fbpx
خبریں

پاکستان میں قتل کے دو واقعات میں انڈین ایجنٹس ملوث ہیں: سیکریٹری خارجہ

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے پاس پاکستانی سرزمین پر قتل کے دو واقعات میں انڈین ایجنٹس کے ملوث ہونے کے ’مستند شواہد‘ موجود ہیں۔

سائرس سجاد قاضی کے کہنا تھا کہ قتل کیے جانے والے دونوں شخص پاکستانی شہری تھے اور انہیں ایک اجرتی قتل کے نظام کے تحت قتل کیا گیا۔

سیکریٹری خارجہ کے مطابق انڈین ایجنٹس نے کسی اور ملک کو محفوظ ٹھکانے بناتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں یہ قتل کروائے۔ 

سائرس قاضی کا کہنا تھا کہ دونوں واقعات کینیڈا اور امریکہ میں ایسی ہی دو کوششوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

پاکستان سے پہلے امریکہ اور کینیڈا دونوں اپنی سرزمین پر انڈین ایجنٹس کی جانب سے قتل کی کوشش کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔

دفتر خارجہ میں سیکرٹری خارجہ سائرس قاضی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے پاس دو پاکستانی شہریوں کو انڈیا کی جانب سے قتل کیے جانے کے مصدقہ ثبوت موجود ہیں اور قاتلوں کے تانے بانے دو انڈین شہریوں سے ملتے ہیں۔

’پاکستانی شہری شاہد لطیف اور محمد ریاض کو انڈیانے قتل کروایا ہے۔‘

سائرس قاضی کے مطابق ’پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے شواہد کی بنیاد پر بے نقاب کیا کے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے قتل میں بھارتی شہری اشوک کمار آنند اور یوگیش کمار براہ راست ملوث ہیں۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد ریاض اور شاہد لطیف کے ٹارگٹ کلرز کو ناقابل تردید شواہد کی روشنی میں گرفتار کیا۔

’قتل میں ملوث ٹارگٹ کلرز، ان کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ ’شاہد لطیف کو ڈسکہ سیالکوٹ میں انڈین شہری یوگیش کمار نے مقامی اجرتی قاتل کے ذریعے قتل کروایا۔ قاتل عمیر نے شاہد لطیف کو قتل کرنے کے لیے پانچ ٹارگٹ کلرز کی ٹیم بنائی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عمیر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’دوسرا کیس محمد ریاض کا ہے جسے راولاکوٹ میں فجر کے وقت قتل کیا گیا۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ عبداللہ علی نے محمد ریاض کا قتل کیا۔ محمد عبداللہ علی نے آٹھ ستمبر کو محمد ریاض کو قتل کیا اور ایک تیسرے ملک میں بھارتی ایجنٹوں سے پیسے وصول کیے۔

’تحقیقاتی اداروں کے پاس مستند شواہد ہیں کہ اس پوری ٹارگٹڈ کلنگ مہم میں تیسرے ملک میں موجود بھارتی شہری شامل ہیں جو کہ اس کی فنڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایات بھی دے رہے تھے اور مہم کو کنٹرول بھی کر رہے تھے۔‘

سائرس قاضی نے بتایا کہ ’جب یہ قتل کیے گیے تو بھارتی سوشل میڈیا کے سرکلز میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔ قاتلوں کے بیانات میں میں نیٹ ورک کا بتایا گیا۔ قاتلوں کے رابطے، ادائیگیوں اور دیگر پشت پناہی کے تمام شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کو انڈیا نے قتل کیوں کیا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’قتل کیے جانے محمد ریاض اور شاہد لطیف پرامن شہری تھے اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انھوں نے کشمیر میں جاری ظلم اور بربریت اور بھارت کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کیا تھا۔‘

پاکستانی قاتل کون ہیں؟ 

سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ انڈین ایجنٹوں نے دو پاکستانی قاتل کرائے پر لیے جنہوں نے ٹارگٹ کلنگ کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا۔ ایک قاتل کا نام عمیر جبکہ دوسرے قاتل کا نام محمد عبداللہ علی ہے۔ جنہیں اپنے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قاتل عمیر گزشتہ برس 12 اکتوبر کو پاکستان سے فرار ہو رہا تھا جسے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button