمال خان 38 ہزار 562 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

جام کمال 2018 سے 2021 تک وزیراعلیٰ بلوچستان بھی رہ چکے ہیں اور ان کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا، جسے چھوڑ کر وہ مسلم لیگ ن میں چلے گئے۔

2013 میں وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کے طور پر کام کیا۔

پی بی 20 خضدار سے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے چیئرمین اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل 28 ہزار 97 ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے۔

ان انتخابات میں اختر مینگل صوبائی سیٹ جیتنے کے علاوہ قومی اسمبلی کی سیٹ بھی جیت چکے ہیں۔

اختر مینگل 1997 سے 1998 تک وزیراعلیٰ بلوچستان کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں جبکہ 2018 میں وہ خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ سردار عطا اللہ مینگل کے صاحبزادے ہیں۔

پی بی 32 چاغی سے سابق چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی 19 ہزار 91 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کی نشست جیت گئے۔ ان کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

صادق سنجرانی 2018 میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے جس کے فوری بعد وہ چیئرمین سینٹ بھی بن گئے۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی لیکن ناکام ہو گئی۔

انتخاب سے پہلے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تاکہ وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بن سکیں۔

بلوچستان میں ہونے والے اپ سیٹ میں پی بی 23 آواران سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجوجو کہ پی پی پی کے امیدوار تھے، نیشنل پارٹی کے خیر جان سے شکست کھا گئے۔

عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 2021 سے 2023 تک کام کیا اس سے پہلے 2018 سے 2021 تک وہ سپیکر بلوچستان اسمبلی بھی رہے۔

2013 سے 2015 تک وہ ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی فرائض انجام دیتے رہے۔

عبدالقدوس بزنجو 2002 کے بعد پہلی مرتبہ انتخاب ہارے ہیں۔

خیبر پختونخوا

پی کے 45 ایبٹ آباد سے آزاد امیدوار اور سابق سپیکر خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی مشتاق احمد غنی 50 ہزار 143 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

مشتاق احمد غنی 2018 سے 2023 تک سپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔

وہ پہلی مرتبہ 2002 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور اس کے بعد 2013 میں تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر دوبارہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

2008 کے انتخابات میں وہ مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے لیکن وہ ہار گئے۔ 2014 میں وہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی کابینہ کا حصہ بھی تھے۔

پی کے 46 ہری پور سے آزاد امیدوار اکبر ایوب خان 68 ہزار 835 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

اکبر ایوب خان سابق صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے پوتے ہیں اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کے کزن ہیں۔

پہلی مرتبہ 2014 میں اکبر ایوب خان ہری پور سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، 2018 کے انتخابات میں وہ دوبارہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی کابینہ میں مختلف وزارتوں پر کام کرتے رہے۔

پی کے 47 ہری پور سے ارشد ایوب خان 73 ہزار 38 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔

ارشد ایوب خان بھی فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے پوتے اوراکبر ایوب خان کے بھائی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پہلی مرتبہ 2018 میں رکن صوبائی اسمبلی بنے اور صوبائی وزیر آب پاشی کے طور پر 2023 تک کام کرتے رہے۔

پی کے 102 بنوں سے جمعیت علمائے اسلام کے اکرم خان درانی 39 ہزار 61 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔

اکرم خان درانی 2002 سے 2007 تک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہ چکے ہیں اور متعدد بار قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوتے رہے ہیں۔

2013 سے 2017 تک اکرم خان درانی نواز شریف کی کابینہ کا حصہ بھی رہے ہیں۔ اکرم خان درانی پر ماضی میں دو خود کش حملے ہوئے جس میں وہ محفوظ رہے۔

خیبرپختونخوا کے بڑے اپ سیٹ کی بات کریں تو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین پی کے 89 نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے میں ناکام رہے۔

میاں افتخار حسین تین مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں اور ان کا شماراے این پی کی سینیئر قیادت میں ہوتا ہے۔

2010 میں ایک دہشت گردی کے واقعے میں انتہا پسندوں نے ان کے اکلوتے بیٹے کی جان لے لی تھی۔

پی کے 87 نوشہرہ سے پی ٹی آئی پارلیمینٹیرین کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک آزاد امیدوار خلیق الرحمان سے ہار گئے۔

پرویزخٹک صوبائی اسمبلی کی دوسری سیٹ پی کے 88 نو شہرہ پر آزاد امیدوار میاں محمد عمر سے بھی شکست کھا گئے جبکہ کے پی سے ہی وہ قومی اسمبلی نشست پر بھی ناکام رہے۔

پرویز خٹک 2013 سے 2018 تک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہے ہیں جبکہ 2018 سے 2022 تک وہ وفاقی وزیر دفاع رہے۔

پرویز خٹک کے بیٹے ابراہیم خٹک بھی پی کے 85 سے ہار گے جبکہ ان کے دوسرے بیٹے اسماعیل خٹک کو آزاد امیدوار محمد ادریس نے پی کے 86 میں شکست دی۔

اسی طرح پرویز خٹک کے داماد اور سابق رکن قومی اسمبلی عمران خٹک کو بھی پی کے 89 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پی کے 79 پشاور سے سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کو مسلم لیگ ن کے امیدوار جلال خان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

تیمور سلیم جھگڑا 2018 سے 2023 تک خیبرپختونخوا کابینہ میں وزیر خزانہ رہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button