fbpx
خبریں

پاکستانی خواتین کا انتخابی سیاست میں کردار کتنا کلیدی رہا ہے؟

پاکستان کو مسلمان ممالک کی سب سے پہلی خاتون وزیراعظم کے انتخاب کا اعزاز حاصل ہے لیکن جب ملک میں خواتین کے مجموعی سیاسی عمل دخل اور پالیسی سازی میں کردار کی بات کی جائے تو صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔

ایسا کیوں ہے اور کب سے ہے؟ اس کے لیے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا ضروری ہے۔  دنیا میں سب سے پہلے خواتین کو ووٹ کا حق دینے والا ملک نیوزی لینڈ تھا، جس نے 1893 میں صنف نازک کو حق رائے دہی سے نوازا تھا۔  

لیکن خواتین کے سیاست میں عملی کردار کے معاملے میں فن لینڈ کو اولیت حاصل ہے، جس نے 1907 میں اپنی 200 اراکین پر مشتمل پارلیمان میں 19 خواتین کو شامل کیا تھا۔

آزادی سے قبل برصغیر کی خواتین بڑی حد تک گھر کی چاردیواری تک محدود تھیں۔ البتہ 20 ویں صدی کی ابتدا میں ہمیں بی اماں کی مثال ملتی ہے، جو مولانا محمد علی جوہر کی والدہ تھیں اور 1917 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں خطاب بھی کیا کرتی تھیں۔

1947 پر نگاہ ڈالیں تو 10 اگست کو ہونے والی پہلی اسمبلی کے ایوان میں بیگم جہاں آرا شاہ نواز واحد خاتون تھیں۔ ایک سال بعد 1948 میں ان کے ساتھ بیگم شائستہ اکرام اللہ بھی شریک ہو گئیں۔

پاکستان کی سیاسی اور انتخابی تاریخ میں بیگم نسیم ولی خان وہ پہلی خاتون تھیں جو قومی اسمبلی کی نشست پر براہ راست ووٹ لے کر منتخب ہوئیں، اور ایک نہیں دو نشستوں پر۔ بیگم نسیم ولی خان نے یہ کارنامہ 1977 کے عام انتخابات میں انجام دیا تھا۔

ان انتخابات میں انہوں نے پاکستان قومی اتحاد کے ٹکٹ پر لڑتے ہوئے این اے 4 پشاور اور این اے 8 مردان پر انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست دی۔

1988 میں خواتین کے لیے سیاسی منظر نامہ اس وقت تبدیل ہو جب محترمہ بےنظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، جب کہ مسلم دنیا میں بھی وہ پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔

اس سے قبل سری لنکا کی سریماوو بندا نائیکے، انڈیا کی اندرا گاندھی، سینٹرل افریقن رپبلک کی الزبیتھ ڈومیٹین، برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر، پرتگال کی ماریا پنتاسیگلو، ڈومینیکا کی یوجین چارلز وہ خواتین تھیں جو الیکشن لڑ کر وزیرِ اعظم بنیں۔

بےنظیر بھٹو کے علاوہ آٹھویں قومی اسمبلی میں 20 سے زائد خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر آئیں۔ اس اسمبلی میں پانچ خواتین وزرا بھی تھیں۔ پاکستان کی تاریخ میں محترمہ کو دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے جو کہ 98.48 فیصد ہیں۔ ان کا نام اس اعتبار سے گنیز بک آف ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔

چھ اگست 1990 میں یہ اسمبلی ٹوٹ گئی اور بےنظیر بھٹو اگلا الیکشن ہار گئیں۔

1993 کے انتخابات کے بعد بےنظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو گئیں۔ اس بار انہوں نے خواتین پارلیمنٹیرینز کے لیے ایک تنظیم کا خیال سوچ رکھا تھا۔

ان کے دور میں 1995 میں اسلام آباد میں خواتین کی پہلی مسلم وومن پارلیمنٹیرینز کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا تاہم یہ ان کے ایک بار پھر معزول کیے جانے کے بعد نہ منعقد ہو سکی۔

1997 کے جنرل الیکشن میں اب تبدیلی ایک بار پھر دستک دے رہی تھی، اس بار کے جنرل اور ضمنی الیکشن میں چھ خواتین کو ایوان زیریں تک راستہ مل چکا تھا۔

تاہم نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کے بعد فوجی آمر (ر) جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ خواتین کے لیے 2002 میں پارلیمان کا بحال ہونا خوش آئند ثابت ہوا کیونکہ ان کی نمائندگی اور مخصوص نشستوں سے ایوانوں میں راستہ ہموار ہو چکا تھا۔

مرحوم فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 2002 میں خواتین کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں 17 فیصد اضافہ کیا۔ اس کے بعد خواتین قانون سازوں کی تعداد تین فیصد سے بڑھ کر 21 فیصد تک جا پہنچی۔ یہ پاکستان کی قانون ساز تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ تھا۔

خواتین کی 80 سے زائد تعداد پارلیمان میں ایک حیران کن لمحہ تھا جس کو خواتین کے حلقوں میں بھی خاصی پذیرائی ملی۔

2002 میں پہلی بار خواتین نے بڑے پیمانے پر پارلیمان کا رخ کیا۔

جہاں تک یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین کو اپنے حلقے میں براہ راست سیاست کرنے یا ووٹنگ سے منتخب ہونے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، اس حوالے سے بھی 2002 کا سال خاصہ دلچسپ تھا جس میں 14 خواتین براہ راست قومی اسمبلی کی رکن بنی تھیں جبکہ 2008 کے انتخابات میں یہ تعداد 16 تک جا پہنچی۔

اس حوالے سے مصنفہ ورجینیا دوئتا اپنے مقالے ’فرام وومنز کوٹہ ٹو وومنز پالیٹکس‘ میں اپنے تجزیے میں کہتی ہیں کہ خواتین کے براہ راست چناؤ کی وجہ یہ بھی تھی کہ مرد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کو بدعنوانی کے کیسوں کا سامنا تھا یا وہ بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے نااہل ہو گئے، جس کے بعد ان کے گھر کی ہی خواتین یا رشتہ داروں کو وہ ووٹ ملے اور ان کا انتخاب ہوا۔

2002 سے 2011 تک 150 کے لگ بھگ خواتین کا ایوانوں میں ایک سے زائد بار منتخب ہو کر جانا ایک بڑی بات تھی۔

دوئتا بتاتی ہیں کہ یہ خواتین جو 2002 میں پہلی بار منتخب ہو کر آئیں وہ مرد قانون سازوں کی نسبت کم عمر (42 سال کی اوسط عمر، جبکہ یہ عمر مردوں کے لیے 47 تھی) زیادہ تعلیم یافتہ تھیں تاہم بیشتر کے پاس سیاست کے علاوہ کوئی پیشہ نہیں تھا۔

تاہم اس بات کے برعکس کے مردوں سے ان کی سب سے عام مماثلت ایک جیسے طبقے (اپر مڈل کلاس) سے تعلق تھا، ان خواتین کا مرد قانون سازوں کی نسبت سیاسی تجربہ انتہائی کم تھا کیونکہ ان میں سے 85 فیصد پہلی بار ایوان میں آئی تھیں۔

خواتین کی سیاسی میدان میں کم عمل دخل میں بہت سے عوامل حامل ہیں جن میں پارلیمانی نظام کی کم سمجھ بوجھ، قیادت سنبھالنے کے لیے پاکستان میں اس حوالے سے اقدامات بھی کیے گئے.

اگر قانون سازی کے حوالے سے بات کی جائے تو خواتین نے ایوانوں کا رخ کرنے کے بعد 2013 تک تقریباً ایک سو زائد بل متعارف کرائے۔

ان بلز میں خواتین کے مسائل سے متعلق 28 بل شامل تھے جبکہ صحت، ملک کی اندرونی سکیورٹی، بچوں کے حوالے سے اور تعلیم اور دیگر معاملات ان کا موضوع تھے۔

یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) کی 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں مردوں اور خواتین میں ووٹنگ گیپ کی شرح 9.1 فیصد تھی۔

اگر دوسری جانب دیکھا جائے پاکستان میں خواتین کو ووٹنگ کا حق 1947 سے ہی حاصل ہے۔ تاہم ملک کا خواتین کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے میں کردار ہمیشہ سے تنقید کا شکار رہا ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2023 کے مطابق پاکستان کا درجہ 146 میں سے 142 ہے۔

اسی تناظر میں ملک میں خواتین کی سیاسی جدوجہد کو دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ان کو مختلف قسم کا استحصال، تشدد، امتیازی سلوک وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواتین کا سیاسی کردار بڑھانے کے لیے ایوانوں میں ان کی تعداد تو سال ہا سال بڑھا دی گئی تاہم پالیسی سازی میں ان کا کردار کم ہی متحرک نظر آیا۔

2018 میں خواتین کی نمائندگی اور ووٹنگ میں بھی تیزی دیکھی گئی، جبکہ اسی سال کرشنا کماری کوہلی ایک ہندو دلت خاتون کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کے بعد ایوان بالا میں سینیٹر بنایا گیا۔

جنوری 2019 تک 25 ارکان پر مشتمل کابینہ میں تین خواتین موجود تھیں۔

تاہم مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطح پر اور قیادت کے حوالے سے خواتین کا کردار پانچ فیصد ہی دکھائی دیا۔

نتالیہ رحمٰن اور سارا ٹامسن نے اپنی کتاب ’روڈ بلاکس ریمین: کنسٹرینٹس ٹو ویمنز پولیٹیکل پارٹیسپیشن ان پاکستان‘ میں لکھتی ہیں کہ 2018 کے الیکشن ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر خواتین کو مخلوط پولنگ سٹیشن فراہم کیے جائیں یا پھر وہ جو بچوں کے پرائمری سکولوں میں اقائم ہوں تو وہ باآسانی جا کر ووٹ ڈال سکتی ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق 2018 میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد رہا۔ ای سی پی نے خواتین کی موجودگی کو بڑھانے کے لیے خاصی اصطلاحات متعارف کرائیں۔ اس میں یہ بھی شامل تھا کہ ہر جماعت کے امیدواروں میں سے پانچ فیصد خواتین ہوں گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پچھلی بار کے عام انتخابات میں جینڈر گیپ 9.1 فیصد یا ایک کروڑ ایک لاکھ ووٹوں کا تھا۔

ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ فہرستوں کے مطابق 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں 105 خواتین کو پارٹی ٹکٹ ملے جبکہ 66 نے آزاد امیداواروں کے طور پر حصہ لیا۔

فافن کی رپورٹ کے مطابق خواتین نے پارلیمان کا 20 فیصد حصہ بنیں جس میں سینیٹ میں 19 سیٹیں جبکہ قومی اسمبلی میں 70 نشستیں تھیں۔

تاہم ادارے کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی خواتین کی پارلیمان میں نمائندگی کے حساب سے پاکستان کا نمبر تیسرا رہا۔

 

2018 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں خواتین کو دو حلقوں میں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد ای سی پی نے نوٹس لے لیا تھا۔

ای سی پی کے احکامات کے بعد پشاور کے نواحی علاقوں کے حلقوں این اے 29 اور پی کے 71 میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

تاہم 2018 کے الیکشن میں خواتین نمائندگان کی جانب سے یہ گلہ عام تھا کہ ان کو ایسے حلقوں سے پارٹی ٹکٹ ملا جہاں جیتنے کا امکان نہایت کم تھا۔

’خواتین زیادہ ذمہ دار قانون ساز ہوتی ہیں‘

پاکستان تحریک انصاف سے 2013 میں خواتین کے لیے مخصوص نشست پر جیتنے والی رکن قومی اسمبلی ساجدہ ذوالفقار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خواتین کی ایوانوں میں موجودگی سے متعلق دلچسپ باتیں بتائیں۔

سابق ایم این اے ساجدہ ذوالفقار نے بتایا: ’خواتین کا پارلیمان میں کردار بہت مضبوط ہے کیونکہ مردوں کے ساتھ مخصوص اور منتخب نمائندوں کا برابر کا سٹیٹس ہو جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جماعتیں خواتین کو کم ہی پارٹی ٹکٹ دینا پسند کرتی ہیں اور مردوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔

’یہ برابر ہونا چاہیے کیونکہ یہ تعصب کی صورت حال اختیار کر جاتا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے نمائندگی کے مواقع خاصے کم ہیں۔‘

 سابق ایم این اے ساجدہ ذوالفقار کے خیال میں خواتین زیادہ ذمہ دار ہوتی ہیں اور اسمبلیوں اور سینیٹ میں قانون سازی کے عمل میں زیادہ دلچسپی دکھاتی ہیں۔

انہوں نے کہا خواتین قانون سازی اور اصلاحاتی عمل کو آخر تک لے کر جاتی ہیں اور اسمبلی میں سوال بھی زیادہ پوچھتی ہیں جبکہ مرد زیادہ تقاریر پر زور دیتے ہیں۔

’میں 2013 میں اسمبلی کا حصہ رہی ہوں اور ایک غیر سرکاری تنظیم نے مجھے اپنی رپورٹ میں اسمبلی میں زیادہ سوال پوچھنے پر سراہا بھی تھا۔‘

انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر مزید کہا کہ خواتین میں نظم و ضبط بہتر ہوتا ہے وہ وقت سے اسمبلی میں آتی ہیں اور بجٹ سیشن میں خصوصی طور پر زیادہ وقت تک بیٹھی رہتی ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button