fbpx
خبریں

ناپسندیدہ حالات سے نمٹنے کے 10 مؤثر طریقے

راہ چلتے ہوئے کسی بھی شہری پر طنز کرنا، چھیڑنا یا نامناسب الفاظ کا استعمال کرنا قابل گرفت جرم ہے، تاہم اس طرح کے واقعات ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔

تحقیقی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 77 فیصد خواتین اور 34 فیصد مردوں نے اس طرح کے حالات کا سامنا کیا ہے۔

قبرس کی ویب سائٹ برائٹ سائیڈ پر شائع کیے گئے ایک مضمون میں اس شرمناک حقیقت پر مبنی صورتحال سے متعلق ماہرین نے کچھ تجاویز بیان کی ہیں جو آپ کی مدد اور رہنمائی کرسکتی ہیں۔

1:لوگوں کی گفتگو کا موازنہ کریں

HELLO

کسی کی گفتگو سے اس بات کا اندازہ لگائیں کہ آیا یہ ایک دوستانہ سلام ہے یا یہ سراسر طنز یا دھمکی ہے۔ اسی طرح دی جانے والی کچھ مبارکبادوں کو سادہ انسانی تعامل سمجھا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ کو سامنے والے کی گفتگو میں ناراضی، ذلیل کرنا یا دھمکی محسوس ہوتی ہے تو یہ واضح طور پر پریشانی کی بات ہے۔

ایک ایتھلیٹ خاتون نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب میں میدان میں دوڑ لگاتی ہوں تو ان لوگوں سے مجھے کوئی اعتراض نہیں جو میری طاقت یا ترقی کو مدنظر رکھتے ہیں، کیونکہ یہ میری محنت کی تعریف محسوس ہوتی ہے لیکن اگر تبصرہ کرنے والا میرے جسم کی حرکات و سکنات پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے یا سیٹیاں بجاتا ہے تو یہ ایک الگ بات ہے۔ بنیادی طور پر آپ کو یہ احساس ہوگا کہ آیا یہ چاپلوسی والا تبصرہ ہے یا اس کا مقصد آپ کو شرمندہ کرنا تھا۔

2 : پلٹ کر واضح جواب دیں

number

اگر کوئی آپ سے اس لہجے میں بات کرنے کی کوشش کرے تو نظر انداز کرنے کے بجائے مؤثر حکمت عملی کے تحت اس کو ایک مضبوط لہجے اور غیر جانبدار چہرے کے تاثرات کے ساتھ بھرپور جواب دیں جیسے کہ ’مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے‘

3 : خاموشی بھی بہتر جواب ہے

babe

اگر کوئی بدتمیز اور اجنبی شخص آپ کو زچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو بعض اوقات مخالفانہ نظروں یا غصے میں گھور کر دیکھنے کے ساتھ بالکل جواب نہ دینا بھی ایک مضبوط پیغام ہے۔

4 : جگہ یا نشست کو چھوڑ دیں

Bus

کچھ خواتین کو غیر مردوں کے شائستہ رویے کے ساتھ بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اگر آپ کو کچھ ایسا محسوس ہونے لگے کہ سامنے والے نے کچھ ایسا نہیں کہا اور بظاہر وہ ایک اچھا انسان لگ رہا ہے تو بھی یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کو ان مشکلات سے اپنے آپ کو بچانے کا پورا حق ہے اس کے لیے آپ وہ جگہ یا نشست چھوڑ سکتی ہیں۔

5 : ہمت سے کام لیتے ہوئے چیخ کر جواب دیں

Follow

ایسی صورتحال میں کچھ خواتین نے ان مردوں کو ڈرانے کیلئے مختلف حربے استعمال کیے جیسے کہ ایک خاتون نے چیخ کر کہا کہ “آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں؟! میں تمہیں نہیں جانتی!” اور چیخنے پر لوگ متوجہ ہوئے جس سے آوازیں کسنے والا شخص خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔

6 :غیر منطقی بہانے بنائیں

Come

سوشل میڈیا پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ جب کوئی اجنبی شخص کسی خاتون کو مسکرانے کا کہتا ہے اور وہ یہ کہہ کر طنزیہ جواب دیتی ہے کہ ’میرے پاس مُسکرانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘ یا کوئی اور غیر منطقی سا جواب دیں جس سے اس شخص کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

7: خود کو مصروف رکھنے کا بہانہ کریں

MOM

یاد رکھیں! جب کوئی مشتبہ شخص آپ کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس وقت بہانے سے کسی دوست کو میسج کرنا یا کال کرنا، یا اپنے بیگ سے کچھ ڈھونڈنے کا بہانہ کرنا اس وقت رکاوٹ کا کام کر سکتا ہے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے تو ان لوگوں سے رابطہ کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں تاکہ وہ آپ کی مدد کر سکیں۔

8 : ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع پولیس کو دیں

woman

اوباش اور بدتمیز قسم کے افراد کی حرکات و سکنات ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں یہ شدید ذہنی تناؤ، اضطراب یا اعتماد میں کمی کا سبب بھی بن سکتا ہے، جس کے سدباب کیلئے متعلقہ محکمے یا پولیس کو اطلاع کریں۔

اس کے علاوہ ایک ماہر نے نوٹ کیا کہ جن خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس قسم کے واقعات آن لائن شیئر کیے ان کی پریشانی میں کمی واقع ہوئی اور وہ اس قسم کی زیادتیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے زیادہ بااختیار محسوس ہوئیں۔

9 : ایسے واقعات کو بطور ثبوت ڈائری میں نوٹ کریں

Media

اگر آپ اس طرح کے واقعات کی شکایت درج کروانا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی ڈائری یا کسی نوٹ بک میں تحریر کریں تاکہ واقعہ کی تفصیلات بیان کرنے میں مدد مل سکے اور اگر سوشل میڈیا پر آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہو تو قانونی کارروائی کیلئے اس کے اسکرین شاٹس اور تصاویر کو محفوظ کرلیں۔

10 : ایسے لوگوں کی مدد کریں

help

ان تمام باتوں کے ساتھ اگر آپ کے سامنے کسی اور انسان کے ساتھ اس قسم کی حرکات و سکنات کی جا رہی ہوں تو آپ اس شخص کو بھی مدد فراہم کرسکتی ہیں جسے چھیڑا جارہا ہے، تو اس کی مدد کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس شخص سے بات کرکے اسے روکا جائے۔ آپ ایک “جعلی دوست” بن کر بھی جا سکتی ہیں اور بات چیت شروع کرسکتی ہیں جیسے کہ “کیا آپ ٹھیک ہیں؟” پوچھنا ان کو سکون بھی فراہم کرے گا اور انہیں یہ محسوس ہوگا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

نوٹ : کیا کبھی آپ کے ساتھ اس قسم کے تجربے کا سامنا ہوا ؟ اگر ہوا تو آپ کا کیا رد عمل تھا، صارفین کمنٹس میں اپنی تجاویز سے آگاہ کریں۔

Comments




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button