fbpx
خبریں

پی سی بی کے چیئرمین کا انتخاب جمہوریت سے عاری کیوں؟

پاکستان میں چند دنوں بعد عام انتخابات ہو رہے ہیں جن کی شفافیت اور آزادانہ ہونے پر کئی سوالات ہیں لیکن اس کی گہماگہمی کی آڑ میں خاموشی کے ساتھ ایک اور اہم انتخاب بھی آج ہو رہا ہے۔

اس انتخاب کے لیے بھی ایک قانونی ماہر کو کچھ دنوں کے لیے اس ادارے کا نگران سربراہ مقرر کیا گیا ہے، یعنی جتنی آسائشیں اور فوائد کسی منتخب چیئرمین کو حاصل ہونا ہیں وہ اب نگران اور ان الیکشن کمشنر صاحب کو بھی حاصل رہیں گے۔

میں بات پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے الیکشن کی کر رہا ہوں جو آج لاہور میں ہوں گے اور ایک نامزد بورڈ آف گورنرز شو آف ہینڈز کے ذریعے دو نامزد افراد میں سے ایک کو صرف اپنا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی ہر قسم کی کرکٹ کا منتظم منتخب کرے گا۔

پی سی بی

پی سی بی کا قیام 1949 میں لاہور جم خانہ میں عمل میں آیا تھا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اس کے پہلے سرپرست اور نواب افتخار حسین ممدوٹ پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 31 افراد سربراہی سنبھال چکے ہیں تاہم ان میں سے تین اشخاص ایک ایسی کمیٹی کے چیئرمین ہیں جن کا کام انتخاب کرانا تھا لیکن نجم سیٹھی اور ذکا اشرف نے اپنی حکومت تو قائم کی لیکن انتخابات نہیں ہونے دیئے۔

اب موجودہ عارضی سربراہ شاہ خاور ایڈووکیٹ الیکشن کمشنر ہیں اور بورڈ کے سربراہ بھی حالانکہ ان کا کسی نچلے درجے کے کلب  کا بھی تجربہ نہیں ہے۔

پی سی بی میں حکومتی مداخلت روز اول سے ہے لیکن سب سے پہلے ایوب خان نے کی جب وہ خود ہی نائب صدر اور پھر کچھ دنوں بعد صدر بھی بن گئے۔ یہ ایک تلخ مثال تھی جسے پھر ضیا الحق نے دوہرایا اور چودھری محمد حسین کو معزول کر کے جنرل کے ایم اظہر کو چیئرمین بنادیا۔

یہی طریقہ کار پرویز مشرف نے بھی کیا اور جنرل توقیر ضیا کو چیئرمین مقرر کر دیا۔ 

تاہم کے ایم اظہر اور توقیر ضیا نے ملک میں کرکٹ کی ترقی کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے۔ اور ان کے دور میں قومی ٹیم نے کئی کامیابیاں حاصل کی۔

چیئرمین کے انتخاب کا طریقہ کار

 

پی سی بی کی نگران وزارت صوبائی رابطہ نے دسمبر 2022 میں ایک ایگزیکیٹیو آرڈر کے تحت ایک منتخب سربراہ رمیز راجہ کو کسی وجہ کے بغیر برطرف کرکے تاریخی مثال قائم کی تھی اور ایک کمیٹی تشکیل دی جو 2018 کے کالعدم دستور کو نافذ کرکے 2014 کے دستور کے تحت نئے انتخابات کرائے۔

 2014 دستور کی شق 7 کے مطابق چیئرمین کا انتخاب ایک بورڈ آف گورنرز کرے گا۔  بورڈ آف گورنرز گیارہ ارکان پر مشتمل ہوگا جن میں دو ارکان پی سی بی کے سرپرست وزیراعظم پاکستان نامزد کریں گے جبکہ آٹھ ارکان میں چار ریجنل ایسوسی ایشن کے نمائندے اور چار ڈپارٹمنٹس کے نمائندے ہوں گے۔

آئین کی شق 10 ای کے مطابق قائد اعظم ٹرافی میں جو چار ٹیمیں سرفہرست ہوں گی ان کے نمائندے ہوں گے اور پریذیڈنٹ ٹرافی میں چار سرفہرست ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ گیارھویں نمائندے فیڈرل سیکریٹری وزارت صوبائی رابطہ ہوں گے مگر ان کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

حکومت وقت نے اس آئینی شق کو نظرانداز کرتے ہوئے لاڑکانہ، ڈیرہ مراد جمالی، بہاولپور اور کشمیر کے ریجنل صدور بورڈ کے ارکان کو نامزد کر دیا حالانکہ قائداعظم ٹرافی میں کراچی چیمپئین تھی۔

اسی طرح ایک نوزائیدہ ٹیم غنی گلاس کے نمائندے کو بھی بورڈ میں شامل کیاگیا جس کا تجربہ اتنا ہی ہے جتنا الیکشن کمشنر کا۔ ان کے ساتھ پی ٹی وی، ایس این جی پی ایل اور سٹیٹ بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

 

وزیراعظم نے اپنی جانب سے پنجاب کے نگران وزیراعلی سید محسن نقوی اور وکیل مصطفی رمدے کو نامزد کیا ہے۔ دونوں کا کرکٹ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایک انگلش کے استاد کا فزکس سے ہوسکتا ہے۔

نئے چیئرمین کا الیکشن سے پہلے اعلان

حکومتی حلقوں کے مطابق قوی امکان ہے کہ محسن نقوی کو چیئرمین منتخب کر لیا جائے گا اور وہ نو فروری کے بعد صدارت سنبھالیں گے۔ محسن نقوی ایک ٹی وی چینل کے مالک اور فعال شخصیت ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن مصطفی رمدے کی نامزدگی حیران کن ہے کیونکہ ان کا کرکٹ یا تنظیمی تجربہ صفر ہے۔ ان کے رکن بننے سے یقینی طور پر کسی مستند رکن کی حق تلفی ہوئی ہے جس کی زندگی کرکٹ میں گزر گئی ہو۔  

اگرچہ بورڈ آف گورنرز کا انتخاب غیر جمہوری اور غیرآئینی طریقے سے ہوا ہے لیکن اس غیر جمہوری میں بھی پسند ناپسند کا خیال رکھا گیا ہے۔ جن ریجنز کو نمائندگی دی گئی ہے ان کی حالت دگرگوں ہے۔ لاڑکانہ اور ڈیرہ مراد جمالی میں کوئی بہتر گراؤنڈ ہے اور نہ سہولیات۔ کشمیر میں کوئی کرکٹ انفرا اسٹرکچر نہیں ہے۔

کسی بھی ریجن نے کلبز کی رجسٹریشن درست کی ہے اور نہ ان کا کوئی ریکارڈ ہے۔ بہتر ہوتا ان میں کراچی اور لاہور کو ترجیح دی جاتی جو کرکٹ کی اصل نرسری ہیں اور بورڈ میں ان کے شامل ہونے سے ایک مستند اور مصروف آواز میسر آتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی ریجن کے صدر ندیم عمر انتہائی فعال اور کراچی کرکٹ کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کی جگہ ایک ایسے شخص کو بورڈ میں شامل کرنا قومی جرم ہے جس کی کرکٹ سروسز بہت معمولی ہیں۔

اگر انتخاب سے پہلے ہی حکومت چیئرمین کا اعلان کردے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟

منگل کو ہونے والے انتخاب کی شفافیت اس کے انعقاد سے قبل ہی مشکوک ہوچکی ہے۔ اور ایک کمزور بورڈ کے انتخاب سے ان عناصر کو مزید مداخلت کا موقع ملے گا جو گذشتہ پانچ سال سے ہر سیٹ اپ میں شامل ہوتے ہیں اور مبینہ طور پر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔

ان عناصر کی اہلیت کی مثال یہ ہے کہ پی ایس ایل کے میڈیا رائٹس اونے پونے داموں پر فروخت کیے گئے ہیں۔ جس میں بھی بہت سی بےضابطگیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ پر نامکمل توجہ اور بدترین انتظامات پر میڈیا نے بہت تنقید کی ہے۔

قائد اعظم ٹرافی جیسے اہم ٹورنامنٹ میں میڈیا کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اور پریزیڈنٹ ٹرافی کے فائنل کو ایک نچلے درجے کی فرنچائز لیگ کے لیے موخر کردیا گیا جس سے پی سی بی کی ڈومیسٹک کرکٹ سے عدم دلچسپی واضح ہے۔

چیئرمین کی تنخواہ اور مراعات

پی سی بی کی ویب سائٹ کے مطابق 2014 سے اب تک کسی بھی چیئرمین کو ماہانہ تنخواہ کی مد میں کوئی ادائیگی نہیں کی گئی لیکن ان کو دی جانے والی مراعات اور اخراجات کی تفصیل درج ہے۔ اگر ان اخراجات کا جائزہ لیں تو شاہانہ نظر آتے ہیں۔

ان کے تمام تر اخراجات بورڈ کے ذمہ ہوتے ہیں اور انہیں کسی بھی اجلاس یا بیرونی دورے کے لیے ڈیلی الاؤنس کے ساتھ زبردست مراعات دی جاتی ہیں۔ 2014 میں نجم سیٹھی نے سالانہ کروڑوں روپے کی مراعات حاصل کیں جن میں بلٹ پروف گاڑی، پرائیویٹ وہیکل الاؤنس، مفت ٹیلیفون اور ہزاروں لیٹر پٹرول شامل ہے۔

سابقہ چیئرمین شہریار خان کے زمانے سے اہلیہ کو بھی سرکاری خرچہ پر چیئرمین کے ساتھ بیرونی اور اندرون ملک کے دوروں کی سہولت دی گئی۔ ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے اہلیہ کے ساتھ مل کر اپنے تین سالہ دور میں تین کروڑ روپے سے زائد کی مراعات حاصل کیں۔

نجم سیٹھی نے 2016 سے 2018 تک اپنے دوسرے دور میں چار کروڑ روپے سے زائد اخراجات کیے جن میں ہر دورے میں اہلیہ اور سٹاف بھی ساتھ ساتھ رہا۔

2018 میں احسان مانی بھی پیچھے نہیں رہے۔ انۃوں نے زیادہ وقت تو انگلینڈ میں اپنے گھر پر گزارا لیکن وہ بھی مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چار کروڑ روپے خرچ کرگئے۔

جب 2021 میں سابق کپتان رمیز راجہ چیئرمین بنے تو انہوں نے نئی مثالیں قائم کی۔ انہوں نے کفایتی انداز میں خرچے کیے اور بورڈ کی آمدنی کھلاڑیوں اور کھیل کے لیے کا نعرہ لگایا۔ اپنے دور میں انہوں نے صرف 56 لاکھ روپے خرچ کیے۔ وہ پہلے چیئرمین تھے جن کی اہلیہ پر بورڈ کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا اور انہوں نے انٹرنیشنل دوروں پر کوئی ڈیلی الاؤنس نہیں لیا۔

ان کے بعد بورڈ اپنے عارضی سربراہان پر کتنے بھاری اخراجات کرچکا ہے اس کا ابھی گوشوارہ باقی ہے۔

اگر ان اخراجات کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی کسی امیر ترین ملک کا ادارہ ہے اور اس کے عوام میں دولت کی ریل پیل ہے۔ جس ملک کے 80 فیصد عوام کو صاف پانی اور مناسب رہائش میسر نہیں اس کے کرکٹ بورڈ کا چیئرمین پرتعیش زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے سٹاف کو ان کی اہلیت اور ان کے کام سے بہت زیادہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں۔

کیا محسن نقوی چیئرمین بن کر صرف پی سی بی کے لیے دستیاب ہوں گے اور بورڈ میں بےقاعدگیوں کا خاتمہ کریں گے؟ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت دے گا لیکن اگر محسن نقوی نے پی سی بی کی انتظامیہ کو تبدیل نہیں کیا تو ان کی خداداد صلاحیتیں بھی یہ بورڈ کھ اجائے گا جیسے اس سے قبل نجم سیٹھی اور رمیز راجہ جیسے متحرک اور فعال شخصیات بھی معتوب ہوئی ہیں۔ 

 نقوی کا پہلا امتحان سابق چیف سیلیکٹر انضمام الحق کے خلاف بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کا جاری کرناہوگا۔ جسے مخصوص مقاصد کے تحت سابق سربراہ ذکا اشرف نے جاری نہیں ہونے دیا تھا۔ اس سکینڈل نے ٹیم میں گروہ بندی اور پلئیر پاور کا انکشاف کیا تھا۔

کرکٹ ایک کھیل سے زیادہ ایک انڈسٹری بن چکا ہے۔  اور اگر اس سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے تو برا نہیں ہے لیکن ان گنت آمدنی کو کرکٹ اور کرکٹر کی بہبود کے لیے اگر درست اندازمیں خرچ کیا جائے تو اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button