fbpx
خبریں

سیاسی حکومت اور فوج کے درمیان اختیارات کا توازن ضروری ہے: ماہرین

پاکستان میں آٹھ فروری 2024 کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے لیے ویسے تو بہت سے چیلنج ہوں گے لیکن ایک اہم معاملہ سول ملٹری تعلقات میں توازن پیدا کرنا بھی ہو گا۔

پاکستانی فوج بلاشبہ ملک کا سب سے منظم ادارہ ہے، جس کا صرف ملک کی سلامتی ہی نہیں بلکہ داخلی و سیاسی معاملات میں بھی کردار رہا ہے اور چار بار تو فوجی سربراہ براہ راست اقتدار میں بھی رہے۔

سیاسی قیادت بھی نظامِ حکومت چلانے میں فوج سے تعاون کی خواہاں رہی ہے، لیکن اس کے باوجود فوج کے سیاست میں کردار پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔

گذشتہ برس کے اختتام پر پاکستانی فوج کے سابق سربراہ قمر جاوید باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ایک خطاب میں کہا تھا کہ عسکری قیادت نے طویل سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی اور فوج اب ’غیر سیاسی‘ ہو چکی ہے۔

ان کے اس فیصلے کو سراہا گیا، تاہم اب بھی فوج کا کردار ملکی سیاست میں نظر آتا ہے، لیکن کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت ماسوائے سابق وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف کے اس کردار پر معترض نظر نہیں آتی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اگرچہ اب فوج پر تنقید کر رہی ہے لیکن جب عمران خان خود وزیراعظم تھے تو فوج کی طرف سے حکومت کو حاصل حمایت کو سراہتے رہے۔

فوج کے ریٹائرڈ افسران کی تنظیم (پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی) کے سربراہ اور دو وزرائے اعظم کے ملٹری سیکریٹری رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ آئین کے مطابق تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج چونکہ انتہائی منظم اور فعال ادارہ ہے، اس لیے صرف سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ ملک کی سلامتی سے جڑے تمام معاملات میں افواج پاکستان کا کردار اہم رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کہتے ہیں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم کی ملک کو چلانے میں ’مکمل اتھارٹی ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ اس کی ذمہ دار ہونی چاہیے، لیکن مسلح افواج کی رائے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اِن پٹ حکومت کو ملنی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ملک کی بہتری کے لیے سیاسی حکومت اور فوج کے تعلقات میں توازن ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے، ’لیکن یہ کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں کہ فوج اثرانداز ہو کر حکومت بنائے یا گرائے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بتایا کہ اگر سیاسی حکومتوں کی گورننس بہتر نہیں ہو گی تو اس سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے نچلی سطح پر فعال ہونے کے سبب ان کی جڑیں کمزور رہی ہیں اور اسی بارے میں سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت تو مانتی ہیں لیکن عام آدمی ان کی ترجیحات میں نہیں ہوتا۔

’جب آپ عام آدمی کی تائید اور حمایت کی وجہ سے اقتدار میں آنے کی بجائے چور دروازوں کو ترجیح دیں گے اور ان کی بنیاد پر اقتدار میں آئیں گے تو پھر آپ کو ان کو جواب دہ بھی ہونا پڑے گا اور عوام سے کنارہ کشی بھی کرنی پڑے گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلمان غنی کہتے ہیں کہ جب تک سیاست دان اور سیاسی جماعتیں خود کو عام آدمی کے مسائل سے نہیں جوڑیں گی، نہ تو وہ خود مضبوط ہو سکیں گی اور نہ ہی عوامی طاقت کی بنیاد پر حکومت چلا سکیں گی۔

دوسری جانب سابق سفیر جاوید حفیظ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو ’قدم جمانے میں‘ ابھی وقت لگے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج کے مضبوط ہونے کی دو تین وجوہات ہیں۔ ’ایک تو ہمیں 1947 میں برٹش انڈیا سے بڑی منظم اور تربیت یافتہ فوج ملی۔ پھر یہ خود بڑا منظم ادارہ ہے جس میں چین آف کمانڈ بہت کلیئر ہوتی ہے۔ جونیئر ہمیشہ سینیئر کا حکم مانتا ہے۔ تربیت بہت اچھی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مختلف سیاست دانوں نے کوشش کی ہے کہ وہ آزادانہ فیصلے لیں اور ڈیفائی یعنی انکار کریں۔ ’ڈیفائی کرنا ضروری نہیں ہے دونوں کو مل جل کر چلنا چاہیے۔‘

بقول جاوید حفیظ: ’ہمارے ہاں فوجی حکومتوں کی ایک لیگسی ہے، اس کی وجہ سے سویلین اداروں پر فوج کا سایہ نظر آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں کمزور ہیں، ان کے اندر جمہوریت نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے بلدیاتی اداروں اور طلبہ تنظیموں کا فعال ہونا ضروری ہے کیونکہ اسی صورت میں نئی سیاسی قیادت پروان چڑھ سکتی ہے۔

اب جبکہ پاکستان میں 12ویں عام انتخابات سر پر ہیں، 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا سویلین حکومت اور فوج کے درمیان پایا جانے والا عدم توازن درست ہو پائے گا؟

ملک کی سیاسی قیادت کی جانب سے کہا تو جاتا رہا ہے کہ ملک کی سلامتی میں فوج کا کردار ایک حقیقت ہے لیکن وہ سیاست میں فوج کی براہ راست مداخلت کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ملک کا ایک ایسا ادارہ، جس کا اہم فیصلوں میں ہمیشہ کردار رہا ہے، اس کا مکمل خاتمہ تو ممکن نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں فوج کو آئین کے مطابق اپنی حدود میں رہنا ہوگا، وہیں ملک کی سیاسی حکومتوں کو بھی دیگر اداروں کو مضبوط کر کے فعال بنانا ہو گا تاکہ عمومی معاملات میں ان کا فوج پر انحصار کم ہو۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button