fbpx
خبریں

میانوالی: پاکستان بھر میں سب زیادہ ووٹ لینے والے قومی اسمبلی کے امیدوار

الیکشن 2024 میں عمران خان کی نااہلی کے بعد ان کی سیٹ پر الیکشن لڑنے والے جمال احسن خان ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے جمال خان اپنے چچا ایم این اے مقبول خان کی وفات کے بعد 2002 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اس وقت سے تاحال تحریک انصاف سے ہی وابستہ چلے آ رہے ہیں۔

جمال احسن خان تحریک انصاف کے دھرنوں، میٹنگز اور دیگر اجتماعات میں باقاعدگی سے حصہ لیتے چلے آ رہے ہیں۔

انتخابار میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو دیے جانے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ان کا محبت کا رشتہ ہے۔

2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے انہیں عیسیٰ خیل سے ایم پی کا ٹکٹ دیا مگر مقابل فریق سے محض چند ہزار ووٹ کے فرق سے ہار گئے تھے۔

جمال احسن خان کی کوششوں سے ٹولہ منگلی کے مقام پر کیڈٹ کالج عیسیٰ خیل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

2018 کے انتخابات میں بھی ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا اور پی ٹی آئی کا ٹکٹ عیسیٰ خیل سے ہی تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن خان المعروف ببلی خان کو دیا گیا جو یہ سیٹ جیت گئے تھے۔

اس دوران جمال خان نے اپنی بلڈر کمپنی بھی ختم کر دی کیوں کہ اپنے اثاثے وہ تحریک انصاف کے الیکشنز پر خرچ چکے تھے۔

بقول جمال خان گذشتہ عشرے میں وہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے ورکر تھے مگر وہ اب اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا چکے ہیں۔

نو مئی کے بعد انہیں روپوش ہونا پڑا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پارٹی نشان ختم ہونے کے بعد عمران خان چوں کہ انتخابات کے لیے نااہل ہو چکے تھے تو عمران خان نے اپنے حلقہ این اے 89 میں اپنی جگہ الیکشن لڑنے کے لیے جمال احسن خان کا انتخاب کیا۔

یوں جمال احسن خان حالیہ انتخابات میں دو لاکھ 17 ہزار 424 ووٹ لے کر پاکستان بھر کے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار بن گئے ہیں۔

جب کہ ان کے مخالف مسلم لیگ ن کے عبید اللہ خان شادی خیل نے 34 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے۔

جمال احسن خان کی اس حلقے میں ایک لاکھ 83 ہزار کی لیڈ ہے جو پاکستان بھر میں کسی بھی ایم این اے کی سب سے زیادہ لیڈ ہے۔

حلقہ این اے 89 میں عمران خان نے بھی کبھی اتنے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے جتنے جمال احسن خان کو ملے ہیں۔

جمال احسن خان نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس میں میرا رتی بھر بھی کمال نہیں ہے، یہ سب عمران خان کی شخصیت، ان کے وژن، ان کی جوانمردی اور ڈٹ کر کھڑے رہنے کا صلہ ہے جو میانوالی کے عوام نے عمران خان کے نام پر میرے حوالے کیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میری حکمت عملی یہ تھی کہ میری انتخابی مہم سے میرے کارکنان کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

جمال احسن خان نے کہا کہ ’میں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہو کر کیا اور میانوالی کے عوام نے مجھ پر اور عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا جس پر میں ان کا بے حد شکر گذار ہوں۔ میں نے تو ابھی تک ٹی وی ہی نہیں دیکھا کہ میں اتنے بڑے مارجن سے جیتا ہوں۔ لوگ مجھے بتا رہے ہیں کہ آپ نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ اور لیڈ حاصل کی ہے۔

’لیکن یہ سب ووٹ مجھے عمران خان کی وجہ سے ملے ہیں۔ عمران خان ایک لیڈر ہے اور بہادر انسان ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ان کے ساتھی ہیں۔ میں نے اپنا سب کچھ تحریک انصاف پہ قربان کیا ہے۔ میری کنسٹرکشن کمپنی تھی جو اب ختم ہو گئی اور میں نے عمران خان کے دور اقتدار میں بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’نو مئی کا باب اب ختم کر دینا چاہیے اور ملک کو آگے لے کر جانا چاہیے۔ آئندہ حکومت سازی میں میں صرف اور صرف تحریک انصاف کا ساتھ دوں گا، نہ بکوں گا، نہ جھکوں گا اور عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button