fbpx
خبریں

پاکستان کی عدالتوں میں عدت کے دوران نکاح کے کتنے مقدمات آتے ہیں؟

پاکستان کی عدالتوں میں یوں تو نکاح و طلاق اور خلع سے متعلق مقدمات معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں لیکن طلاق کے بعد عدت کے دوران نکاح کے کیس عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتے۔

اگرچہ طلاق کے بعد خاتون کے لیے چار ماہ تک کا انتظار دوبارہ نکاح سے قبل شرعی طور پر لازم قرار دیا گیا ہے۔

فیملی معاملات سے متعلق کیسوں کی پیروی کرنے والے قانون دان فہدصدیقی ایڈووکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نکاح، طلاق یا خلع سے متعلق کیس تو ان کے پاس آتے رہتے ہیں لیکن عدت میں نکاح سے متعلق کبھی کیس سامنے نہیں آیا۔

ان کے مطابق ’اس کی وجہ یہ ہے کہ قانونی طور پر عدت میں نکاح کی ممانعت نہیں کیونکہ دو افراد کی ذاتی مرضی ہوتی ہے کہ جب چاہیں نکاح کر لیں مگر شرعی طور پر کیونکہ طلاق کے بعد خاتون کے لیے چار ماہ عدت پوری کرنا لازمی ہے تو غیر شرعی فعل کی صورت میں سزا ہو سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے فیملی مقدمات کی پیروی کرتے 15 سال ہو گئے ہیں مگر آج تک ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ کبھی نہیں سنا کہ کسی عدالت نے عدت میں نکاح کے باعث کسی مرد یا عورت کو سزا سنائی ہو۔

’مگر اس حوالے سے ہائی کورٹس کے فیصلے موجود ہیں جن میں عدت کے دوران نکاح کو غیر شرعی تو قرار دیا گیا مگر سزا تجویز نہیں کی گی۔ البتہ 496 کے تحت غیر شرعی فعل ثابت ہونے کی سات سال قید وجرمانے کی سزا ضرور موجود ہے۔‘

قانون دان عرفان آزاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کافی عرصے تک فیملی میٹرز کی پریکٹس کی ہے مگر کبھی ایسا کیس نہیں آیا جس میں عدت کے دوران نکاح کے خلاف کسی نے عدالت سے رجوع کیا ہو۔ کیونکہ پی پی سی 494 اور 495 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عدت کے دوران اگر طلاق دینے والا مطلقہ بیوی کو اظہار رجوع کا نوٹس بھیجے اور وہ رضامند ہو جائے تو ان کا آپس میں دوبارہ رجوع ہو سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اگر طلاق دینے والا مرد چار ماہ تک کوئی نوٹس نہ بھجوائے خاموشی سے پھرتا رہے تو اس کا مطلب ہے وہ دوبارہ رجوع نہیں کرنا چاہتا۔ لہذا خاتون بھی آزاد ہے چار ماہ بعد جہاں چاہے نکاح کر لے۔ البتہ عدت کے دوران نکاح شرعی طور پر ممنوع سمجھا جائے گا۔‘

معروف عالم دین قاری حنیف جالندھری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی مرد کسی عورت کو کسی بھی وجہ سے طلاق دیتا ہے تو عورت کے لیے چار ماہ عدت پوری کرنا شرعی طور پر لازمی ہے۔ اس دوران نکاح کرنا مذہبی طور پر بھی ناپسندیدہ فعل ہے۔ کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘

قاری حنیف جالندھری کے مطابق: ’عدت کے دوران ہونے والا نکاح بھی غیر شرعی ہے اور کرنے والے مذہبی طور پر گناہ گار ہوتے ہیں۔‘

سابق چیئرمین پاکستان بار کونسل خوشدل خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’طلاق کے بعد عدت پوری کیے بغیر نکاح کا کیس پہلی بار سامنے آیا ہے۔ اس طرح کا کیس کبھی نہیں سنا نہ ہی کسی کو اس طرح سزا ہوئی ہے۔

’یہ معاملہ شرعی طور پر دیکھا جائے تو شرعیت کے خلاف فعل پر سزا ہو سکتی ہے مگر قانونی طور پر یہ براہ راست قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہم مسلمان ہیں اس لیے شرعی شرائط پر عمل کرنا فرض ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’اگر سابق خاوند عدت پوری کیے بغیر نکاح کو عدالت میں لاتا ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعی شرعی خلاف ورزی ہوئی تو سزا تو لازمی ہوتی ہے۔‘

گذشتہ روز پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کے کیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496 کے تحت سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پیش ہو کر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دورانِ عدت نکاح و ناجائز تعلقات کا کیس دائر کیا تھا۔

یہ درخواست سیکشن 494/34، B-496 اور دیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی تھیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ’دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کر لیا، لہٰذا یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496/ 496 بی کے تحت سنگین جرم ہے۔‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا موقف

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نکاح کو غیر قانونی قرار دینے کے عمل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ہفتے کو ہیومن رائٹس کمیشن کے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ بیان میں کہا گیا کہ ’ایچ آری سی پی کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ’غیر قانونی‘ شادی کے الزام میں فوجداری عدالت کی جانب سے سات سال قید کی سزا سنائے جانے پر شدید مایوسی ہوئی ہے۔ اس فیصلے کے لوگوں کی پرائیویسی کے حق، خاص طور پر عدالتی کارروائی کے دوران خواتین کے وقار کے حق اور ریاست کی مداخلت کے بغیر طلاق اور شادی کے بارے میں فیصلے کرنے کے حق پر پریشان کن اثرات مرتب ہوں گے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس سے ایس 496 کو سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بنانے کی مثال بھی قائم ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، یہ حقیقت کہ ایک سیاست دان جو اسٹیبلشمنٹ کے حق میں نہیں تھا، اب پانچ ماہ کے دوران چار بار مقدمات کے سلسلے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ جس سے مناسب طریقہ کار، مشاورت کے حق اور منصفانہ ٹرائل کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں، جو پاکستان میں جمہوریت کی حالت کی ایک واضح عکاسی ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button