fbpx
خبریں

فریج لاد کر لندن میراتھن میں شریک شخص کو پولیس نے روک لیا

لندن میراتھن میں ایک فریج کو اپنی پیٹھ پر لاد کر دوڑنے کا عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کرنے والے شخص کی امیدیں اس وقت ٹوٹ گئیں جب پولیس نے انہیں اپنے چیلنج کی ٹریننگ کے دوران ایسا کرنے سے روک دیا۔

34 سالہ رنر ڈینیئل فیئربرادر کے مطابق ان کو انگلینڈ کے قصبے سٹیونیج میں پولیس افسران نے فریج چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے روکا۔

فیئر برادر بلوط کے درخت کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ کسی بڑی ہوم اپلائنس کے ساتھ میراتھن میں تیز ترین دوڑ کا عالمی ریکارڈ توڑنے کی امید کر رہے ہیں۔

وہ اپنی پیٹھ پر 27.5 کلوگرام وزنی فریج اٹھا کر ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم ’ڈایابٹس یو کے‘ کے لیے رقم جمع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسا اپنے 15 سال سے بہترین دوست 34 سالہ سیم ولسن کے نام کرنا چاہتے ہیں جو ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہرٹ فورڈ شائر پولیس کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ انہوں نے فریج چوری نہیں کیا بلکہ افسران نے ان کی اس کوشش کی تعریف کی۔

سٹیونیج سے تعلق رکھنے والے فیئربرادر نے مزید کہا: ’یہ رات کا وقت تھا اور وہاں اندھیرا تھا۔ پولیس کی ایک گاڑی بہت آہستہ سے میرے پاس سے گزری تو مجھے احساس ہوا کہ جو میں کر رہا ہوں شاید ان کو عجیب لگے۔ اور ایسا ہی ہوا جو گھوم کر میرے قریب آ گئے۔ ان کی نیلی بتی روشن ہوگئیں اور تمام ٹریفک رک دی گئی۔

’میرا چہرہ سرخ ہو گیا کیوں کہ مجھے اس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، میں نے سوچا کیا وہ مجھ پر یقین کریں گے؟ یا وہ یہ سوچیں گے کہ میں فریج چوری کر کے لے جا رہا ہوں؟

پولیس نے پوچھا: ‘کیا یہ آپ کی پیٹھ پر فریج ہے؟’

فیئر برادر نے اپنے 26 میل طویل دوڑ کے چیلنج کی وضاحت کی۔ افسر نے مذاق میں کہا: ’آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ اسے ہوم اپلائنسز بنانے والی برطانوی کمپنی ’کریز‘ سے آرڈر دیتے تو وہ اسے آپ کے لیے ڈیلیور کر دیں گے؟‘

فیئر برادر کا کہنا ہے کہ افسر نے ہاتھ ملانے کے لیے اپنی کار کی کھڑکی کھولی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا: ’میں زیادہ پریشان ہو جاتا اگر وہ میری پیٹھ پر فریج کو دیکھ کر تفتیش کرنے سے باز نہ آتے۔ یہ صورت حال واقعی مضحکہ خیز تھی۔‘

وہ فریج کے ساتھ دوڑ کر 10 ہزار پاؤنڈ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں اور اس ہدف میں سے وہ  تقریباً ساڑھے چار ہزار پاؤنڈ اکٹھا کر چکے ہیں۔

فیئر برادر نے وضاحت کی کہ انہوں نے صرف ڈھائی سال پہلے دوڑنا شروع کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ ہاف میراتھن، میراتھن اور الٹرا میراتھن میں حصہ لے چکے ہیں۔

تیز ترین میراتھن کا ریکارڈ چار گھنٹے، 53 منٹ اور 10 سیکنڈ پر مشتمل ہے اور وہ گذشتہ سال خبروں میں ایک میرین کو عالمی ریکارڈ توڑتے ہوئے دیکھ کر متاثر ہوئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: ’میرا دوست سیم وہ پہلا شخص ہے جس کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور میں نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگوں کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ میں ڈاکٹر نہیں ہوں اور میں کبھی بھی ذیابیطس کا علاج نہیں کر سکتا لیکن میں اس کے لیے رقم اکٹھا کرنے کے لیے کچھ عجیب و غریب کام کر سکتا ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیئر برادر کی جانب سے عالمی ریکارڈ بنانے کی پہلی کاوش اس وقت تقریباً ناکام ہو گئی تھی جب انہیں ابتدا میں ’ڈایابیٹس یو کے‘ کے ساتھ لندن میراتھن میں دوڑانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جولائی میں مسترد ہونے کے بعد انہوں نے خیراتی ادارے سے رابطہ کیا جس نے اسے ریزرو لسٹ میں سب سے اوپر رکھا۔

دسمبر میں انہیں وہ خوشخبری مل ہی گئی جس کی وہ امید کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا: ’ظاہر ہے کہ میں اس کی ٹریننگ نہیں کر رہا تھا اور مجھے اس طرح دوڑنے کے انداز کو اپنانا پڑا۔

ان کے بقول: ’اہم بات یہ ہے کہ میں زخمی ہونے سے محفوظ رہا ہوں اور میں یہ جیتنے کے لیے پرعزم ہوں۔‘

انہوں نے اپنے فریج کا نام 1993 کی امریکی فلم ’کول رننگز‘ میں دکھائی گئی برف پر چلنے والی گاڑی ’ٹللہ‘ کے نام پر رکھا ہے اور اپنے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک ہینڈلز پر اپنی کوشش کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

فیئربرادر نے مذاق میں کہا کہ ان کی زندگی میں یہ فریج نئی خاتون کی طرح ہے جو انہیں اپنی ساتھی 34 سالہ ہیلی ہولڈن سے دور لے جا رہی ہے۔

وہ اپنے اس غیر معمولی ساتھی (فریج) کے ساتھ ہفتے میں تین چھوٹی اور ہفتے کے آخر میں ایک لمبی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’پہلے میں کہہ سکتا تھا کہ لوگ مجھے دیکھیں گے اور سوچیں گے کہ ارے یہ کیا کر رہا ہے۔ لیکن اب ملنے والی شہرت کی بدولت اب مجھے زبردست حمایت حاصل ہے اور لوگ اپنے ہارن بجانے اور مجھے خوش کرنے کے لیے رک جاتے ہیں۔ یہ سب دیکھنا حیرت انگیز ہے.‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button