fbpx
خبریں

شوکت صدیقی کیس: ’صرف تقریر پر ہٹایا جائے تو آدھی عدلیہ گھر چلی جائے‘

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پانچ سال سے جاری رہنے والے سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت صدیقی برطرفی کیس میں منگل کو فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سابق جج شوکت صدیقی کی 2018 میں خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر برطرفی کے خلاف درخواست کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے منگل کو کی۔

سماعت میں جنرل (ر) فیض حمید نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرایا جس میں انہوں نے شوکت عزیز صدیقی کے تمام الزامات کو ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

سماعت کی ابتدا میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’امریکہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں، مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے۔

’صرف تقریر پر جج کو ہٹایا جائے تو آدھی عدلیہ گھر چلی جائے، کئی جج بار کونسلز میں تقاریر کرتے ہیں، تقریر کا متن کیا تھا اس کو دیکھنا ہو گا۔‘

چیف جسٹس سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت صدیقی برطرفی کیس کی سماعت آج کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کر سکتے ہیں۔‘

عدالت میں دوران سماعت مختلف سوالات پوچھے گئے: کیا انکوائری کے بغیر جج کو برطرف کیا جا سکتا ہے؟ کیا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے؟ کیا تقریر کا مس کنڈکٹ تسلیم کر لینے پر انکوائری کی ضرورت باقی تھی؟ اگر انکوائری آئین و قانون کے تحت نہیں ہوئی تو اس کا  کیا نتیجے نکلے گا؟ شوکت عزیز کی عمر 30 جون 2021 کو 62 سال مکمل ہو چکی، اب اپیل منظور ہوئی تو کیا ریلیف دیا جا سکتا ہے؟ 

عدالت نے وکلا سے ان سوالات پر تین ہفتوں میں تحریری جوابات طلب کر لیے۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ’سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ‘ نہیں ہے۔

’ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، کہا جا رہا ہے کہ انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟‘

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں، ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے۔

’سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے، موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔‘

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ’فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہیے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں، کون سچا ہے کون نہیں یہ پتہ لگانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟ انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں مگر آپ کے لگائے پبلک میں الزامات کو پھر بھی ہٹایا جا سکتا ہے؟ ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتائیں۔‘

معاملے پر کمیشن بنا کر انکوائری کروائیں: حامد خان

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت کو حل بتاتے ہوئے کہا کہ ’شوکت صدیقی کے خلاف پہلی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے، اس کے بعد اس معاملے پر کمیشن بنا کر انکوائری کرائی جائے۔‘

اس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے؟‘

حامد خان نے کہا کہ ’جی ، معاملہ واپس کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہیے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے۔‘

ٹھوس وجہ کے بغیر جج کو نہیں ہٹانا چاہیے: چیف جسٹس

وکیل خواجہ حارث ریٹائرڈ جنرل فیض حمید اور  برگیڈیئر عرفان رامے کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے جن کے جوابات گذشتہ روز عدالت میں جمع کروائے گئے۔ خواجہ حارث عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس معاملے کے دو الگ الگ پہلو ہیں، ایک پہلو یہ ہے کہ شوکت صدیقی نے پبلک میں تقریر کی۔‘

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’وہ ہم کہہ چکے ہیں، مگر الزامات بھی سنگین ہیں، پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں یہ دو تین آئینی اداروں کا معاملہ ہے، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ بھی ہے، یہ آپ بھی مانتے ہیں کسی ٹھوس وجہ کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جانا چاہیے، اس معاملے میں سپریم جوڈیشل کونسل بھی شامل ہے وہ بھی آئینی ادارہ ہے ، سپریم کورٹ بھی اس کیس کو سن رہی ہے اب وہ بھی اس میں شامل ہے۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’جس طرح الزامات لگائے گئے کیا وہ ایک جج کے لیے مناسب تھا؟ آپ کی جانب سے تقریر کی تردید تو نہیں کی گئی۔‘

یہ سن کر خواجہ حارث نے کہا کہ ’شوکت صدیقی کو کسی نے اپروچ کیا تو توہین کا نوٹس دیتے۔‘ چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہو سکتا ہے ان کا فرسٹریشن لیول وہاں پہنچا ہو کہ پبلک میں جانے کا فیصلہ کیا ہو۔‘

خواجہ حارث نے جواباً کہا کہ ’شوکت صدیقی کے خلاف آرڈر میں تاثر موجود ہے ان کے الزامات درست نہیں۔‘ چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ ’خواجہ صاحب قوم بہت کچھ بھگت چکی، سچ جاننا چاہتی ہے، کیا آپ بطور سینیئر وکیل نہیں جاننا چاہتے اس کیس میں سچ کیا تھا؟‘ خواجہ حارث نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’آپ پھر سوموٹو لے لیں، ابھی یہ معاملہ آپ کے سامنے نہیں۔‘

’شوکت صدیقی اب جج نہیں معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل نہیں جا سکتا‘

چیف جسٹس نے شوکت صدیقی کے وکیل سے کہا کہ ’ہم آپ کے خلاف کارروائی کالعدم قرار دیں پھر تو یہ آپ کے الزامات کو درست ماننے جیسا ہو گا۔‘

حامد خان نے عدالت سے کہا کہ ’آپ شوکت صدیقی کے خلاف رپورٹ کو کالعدم قرار دے کر معاملہ کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس رائے پر خواجہ حارث وکیل نے کہا کہ ’شوکت صدیقی اب جج نہیں ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل میں اب ان کا معاملہ نہیں بھیجا جا سکتا۔‘

جسٹس انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت سے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے۔‘

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے۔ شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں، شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا، کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟‘

شوکت صدیقی کی مراعات بحالی کا آرڈر بھی ہو سکتا ہے: اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے، جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے، عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے، عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔‘

حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ ’صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا۔‘

جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نے شوکت صدیقی کے وکیل سے کہا کہ ’آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط، آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا۔‘

سپریم کورٹ کمشین تشکیل دے کر انکوائری کرائے: وکیل صلاح الدین

سندھ بار کے وکیل صلاح الدین نے ویڈیو لنک پر پیش ہو کر دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ ’کونسل کا مخصوص کردار ہے، اب جج ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کمشین تشکیل دیکر انکوائری کرائے۔ سپریم کورٹ مفاد عامہ کے تحت کمشین بنا سکتی ہے۔‘

چیف جسٹس نے جواباً کہا کہ ’تو کیا اس جج کو خمیازہ بھگتنا پڑے، آپ کی آئینی درخواست مفاد عامہ کے تحت دائر ہوئی، آپ اگر ایک جج کی بات کر رہے ہیں تو اس حساب سے آپکی درخواست ہی قابل سماعت نہیں ہے، سپریم کورٹ کو یہ اختیار کیسے حاصل ہے کہ کمیشن تشکیل دیا جائے، کمشین انکوائری ایکٹ کے تحت تو صرف وفاقی حکومت ہی تشکیل دے سکتا ہے۔‘

جسٹس جمال مندوخیل نے اس موقع پر استفسار کیا کہ اگر شوکت صدیقی کے الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہوجائے گا؟ بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ ’الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کے خلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے۔ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

’اگر تقریر حقائق کے مطابق تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے، سپریم جوڈیشل کونسل کو پبلک میں تقریر کرنے سے مسئلہ تھا تو کوئی صورت نکل سکتی تھی، چیئرمین کونسل نے ازخود انکوائری کا حکم دے کر رپورٹ دیتے ہوئے اختیار سے تجاوز کیا، بیرسٹر صلاح الدین احمد نے دلائل مکمل کر لیے۔

دو سابق فوجی افسران اور سابق چیف جسٹس نے شوکت صدیقی کے الزامات جھٹلا دیے

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے شوکت صدیقی برطرفی کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔ جس میں جنرل (ر) فیض حمید نے عدلیہ پر اثرانداز ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر اور جوڈیشل کونسل کے سامنے کسی مبینہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا، شوکت عزیز صدیقی خود مان چکے کہ مبینہ ملاقات میں کی گئی درخواست رد کی گئی تھی، شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں کیا، شوکت عزیز صدیقی سے  نواز شریف کی اپیلوں پر بات نہیں ہوئی۔

’کبھی یہ نہیں کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی، شوکت عزیز صدیقی کے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بعد میں آنے والے خیالات کے مترادف ہیں۔‘

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کانسی نے بھی جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا اور شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ ’میرے دور میں کسی ایجنسی نے اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی، شوکت صدیقی سے کہا تھا الزامات کے حق میں کوئی میٹریل ہے تو فراہم کریں لیکن شوکت صدیقی نے کوئی مواد فراہم نہیں کیا۔‘

برگیڈیئر (ر) عرفان رامے نے جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرایا اور انہوں نے بھی شوکت عزیز صدیقی کے الزامات اور ملاقات کی تردید کر دی۔ 

سپریم کورٹ میں اپیل کب دائر ہوئی؟

شوکت صدیقی نے 11 اکتوبر 2018 کے برطرفی کے نوٹیفیکیشن کے بعد 26 اکتوبر 2018 کو سپریم ہائی کورٹ میں اس کو چیلنج کر دیا تھا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ’جوڈیشل کونسل نے آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا اور درخواست گزار کو آئینی حق سے محروم رکھا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی انکوائری کرنی چاہیے تھی۔ اس تمام کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔‘

شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج تھے اگر شوکت صدیقی کو فوری کارروائی کر کے اکتوبر 2018 میں برطرف نہ کیا جاتا تو 26 نومبر 2018 کو انہوں نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا حلف اُٹھانا تھا۔ 

انہوں نے اپنی درخواست میں کونسل کی جانب سے برطرفی کی سفارش کو بدنیتی قرار دیا۔

جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس کیا تھا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر سابق جج شوکت صدیقی کو اکتوبر 2018 میں خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ کونسل کا موقف یہ تھا کہ ’شوکت صدیقی بطور جج مِس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اس لیے آرٹیکل 209  کے تحت انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔‘

چونکہ شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے۔ جس کے بعد اُن کے بیان پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا تھا جس میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ 

 




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button