fbpx
خبریں

وٹس ایپ کے ’سپلنٹر گروپ‘ اور ان میں شامل خفیہ ’غدار‘

’ہمیں وٹس ایپ پر ایک نیا گروپ بنانا تھا۔‘ میری دوست نے ایک دن برنچ پر مجھ سے سرگوشی کی، اس کی آواز میں خوف عیاں تھا جیسے اس نے ابھی ابھی اس ریستوران كے كسی ویٹر کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہو۔

’ہم اب بھی اصل (وٹس گروپ) پر پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں، صرف یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتی۔ لیکن ظاہر ہے، ہم واقعی اس الگ (گروپ) کو ہی صحیح طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔‘

میں سمجھی نہیں۔ زرا ٹھہرو ، تو کیا آپ کے پاس اپنے سکول کی دوستوں کے لیے ایک الگ وٹس ایپ گروپ ہے اور پھر ایک ایسا گروپ بھی ہےجس میں ان لڑکیوں میں سے ایک شامل نہیں ہے؟

’شش!‘ اس نے چپکے سے چاروں طرف دیکھتے ہوئے مجھے خبردار كیا۔ ’اسے سپلنٹر گروپ (علیحدہ گروپ) کہتے ہیں اور ہاں ہم نے جان بوجھ كر ایسا کیا ہے کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی اس لڑکی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ایک ڈراؤنے خواب جیسی ہے، لیکن ہمیں دکھاوا کرنا ہوگا کہ وہ اب بھی گینگ کا حصہ ہے۔ تم جانتی ہو کہ یہ ایسا ہی ہے۔‘

اس صبح تک میں نے ایسا كچھ نہیں کیا۔ یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے اور میں نے تب سے یہ جان لیا ہے کہ دوستوں کے درمیان وٹس ایپ پر ایسے ’سپلنٹر گروپس‘ عام ہیں۔

یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پیغام رسانی كی یہ ایپ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے کہ اپنے فون کو پیغامات کے لامتناہی سلسلے کے لیے کھولنا اور گروپ چیٹ میں دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اچانک خود كو نظر انداز ہوتا محسوس کرنا کتنا دباؤ کا باعث ہے۔

اس کے بعد ریڈ ریسپٹس ہیں (یہ دیکھنے والا فیچر کہ کسی نے آپ کا بھیجا گیا پیغام پڑھ لیا ہے لیکن جواب نہیں دیا) اور سكرین پر یہ دیكھنا كہ کوئی ’ٹائپنگ‘ شروع کرتا ہے اور پھر رک جاتا ہے، وغیرہ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن جیسا کہ میری دوست کی کہانی واضح کرتی ہے، اس سب کا ایک اور رخ بھی ہے یعنی پیرانویا۔۔۔ اگر آپ کے دوستوں نے آپ کے بغیر کوئی دوسرا گروپ بنایا ہے تو کیا ہوگا؟ کیا اسی لیے انہوں نے آپ کے پیغامات کا جواب دینا بند کر دیا ہے؟ کیا آپ کو اپنا الگ گروپ بنانا چاہیے؟ کیا آپ ان کے گروپ میں شامل ہونے کے لیے کہہ سکتے ہیں؟

یہ نفسیاتی جنگ اس سے مختلف نہیں ہے جو ہم بی بی سی کے مقبول ریئلٹی ٹی وی شو ’دا ٹریٹرز‘ میں دیکھتے ہیں جہاں مقابلہ کرنے والے ایک لاكھ 20 ہزار پاؤنڈ تک کے نقد انعام کے لیے ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے درمیان کئی خفیہ ’غدار‘ ہوتے ہیں اور ایسے ’وفادار‘ بھی جن پر شک نہیں كیا جا سكتا۔

سیریز میں ہم اکثر مقابلہ کرنے والوں کو سکاٹش قلعے کے ایک لاؤنج میں اکٹھے ہوتے دیکھتے ہیں، جہاں اس كا سیٹ بنایا گیا ہے۔ وہ اپنے ساتھی حریفوں میں سے ایک کے بارے میں سرگوشی کرتے ہیں، پھر اچانک كسی كی آمد كے پیش نظر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور اصل اٹ كراؤڈ شو یا سپلنٹر گروپ، كی طرح وہ حقیقی چادر اوڑھنے والے غداروں جیسے ہیں، جو رات كی تاریكی میں قلعےكی راہداریوں میں ملتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف وٹس ایپ غالباً وہ جگہ ہے جہاں آپ اپنے دوستوں کے ساتھ دا ٹریٹرز شو کے بارے میں جوش و خروش سے بات کرتے ہیں، وہیں یہ وفاداروں اور غداروں سے بھرا ہوا قلعہ بھی بن گیا ہے، جہاں کون جانتا ہے کہ اگلی بار کس کو باہر نکالا جائے گا؟ یا اس سے بھی بدتر، اگر آپ پہلے ہی باہر ہو چكے ہیں اور آپ کو ابھی تک اس كا علم ہی نہیں؟

33 سالہ مائیک (فرضی نام) کہتے ہیں: ’اصل کارروائی سپلنٹر گروپ میں ہوتی ہے۔ ہمارے درمیان ایک ایسا رکن ہوتا ہے جسے ہم میں سے بہت سے لوگ واقعتاً پسند نہیں کرتے اور سالوں سے اس کے خلاف رنجش رکھتے ہیں، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ دوسری صورت میں وہ ہمارے درمیان مكمل اتفاق کو تباہ کرسکتا ہے، لہذا ہمارے پاس ایک سائیڈ چیٹ ہے، جو بنیادی طور پر صرف اس کی ہر بات سے كیڑے نکالنے کے لیے وقف ہے۔ یہ یقیناً وہم (Paranoia) كی ہی ایک انوكھی قسم ہے۔

مائیک مزید کہتے ہیں: ’ہم سب مستقل خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ غلطی سے کسی پیغام کو مین چیٹ پر بھیج دیا جائے اور ظاہر ہے کہ میں وہمی ہی ہوں گا، اگر میں یہ سمجھوں كہ دوسرے لوگ بھی اس سے اتفاق كریں گے جو میں كہتا ہوں۔‘

معروف سلیبریٹی مائنڈ سیٹ کوچ اور سنڈے ٹائمز كی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی كتاب ’زندگی صرف ایک بار ملتی ہے‘ (You Only Live Once) كی مصنفہ نور ہیبرٹ بتاتی ہیں كہ ’بطور انسان، ہم فطرت کے اعتبار سے قبائلی مخلوق ہیں، تاہم ہمارے قبائل اب بڑے پیمانے پر بدل چکے ہیں اور غار میں رہنے والوں کی طرح گھومنے کے بجائے اب ہمارے پاس ایسے قبائل ہیں جو جسمانی طور پر ایک ہی جگہ موجود نہیں ہیں جیسا کہ وٹس ایپ گروپ، لیکن ہمارے ذہن سماجی اور جسمانی طور پر ان خالی جگہوں کے درمیان فرق نہیں کر سکتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سے ہم بعض حالات پر ردعمل ظاہر كرتے ہیں، وہ اکثر یکساں ہوتے ہیں۔‘

نور ہیبرٹ مزید كہتی ہیں: ’جب ہم کسی بھی قسم کے گروپ میں ہوتے ہیں تو بنیادی ہدایت یہ ہوتی ہے کہ ہم ابتدائی سطح پر محفوظ رہیں تاکہ ہمارا تعلق بنا رہے۔ اس فطری خواہش کی وجہ سے قبیلے کی طرف سے مسترد کیے جانے کا معمولی سا احساس بھی کچھ لوگوں کے لیے بے حد پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

29 سالہ کلارا (فرضی نام)، جو اپنی یونیورسٹی كے 15 لوگوں کے ساتھ ایک (وٹس ایپ) گروپ میں تھیں، كو بھی ایسی ہی صورت حال كا سامنا ہے۔

وہ یاد کرتی ہیں: ’مجھے پتہ چلا کہ چار لڑکیوں نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ہے، میں نے سوچا کہ میں ان كی قریبی ہوں اس لیے میں نے پوچھا کہ کیا میں ان کے علیحدہ گروپ میں شامل ہو سکتی ہوں کیونکہ گذشتہ برسوں میں مرکزی گروپ میں بات چیت ختم ہو گئی تھی۔‘

انہوں نے مذاق میں کلارا سے گروپ میں شامل ہونے کی ’درخواست‘ کرتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ فلمانے کو کہا اور اس بات کا خاکہ پیش کیا کہ وہ اس میں کیا كہیں گی۔ بقول کلارا: ’میں نے یہ سب کچھ کیا، یہ سوچ کر کہ یہ تھوڑا سا مذاق ہی تو تھا، لیکن پھر بھی انہوں نےمجھے گروپ میں شامل نہیں كیا بلكہ میری تذلیل کی گئی۔‘

کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور گروپ چیٹ میں آپ جس طرح سے خارج کیے جانے پر یا درحقیقت دوسروں کو خارج کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، تو یہ اثر آپ کے خیال سے کہیں زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔

نور ہیبرٹ كے مطابق: ’یہ (اثر) ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنہوں نے بچپن میں کسی نہ کسی طرح مسترد کیے جانے کا تجربہ کیا ہو اور اس وجہ سے وٹس ایپ گروپ میں جواب نہ ملنے یا نكالے جانے کا یہ تجربہ، ایک پرانی لاشعوری کہانی کو جنم دے سكتا ہے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں۔‘

یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پیغام رسانی كی یہ ایپ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے کہ اپنے فون کو پیغامات کے لامتناہی سلسلے کے لیے کھولنا اور گروپ چیٹ میں دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اچانک خود كو نظر انداز ہوتا محسوس کرنا کتنا دباؤ کا باعث ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا: ’جب ہم اس احساس کو محسوس کرتے ہیں تو ہمدردی والا اعصابی نظام متحرک ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے ہم فائٹ یا فلائٹ موڈ میں چلے جاتے ہیں، تاہم جب لڑنے یا فرار کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو پھر ہم اپنے جسم میں خوف کے جسمانی رد عمل کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اسی كیفیت کو ہم بے چینی کہتے ہیں۔‘

پھر کچھ چیٹس میں ’مزاحیہ‘ ہونے کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔ 39 سالہ لوئس (فرضی نام) كہتے ہیں: ’میں نے ہمیشہ وٹس ایپ گروپس میں مشكلات كا سامنا كیا ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے تفریح کا باعث ہوتے ہیں لیکن پھر مذاق رک جاتا ہے اور میں خود سے پوچھتا ہوں کہ میری بات نے گفتگو کو کیوں ختم کر دیا؟ وہ شخص میرے ساتھ بدتمیزی کیوں کر رہا ہے؟

میں تعداد ہی بھول گیا ہوں كہ میں کتنی بار کسی گروپ سے باہر نکالا گیا ہوں اور صرف ایک گھنٹہ بعد گروپ کے ایڈمن کو التجا كرنے كے لیے میسج كیا كہ مجھے واپس گروپ میں شامل كر لیں۔‘

کبھی کبھی مزاحیہ نہ ہونے کے نتائج سب بہت حقیقی ہوتے ہیں۔ لوئس نے مزید کہا: ’میں ایک ایسے گروپ میں ہوں جس کے تمام شرکا انتہائی ذہین اور مزاحیہ ہیں۔ میں بنیادی طور پر خاموش رہتا ہوں، چھپ کر رہنے والا ہوں اور بات چیت میں شامل ہونے سے بہت ڈرتا ہوں۔ حال ہی میں اسی گروپ نے ایک سپلنٹر سیل قائم کیا، جس میں دو لوگوں کو کچھ نئے لوگوں کے لیے ہٹا دیا گیا۔ میرے ایک بے دخل کیے گئے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ گروپ کیوں خاموش ہو گیا تھا اور مجھے یہ بتانا پڑا کہ ایک اور گروپ بنا لیا گیا تھا۔ وہ بہت اداس دکھائی دے رہا تھا۔‘

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے شاید یہ حیرت کی بات نہ ہو کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے 2024 میں وٹس ایپ گروپوں کو مکمل طور پر ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ نئے سال کے موقع پر سوشل میڈیا پر تھے تو آپ نے بہت سی ’اِن‘ اور ’آؤٹ‘ لسٹیں دیکھی ہوں گی جو لوگوں نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھیں کہ وہ 2023 میں کیا چھوڑ رہے ہیں اور 2024 میں اپنے ساتھ كیا لے کر جائیں گے۔ لوگوں کی ’آؤٹ‘ لسٹ میں سب سے عام كون سی چیز تھی؟ جی ہاں، آپ نے درست اندازہ لگایا: وٹس ایپ گروپس۔

تاہم ہر كوئی ایسا نہیں كرے گا۔ واضح طور پر کچھ سپلنٹر گروپس اب بھی پھل پھول رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ایک ایسے ماحول کو فروغ دینے میں لطف اندوز ہونے کا احساس ہوتا ہے جس میں آپ كو اہمیت حاصل ہو اور وہ بھی اکثر دوسروں کی قیمت پر؟ کیا یہ ظالمانہ سوچ نہیں ہے؟ یا ہم صرف اپنا تحفظ كر رہے ہوتے ہیں۔

کاؤنسلر جارجینا سٹرمر كہتی ہیں كہ ’ہم سب منظوری اور قبولیت کے احساس کو محسوس کرنے کے لیے رابطے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن کچھ لوگ دوسری پوری نہ ہونے والی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی رابطے ڈھونڈتے ہیں۔‘

ایک بار پھر اس سے بچپن کی محرومیوں سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ’اگر کوئی اپنی خود اعتمادی اور عزت نفس کے احساس کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے تو یہ انہیں معاشرے میں مختلف سطح کی تلاش پر مجبور كر سکتا ہے۔‘

جب وہ بچپن میں سکول میں کھیل کے میدان میں ہوتے ہوں گے تو یہ کام لوگوں کو باہر نکال کر، سرگوشیاں کرتے ہوئے اور نوٹ پاس کرکے کیا ہوں گے۔

’وٹس ایپ پر یہ ایسے شخص پر لاگو ہو گا جو ایک خفیہ سپلنٹر گروپ قائم کر رہا ہے۔ یہ انہیں کنٹرول حاصل كرنے اور کسی طرح سے انچارج ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دیگر شعبوں میں قابو سے باہر یا غیر محفوظ محسوس کر رہے ہوں۔‘

تو اس سب کے تدارک کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے، اگر آپ اپنے آپ کو رات گئے تک جاگتے ہوئے، بے چینی سے سوچتے ہوئے پاتے ہیں کہ کیا آپ جس گروپ میں ہیں وہ سب آپ سے خفیہ نفرت کرتے ہیں؟ جارجینا سٹرمر كا مشورہ ہے كہ سب سے پہلی بات یہ ہے كہ آپ كو پرسكون رہنا ہو گا۔ ان كے مطابق: ’اپنے آپ كو یاد دہانی كروائیں كہ آپ كو اس قید میں نہیں رہنا اور حقیقی دنیا میں قدم ركھیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’گروپ چیٹس ہمیں بہت سے لوگوں سے رابطے میں رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں لیکن یہ تھکا دینے والے، مایوس کن بھی ہو سکتے ہیں اور ہمیں تناؤ کا احساس دلا سکتے ہیں۔ تعلق کے احساس کے لیے اپنے آپ کو حقیقی دنیا میں جانے كے لیے یاد دہانی كروائیں۔‘

ان كے بقول: ’آپ اپنے فون پر کتنا وقت گزارتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اپنے منفی خیالات کو فعال طور پر چیلنج کرنے کی کوشش کرنے کے لیے کچھ حدود نافذ کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے آپ سے پوچھیں: کیا وہ معقول ہیں یا غیر معقول؟ کیا وہ موجودہ لمحے میں لوگوں کے اس مخصوص گروپ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ یا کیا وہ آپ کے اپنے ماضی سے منسلک ہیں اور ماضی كے چیلنجز كے حوالے سے دوستی، رشتے یا اعتماد كے قابل ہیں؟‘

انہوں نے مزید كہا كہ ’اگر گروپ کی محركات بہت زیادہ ہیں تو اپنی توجہ انفرادی تعلقات کی پرورش پر مرکوز کرنے کی کوشش کریں۔ انفرادی دوستوں تک پہنچنا اور ایک دوسرے كے ساتھ تعلقات کو جاری رکھنا نہ بھولیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں كہ ’ممکن ہے کہ یہ آپ کو وہ یقین دہانی پیش کرے جو آپ کو اپنے احساس محرومی سے بچنے کے لیے درکار ہے۔‘

اور اگر کسی بھی وجہ سے آپ سپلنٹر گروپ میں ہیں تو کوشش کریں کہ خود كو اس میں پھنسنے نہ دیں اور آپ جو بھی کریں ہر کسی کی رضامندی کے بغیر اس میں کسی اور کو شامل نہ کریں۔

لوئس كے مطابق: ’مجھے بتایا گیا ہے كہ میں جس نئے سپلنٹر گروپ میں ہوں وہ ایک خوفناک جگہ ہے، جب کسی نے کسی نئے شخص کو شامل کرنے کی کوشش کی تو انہیں فوراً باہر کر دیا گیا کیونکہ ان کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔ ہمیں یاد دلایا گیا كہ ہر شخص كے لیے ایک مخصوص معیار درکار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک نیا سپلنٹر گروپ پہلے ہی بنایا جا چکا ہے۔‘

انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا: ’مجھے ایس ایم ایس كا دور یاد آتا ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button