fbpx
خبریں

عمران خان کی سزا کا جواب ووٹ سے دیں گے: پی ٹی آئی

سابق وزیر اعظم عمران خان کو سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائے جانے کے اگلے روز بدھ کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنائی جس پر سوشل میڈیا کے ذریعے فوراً ہی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے فوری باضابطہ ردعمل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سزا سنائے جانے کو عدالتی نظام کی تاریخ کا ایک اور افسوس ناک دن قرار دیا گیا۔

پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ جلد بازی میں کیے گئے یہ فیصلے عوام کے جوش و خروش کو متاثر نہیں کر سکتے، پی ٹی آئی کے سپورٹر اس کا جواب انتخابات کے وقت دیں گے جبکہ اس ’مضحکہ خیز‘ فیصلے کو چیلنج بھی کیا جائے گا۔

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے توشہ خانہ کیس میں اپنے بھائی اور بھاوج کی سزا کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جوڈیشل سسٹم کو اُنہوں نے خود دفن کر دیا، بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کہاں ہیں؟ عمران خان نے نظام کو ایکسپوز کر دیا، آٹھ فروری 2024 کو اور جوش سے نکلنا ہو گا۔‘

پی ٹی آئی کے رکن شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’عمران خان نے خودداری کی بہت بڑی قیمتی چکائی ہے۔ دلیر ہے میرا لیڈر، مشکل وقت ہے۔ تکلیف ہے ہمیں جو کچھ کیا جا رہا ہے۔  لیکن فخرہے اپنے لیڈر پر جس دلیری سے لڑ رہا ہے۔‘

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’پاکستانی قوم یاد رکھنا وہ شخص اللہ کے آسرے تم لوگوں کی لڑائی لڑ گیا۔  محسن کش مت بننا۔‘

فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے کئی تبصرے کیے جا رہے ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے وکلا ٹیم کے بھی لوگ شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’عمران خان کے وکلا اور ان کی فیملی اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہے ہمیں اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’عدالتی عملہ ابھی پہنچا نہیں ہے اور خان صاحب کے 342 بیان، ڈیفنس گواہ اور فائنل آرگومنٹس کو سنے بغیر ایک دم توشہ خانہ کیس میں پلان کے مطابق 14 سال کی سزا سنا دی گئی۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستانیوں آپ نے یہ سب آٹھ فروری 2024 کو یاد رکھنا ہے، آج پاکستان کا مکمل نظام، معلوم اور نامعلوم عمران خان سے ہار گئے ہیں اور وہ سرخرو ہوا ہے۔

اینکر عاصمہ چوہدری نے فیصلے پر ردعمل میں لکھا ’آپ کا ووٹ ہی بہترین آپشن ہے‘۔

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’زمینی حقائق کو اچھی طرح مانیٹر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ خان کو تیزی سے قید کی سزائیں دی جائیں ووٹر کو مایوس کیا جائے، کیوں کہ اتنی بڑی تعداد میں اگر پی ٹی آئی ووٹر باہر نکل آیا تو الیکشن مینیج کرنا مشکل ہو جائے گا۔‘

تاہم اس پوسٹ پر صارف محسن بلال کا کہنا تھا کہ ’اس سے الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ سزا سنانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ووٹر باہر نکلے اور ٹرن آؤٹ اچھا ہو۔‘

صارف شہزاد اسلم نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’عمران خان کے خلاف انتہائی سخت الزامات لگائے  گئے ہیں، جس کے تحت انہیں جیل میں بند کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ آٹھ فروری 2024 کو بہت اہم ہے۔‘

سہیل وانی نے فیصلے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا ’خان کی موجودگی کی بغیر فیصلہ دینا، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔‘

رہنما مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’ توشہ خانہ کے تحائف عوام کی ملکیت تھی، حکومت پاکستان کا پیسہ تھا، ٹیکس دینے والوں کا پیسہ تھا، ہمیں کہتے تھے رسیدیں نکالو، اور اپنی رسیدیں اتنی جعلی ہیں کہ آپ ایک جعل ساز، ایک فراڈ اور ایک کرپٹ شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ  2018 سے 2022 کے درمیان میں کئی تحفے عمران خان کو وصول ہوئے ، ان کا یہ معمول بن گیا تھا کہ ’ہر تحفے کو لالچ کے ساتھ بشری صاحبہ وصول کرتی تھیں۔‘

عطا تارڑ نے کہا کہ ’آپ نے نا صرف ریاست پاکستان کا نقصان کیا، آپ نے وزارت عظمی کے عہدے کو بھی بے توقیر کیا۔ شہباز شریف نے راہداریوں میں تحفے لیبلز کے ساتھ سجا کر رکھ دیئے تا کہ لوگ دیکھ سکیں کہ فلاں ملک کے سربراہ نے کیا چیز دی ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button