fbpx
خبریں

عمران خان کی سزا پر احتجاج کا ارادہ نہیں قانونی جنگ لڑیں گے: پارٹی ترجمان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن  نے منگل کو کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے بعد پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ قانونی جنگ لڑیں گے۔

آج خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان اور پارٹی کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ’ہم اس سزا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں جس طرح یہ کیس چلایا گیا ہے اس کے بعد تو اس سزا کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کا اسٹبلشمنٹ مخالف ہونے کا تاثر ہے تو کیا اب اس فیصلے کے بعد جماعت کے موقف میں نرمی متوقع ہے؟

اس سوال کے جواب میں ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ہماری کوئی لڑائی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نہ تھی اور نہ ہے، اور نہ ہی ہم کوئی خواہش رکھتے ہیں کہ ہم اسٹبلشمنٹ کے ساتھ لڑیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی لڑائی صرف ان سیاسی آلہ کاروں کے ساتھ ہے جو ’ٹاؤٹ‘ کے طور پہ کام کرتے ہیں۔ اور موجودہ حکومت بھی اسی کیٹیگری میں آتی ہے اور ان کی جدوجہد اس عمل کے خلاف ہے۔

سائفر کیس میں عمران خان کی سزا کا انتخابات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں رؤف حسن نے کہا کہ ’سب سے بڑا سوالیہ نشان تو یہ ہے انتخابات صاف شفاف ہوں گے یا نہیں؟ ہمیں اس حوالے سے شدید شکوک و شبہات ہیں کہ انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر شفاف انتخابات ہوں تو پی ٹی آئی اکثریت لینے کی پوزیشن میں ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان سے جب پوچھا گیا کہ بلے کا نشان تو نہیں رہا، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کے جیتنے کے بعد ان کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں رؤف حسن نے کہا کہ ’ہمارے امیدوار نظریاتی ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کے نظریے پر ہی ٹکٹ لیے تھے۔

’نشان نہیں رہا لیکن وہ پارلیمنٹ کی نشستوں کے لیے نہیں آئے، حالانکہ مجھے پوری امید ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ آزاد امیدواروں کو خریدنے کے لیے زور لگائیں گے لیکن ہمیں پورا اعتبار ہے کہ ہمارے امیدوار عمران خان کے نظریے کو قربان نہیں کریں اور جماعت کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘

اس سے قبل پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل رؤف حسن نے منگل کے روز بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو بھی کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف ملک بھر میں 180 کیسز بنائے گئے، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ٹاؤٹس نے الیکشن سے باہر رکھنے کے لیے یہ سب کیا ہے، پی ٹی آئی کو بار بار مطالبے کے باوجود لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی، پی ٹی آئی رہنماؤں کو سیاست سے باہر کیا گیا جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے، عمران خان ایک دن بری ہو کر دوبارہ ملک کے وزیر اعظم بنیں گے۔‘

مزید کہا کہ ’کابینہ نے سائفر کو ڈی کلاسیفائی کر کے اس کی کاپیز صدر، چیف جسٹس اور سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائیں، اوریجنل سائفر فارن آفس میں تھا، وزیراعظم کے پاس نہیں، انہوں نے صرف ایک کاغذ لہرایا، عمران خان کہہ چکے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

حلقہ 47 سے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار وکیل شعیب شاہین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین کسی بھی ملزم کو اپنے دفاع کا حق اور مرضی کا وکیل مقرر کرنے کی اجازت دیتا ہے، سائفر کیس میں قانونی بے ضابطگیاں پائی گئیں، شہادتیں ملزم اور اس کے وکیل کی موجودگی میں ریکارڈ ہونی چاہییں، وکیل صفائی کو گواہوں پر جرح کا حق ملنا چاہیے، وکیل صفائی کی طرف سے گواہوں پر جرح کے بغیر سنائی گئی سزا کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، سائفر کیس میں یک طرفہ فیصلہ سنایا گیا۔‘




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button