fbpx
خبریں

پاکستان میں 12ویں عام انتخابات آج ہو رہے ہیں

پاکستان کے تقریباً 13 کروڑ رجسٹر ووٹر آج (جمعرات کو) پارلیمان کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور چار صوبائی اسمبلیوں میں اپنے نمائندوں کو براہ راست منتخب کرنے کے لیے حق رائے دہی استعمال کرنے جا رہے ہیں۔

ملک میں 12 ویں عام انتخابات کروانے کے ذمہ دار ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہو گی اور بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

پاکستان کی تقریباً 25 کروڑ کی آبادی میں نصف سے زیادہ شہری (12 کروڑ، 85 لاکھ 85 ہزار) ووٹروں کی حیثیت سے رجسٹر ہیں، اور آج جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں اپنی مرضی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے پانچ فروری کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز چھپوا کر اسی شام تک ملک بھر میں قائم پولنگ سٹیشنوں تک پہنچا دیے گئے۔

انتخابات میں قومی اسمبلی کی 266 اور چار صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر 571 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

براہ راست ووٹنگ کے ذریعے پُر ہونے والی ان نشستوں کے علاوہ قومی اسمبلی کی 70 مخصوص نشستیں (60 خواتین اور 10 غیر مسلموں کے لیے) بعدازاں نو منتخب ایوان میں ہر پارٹی کے اراکین کی تعداد کے مطابق الاٹ کی جاتی ہیں۔

شام پانچ بجے پولنگ کے اختتام کے بعد ہر پولنگ سٹیشن میں ووٹوں کی گنتی شروع ہو گی اور تقریباً اسی رات نو بجے کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔

تاہم سرکاری اور حتمی نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹنگ ڈے کے بعد 14 روز میں گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے جاری کرنے کا پابند ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق آج مجموعی طور پر 18 ہزار امیدوار انتخابی دنگل میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں کئی امیدوار ایک سے زیادہ نشستوں کے لیے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اور یوں مجموعی نشستیں جن پر مقابلہ ہو رہا ہے کی تعداد 1125 بنتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، جن میں تقریباً تین لاکھ پولنگ بوتھ موجود ہیں۔

اکثر حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے لیے الگ الگ پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں لیکن کچھ مشترکہ سٹیشن بھی ہیں۔ تاہم پولنگ بوتھ مرد اور خواتین کے لیے ہر جگہ الگ الگ ہیں۔

قومی اسمبلی کی نشستوں کی صوبوں اور علاقوں میں تعداد
صوبہ یا علاقہ  جنرل نشستیں 
بلوچستان 16
پنجاب 45
خیبر پختونخوا 141
سندھ 61
اسلام آباد 3
کل 266

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ کئی دوسری پارٹیوں نے بھی آج کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

الیکشن کمیشن نے الیکشنز میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کو انتخابی نشانات جاری کیے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن سمبل الاٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث اس کے ہزاروں امیدوار الگ الگ نشانات کے ساتھ آزاد حیثیت میں انتخابی دنگل میں حصہ لے رہے ہیں۔  

سکیورٹی انتظامات و خدشات

صوبائی اسمبلیوں کی براہ راست پُر ہونے والی نشستیں
صوبائی اسمبلی جنرل نشستیں
بلوچستان 51
پنجاب 297
خیبر پختونخوا 115
سندھ 130
کل 593

پاکستان کے نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں مسلح افواج کی مدد سے ملک میں پر امن اور شفاف الیکشن کا انعقاد کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہوئے کہا ’نگران حکومت کو انتخابات کی ذمہ داری ملی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ الیکشن کے عمل میں کسی صورت خون خرابہ نہ ہو۔‘

وفاقی وزیر نے کہا: ’ملک بھر میں الیکشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔ سندھ اور بالخصوص کراچی میں الیکشن لڑنے والی جماعتیں کافی سالوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہیں لیکن سکیورٹی ادارے اور انتظامیہ موجود ہے اور کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھی ہمیں ان طاقتوں سے خطرہ ہے جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ وہاں سکیورٹی اور امن و امان کے لیے پولیس اور اس کے پیچھے مسلح افواج ہیں اور آرمی کے کمانڈوز بھی بلوچستان میں موجود ہوں گے۔

صوبوں میں پولنگ سٹیشنز اور پولنگ بوتھس کی تعداد
صوبہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد پولنگ بوتھس کی تعداد
  مرد خواتین مشترکہ کل مرد خواتین کل
پنجاب 14556 14036 22352 50944 79023 70411 149434
سندھ 4443 4313 10250 19006 34160 30845 65005
خیبر پختونخوا 4810 4286 6601 15697 26147 20930 47077
بلوچستان 1511 1317 2200 5028 8222 6660 14882
کل 25320 23952 41403 90675 147552 128846 276398

نگران وزیر داخلہ نے انتخابی مہم کے دوران بعض ناخوشگوار واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کراچی اور باجوڑ واقعے پر بہت تکلیف ہوئی، ہمیں ڈرانے کے لیے ساری کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

گوہر اعجاز نے بتایا کہ ’حساس پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور سکیورٹی کے تین درجوں میں انتظامات کیے ہیں۔

’29 ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، 44 ہزار پولنگ سٹیشنز کو نارمل ڈکلیئر کیا ہے جب کہ 16 ہزار 766 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمیں امید نہیں یقین ہے کہ یہ الیکشن صاف، شفاف اور پرامن طریقے سے ہوں گے، ہماری پانچ لاکھ 11 ہزار پولیس فرنٹ پر کھڑی ہے، ہر زندگی کی حفاظت کرنا ہمارا پہلا فرض ہے، جو ذمہ داری نگران سیٹ اپ کے پاس ہے وہ پوری کی جائے گی۔‘

پولنگ کے دن انٹرنیٹ کی ممکنہ بندش کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ ’اگر کسی ضلع یا صوبے کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کی درخواست کی گئی تو ہم مخصوص علاقوں میں ایسا کرنے پر غور کریں گے کیوں کہ دہشت گرد رابطوں کے لیے وٹس ایپ اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔‘

13 دسمبر 2023 تک صوبوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد
صوبہ مرد خواتین کل
اسلام آباد 568406 514623 1083029
بلوچستان 3016164 2355783 5371947
خیبر پختونخوا 11944397 9983722 20928119
پنجاب 39122082 34085814 73207896
سندھ 14612655 12382114 26994769
کل 69263704 59322056 128585760

الیکشن مینیجمنٹ سسٹم

انتخابات کے عمل کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیےالیکشن کمیشن نے اپنا الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) متعارف کرایا ہے، ایک خودکار اور جدید انتظامی نظام  ہے اور انتخابی نتائج کی ٹیبلیشن، ترسیل، تالیف اور ٹیبلولیشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

الیکسن کمیشن نے آج پولنگ ڈے سے تقریباً تین ہفتے قبل اس سسٹم کی فرضی مشق کی تھی۔

آج شام پولنگ اور بعدازاں ووٹوں کی گنتی ختم ہونے کے بعد ریٹرننگ افسران پریزائیڈنگ افسران سے سنیپ شاٹ لے کر اپنی ای ایم ایس موبائل ایپلیکیشن سے ہر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے کے ایک سے دو صفحات کا نتیجہ بھیجنا شروع کرنے کو کہیں گے۔

بلاتعطل رابطے کو یقینی بنانے کے لیے ای ایم ایس ایکو سسٹم کو موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کی عدم دستیابی کی صورت میں نجی محفوظ نیٹ ورک پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریٹرننگ افسران ان کو مہیا کردہ فارم 45 میں ڈیٹا انٹری کی تکمیل کے بعد فارم 47 تیار کریں گے، جس کے بعد پریذائیڈنگ افسران کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 کی دستخط شدہ کاپی فراہم کریں۔

الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ریٹرننگ افسران کو پریذائیڈنگ افسران کی طرف سے بھیجے گئے نتائج کو صبح دو بجے تک مرتب کرنا چاہیے، جس کے بعد ریٹرننت افسران کو تمام امیدواروں کی موجودگی میں نتائج حوالے کرنے اور ان پر مہر لگانے سے پہلے نتائج کے لیے فارم 47، 48 اور 49 کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ریٹرننگ افسران اس بات کے بھی پابند ہیں کہ وہ فارم کی سکین شدہ کاپیاں فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیجیں اور ساتھ ہی اصل کاپیاں بھی جلد از جلد بھیجیں۔

یہ سارا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابات کے بعد 14 روز کے اندر حتمی نتائج کی اطلاع کرے گا۔  

 الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن کمیشن پولنگ ڈے کے بعد 14 روز میں سرکاری اور حتمی نتائج کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا پابند ہے۔

انتخابات کا مشاہدہ 

آج کے انتخابات کا مشاہدہ یا مانیٹرنگ کے لیے ایک سو سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی آبزرورز، جو مختلف تنظیموں اور اداروں کے نمائندے ہیں، پاکستان میں موجود ہیں جو مختلف شہروں اور حلقوں میں پولنگ سٹیشنز کے دورے کریں گے اور سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن اور حکومتی حکام اور انتظامیہ کے علاوہ خصوصاً ووٹرز سے مل کت انتخابات کی شفافیت اور آزادی کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے۔

تمام ملکی اور غیر ملکی ادارے جو آج کے انتخابات کا مشاہدہ کریں گے۔ بعدازاں اپنی اپنی رپورٹس ترتیب اپنی اور پاکستانی حکومتوں اور عوام کے لیے جاری کریں گے۔

الیکشن 2024 کے پولنگ ڈے کی کوریج کی غرض سے دنیا بھر کے میڈیا اداروں کے کئی صحافتی ٹیمیں بھی اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔

پولنگ ڈے کے بعد

آئین پاکستان کے آرٹیکل 233 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹنگ ڈے 14 دنوں میں انتخابات کے نتائج کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا پابند ہے، اس لیے الیکشن کمیشن 22 فروری تک گزٹ نوٹیفیکیشن قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر کو بھجوا دے گا اور متعلقہ اسمبلی میں قائدِ ایوان اور سپیکر کا انتخابات بھی 25 فروری تک مکمل ہو جائیں گے۔

پاکستانی آئین کے تحت پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات بھی 11 مارچ 2024 تک مکمل ہونا ضروری ہیں اور یوں الیکشن کمیشن آف پاکستان ایوان بالا کے انتخابات کا شیڈول 25 فروری کو جاری کرنے کا پابند ہے۔ 52 سینیٹرز کی رکنیت کی معیاد 11 مارچ کی رات 12 بجے تک ختم ہو جائے گی، جب کہ 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کروانا ضروری ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے ساتھ ہی پاکستانی ریاست کے سربراہ اور صدر مملکت کے انتخاب کے لیے چھ الیکٹرول کالج مکمل ہو جائیں گے اور ایسے میں الیکشن کمیشن مارچ کے دوسرے ہفتے میں نئے صدر کے چناؤ کا عمل شروع کر دے گا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button