fbpx
خبریں

ٹینٹ کی دیوار جس نے گجرات کے ’ظہور الٰہی پیلس‘ کو تقسیم کر دیا

صوبہ پنجاب کے دو دریاؤں کے بیچ واقع ضلع گجرات سیاسی اور عسکری اعتبار سے پاکستان کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔

اسی علاقے میں ایک حویلی ایسی ہے جس کی عمارت تو ایک ہی ہے مگر اسی حویلی سے دو مخالف سیاسی مہمیں چلائی جا رہی ہیں۔ یہ حویلی چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کی مشترکہ خاندانی حویلی ’ظہور الٰہی پیلس‘ ہے، جس کے دو حصے پانچ دہائیوں سے یک جان دو قالب رہے، مگر اب اس کے بیچوں بیچ ایک ٹینٹ لگا اسے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے، اور ایک حصے سے تحریکِ انصاف جب کہ دوسرے سے ق لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ظہور الٰہی پیلس میں ایک طرف پی ٹی آئی کے بینرز ہیں اور دوسری جانب پاکستان مسلم ق کے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جانب پوسٹرز اور بینرز پر چوہدری ظہور الٰہی کی تصاویر لگی ہیں۔

اس ضلعے کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں جبکہ سیاست میں چوہدریوں کو کون نہیں جانتا۔ اس ضلع نے ایک صدر، ایک وزیر اعظم اور ایک وزیر اعلیٰ دینے کے علاوہ کئی وزرا بھی ملک کو مہیا کیے ہیں۔

قدیم شہر گجرات میں واقع ظہور الٰہی پیلس کی اس سیاست میں تاریخی اہمیت رہی ہے کیوں کہ یہ رہائش گاہ تقریباً پانچ دہائیوں سے یہاں کی سیاست کا محور رہی ہے۔

سابق صدر پاکستان اور چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی اور چوہدری پرویز الٰہی کے والد چوہدری منظور الٰہی کی گجرات شہر کی اہم کاروباری شخصیات تھے۔ اس مشترکہ خاندانی حویلی کا نام ظہور الٰہی پیلس سیاست میں چوہدری ظہور الٰہی کی 1981 میں ایک حملے میں وفات کے بعد گجرات کے چوہدری برادران نے رکھا تھا۔

چوہدری ظہور الٰہی اور چوہدری منظور دونوں نے ایک ساتھ کاروبار کیا لیکن سیاست میں پہل چوہدری منظور الٰہی نے کی جنہوں نے 1956 میں کنونشن مسلم لگ کے پلیٹ فارم سے اس دشت کی سیاحی کا آغاز کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوہدری ظہور الٰہی کی وفات کے بعد سیاسی قیادت ان کے بیٹے چوہدری شجاعت حسین کو ملی جبکہ چوہدری منظور الٰہی کے بیٹے چوہدری پرویز الٰہی سیاست میں خوب متحرک رہے اور دو بار سپیکر پنجاب اسمبلی، دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے کے علاوہ پاکستان کے پہلے نائب وزیر اعظم کے عہدے پر بھی کچھ عرصہ فائز رہے۔

دہائیوں سے ایک ساتھ سیاست کرنے والے اور ’چوہدریز آف گجرات‘ کے نام سے معروف چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان سیاسی اختلاف اس وقت سامنے آنا شروع ہوا جب چوہدری خاندان کی تیسری نسل سیاست کے میدان میں سرگرم ہوئی۔

2022 میں جب بانی پاکستان تحریک انصاف وزارت عظمیٰ سے برطرف ہوئے تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی بھی نئی دوڑ شروع ہو گئی۔

چوہدری پرویز الٰہی، وزیر اعلٰی پنجاب بننا چاہتے تھے اور اس کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن بھی رضامند تھیں اور دوسری جانب عمران خان بھی۔

چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف تھا کہ جبکہ چوہدری شجاعت کا جھکاؤ دوسری طرف تھا۔ یہیں سے ہی دونوں خاندانوں میں تقسیم شروع ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔

21 جنوری 2024 کو چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری شافع حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کا انٹرویو کرنے گجرات ہم ان کی رہائش گاہ ظہوری الٰہی پیلس گئے۔

عام انتخابات کو تقریبا دو ہفتے سے کم وقت رہ گیا ہے لیکن گجرات شہر میں الیکشن کی رونقیں نظر نہیں آئیں۔ گنجان آباد گجرات شہر کے مرکز میں ظہور پیلس جہانگیر روڈ پر واقعے ہے  جسے 1956 میں تعمیر کیا گیا۔

سفید رنگ سے رنگا یہ گھر قدیم فن تعمیر کا نمونہ ہے، جس کے بارے میں چوہدری خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ اس گھر کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ کئی کنال پر محیط اس گھر کے فرش کو بنانے میں مشینوں کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ پورے گھر کا فرش ہاتھ سے بنایا گیا ہے جو کہ قریبا سات دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔

 حویلی کے دو بڑے گیٹ ہیں۔ ایک پرویز الٰہی کے داخلے اور گاڑیوں کے لیے اور اسی طرح دوسرا چوہدری شجاعت خاندان کے داخلے اور گاڑیوں کے لیے مختص ہے۔

ان دونوں دروازوں کے درمیان ایک بڑا سا لان موجود ہے لیکن اندر داخل ہوں تو بنیادری طور پر کوئی تقسیم یا دیوار موجود نہیں تھی۔ اب نہ صرف ایک ٹینٹ کے ذریعے لان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی اس ایک مکان سے دو مخالف امیدوار مہمیں چلا رہے ہیں۔

ایک طرف پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی اور دوسری جانب چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے چوہدری سالک حسین اور چوہدری شافع حسین انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اب چوہدری پرویز الٰہی کو بھی سپریم کورٹ نے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے دھاگے مزید الجھ گئے ہیں۔

چوہدری سالک اور ان کی پھوپی ایک دوسرے کے خلاف این 64 گجرات سے انتخاب لڑ رہے ہیں جس کی مہم دونوں اطراف سے اسی حویلی سے چل رہی ہے۔

مکان میں ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کی تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق کی مہم ہو رہی ہے۔پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی چوہدری ظہوری الٰہی کی بیٹی اور چوہدری شجاعت کی بہن ہیں۔

دونوں خاندانوں میں تلخی کے بعد ظہور پیلس میں ان دونوں خاندانوں نے پہلی بار مکان کو تقسیم کرنے کے لیے لان میں ایک ٹینٹ کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔

ظہور الٰہی پیلس میں ہونے والی سیاسی مہم کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے جو سیاسی کارکنان اور ووٹرز مکان کے ایک طرف آ کر بیٹھتے ہیں تو تھوڑی ہی دیر بعد وہی لوگ گھر کے دوسری جانب ہونے والی مہم میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ شاید ان کے وفادار ووٹرز بھی مخمصے کا شکار ہیں کہ کس کو خوش کریں اور کسی ناراض، تو بہتر حل بظاہر انہوں نے دونوں جانب حاصری لگانے کی صورت میں تلاش کیا ہے۔

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے جس طرف براجمان ہیں وہاں پولیس کی گاڑی سکیورٹی کے لیے دکھائی دی جو چوہدری شافع حسین کے ساتھ رہتی ہے مگر دوسری جانب نہ کوئی پولیس گاڑی اور نہ کوئی سرکاری سکیورٹی کا انتظام دکھائی دیا۔

جب مکان میں لگی ٹینٹ کی دیوار سے متعلق چوہدری شافع سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ میں پہلی بار یہ دیوار بنی مگر اچھا ہے اب ہمارے کارکنان کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔‘

قیصرہ الٰہی کا اس پر موقف ہے کہ ہم نے یہ یہ عارضی ٹینٹ کی دیوار اس لیے لگائی کہ ’ہمارا تحفظ ہو کیوں کہ گھر میں صرف خواتین ہیں اور چاہتے ہیں سیاسی سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button