fbpx
خبریں

ملائیشیا: شہری نے سڑک پر گڑھے کی مرمت کے لیے اس میں کیلے کا درخت لگا دیا

شہری انتظامیہ کی بے عملی پر مایوس ملائیشیا کے ایک شخص نے دیرینہ مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے سڑک کے ایک گڑھے میں کیلے کا درخت لگا دیا۔

ریاست صباح کے جالان سندکان لہاد داتو نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے مہاتیر ارپین نے اپنے فیس بک پیج پر کیلے کے درخت کی تصویر پوسٹ کی جو انہوں نے سڑک کے بیچوں بیچ لگایا تھا۔

درخت کی جڑ کو مٹی سے ڈھانپ دیا گیا تھا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ سڑک پر کھڑا رہے۔

مہاتیر نے سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک پیغام بھی پوسٹ کیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ اگلی بار (مٹی کی بجائے اسے کھڑٓا رکھنے کے لیے) ٹار استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے 29 جنوری کو اپنی پوسٹ میں لکھا: ’مجھے سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے افسوس ہے۔ میں اگلی بار اسے تارکول سے ڈھانپ دوں گا۔‘

ان کی فیس بک پوسٹ پر ردعمل دیکھ کر صباح پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے سڑک کی مرمت کا کام شروع کر دیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ مہاتیر کی جانب سے توجہ دلانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی گڑھا بھر گیا تھا۔

پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے مسلسل بارش کو سڑک کی دیکھ بھال میں تاخیر کی وجہ قرار دیا۔

سڑکوں کی مرمت کے مسائل کو اجاگر کرنے کا یہ طریقہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ ملک کی ریاست کیداہ میں اور یہاں تک کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں بھی اس طریقے کو اپنایا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہاتیر کی پوسٹ نے ملائیشیا میں سڑکوں کے حالات پر نئی بحث چھیڑ دی۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اپنے تبصروں میں سڑکوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اسے کیلے کے درخت کی بجائے ڈوریان کا درخت لگانا چاہیے تھا جس کا پھل انتہائی بدبودار ہوتا ہے۔

دوسرے صارفین نے ہنسی کے ایموجی کے ساتھ اس پر ردعمل دیا، جبکہ کچھ نے گڑھے میں کیلے کا درخت لگانے کی ان کی کوشش کو ’شرارت‘ قرار دیا۔

گڑھے کا مقام اس جگہ سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر تھا جہاں ایک حالیہ حادثے میں ایک چار سالہ بچی کی موت ہو گئی تھی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گڑھے کی وجہ سے ہوا۔

ملائیشیا کے روڈ سیفٹی پلان 2022-2030 کے مطابق ملک میں 2030 تک سڑکوں پر ہونے والی اموات میں 50 فیصد تک کمی لائی جائے گی۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button