fbpx
خبریں

سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں بڑے دعوے، لیکن کیا ان پر عمل ممکن ہے؟

پاکستان میں آٹھ فروری کو عام انتخابات قریب آ رہے ہیں اور ایسے میں سیاسی جماعتیں اپنے جلسوں میں ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے ملکی مسائل کے حل اور پرکشش منصوبوں کا اعلان کر رہی ہیں۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی صورت میں مہنگائی سے پریشان عوام کو 300 بجلی کے یونٹ مفت فراہم کرنے کے دعوے کر رہی ہیں۔

اسی طرح کہا جا رہا ہے کہ میڑو بس کا روٹ لاہور سے قصور تک بڑھایا جائے گا، نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں گی، تنخواہیں دگنی ہوں گی اور لوگوں کو گھر بنا کر دیے جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ حکومت میں آنے کی صورت میں کرپشن ختم کرنے کے ساتھ ساتھ شفاف نظام نافذ کرے گی جبکہ دیگر جماعتیں دعوی کر رہی ہیں کہ عوامی مسائل کا حل انہی کے پاس ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان انتخابی وعدوں پر عمل درآمد ہونے کے کتنے امکانات ہیں؟

مختلف شعبوں کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ جب تک عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے معاہدے برقرار ہیں، مستقبل کی حکومت اپنے وعدے فوری طور پر پورے کرنے کی قابل نہیں ہو گی۔

بجلی کے 300 یونٹ مفت فراہم کرنے کے دعوؤں کے حوالے سے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے سابق چیف ایگزیکٹیو مجاہد پرویز چٹھہ نے بتایا کہ ’پاکستان میں جن ذرائع سے بجلی تیار ہو رہی ہے اس کی قیمت برقرار رکھنا مشکل ہے۔ اس حالت میں بجلی کی قیمت تک کم نہیں ہو سکتی تو مفت کیسے دی جا سکتی ہے؟‘

انھوں نے بتایا کہ ایک طریقہ سستی بجلی بنانا ہے جو صرف ڈیم بنانے سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اتنی جلدی نہیں ہو گا۔

’دوسرا یہ کہ دیگر ممالک کی طرح ہم بھی زیادہ سے زیادہ شمسی توانائی (سولر انرجی) پر منتقل ہوجائیں۔ وہ بھی فوری مشکل ہے۔‘

مجاہد پرویز چھٹہ کے مطابق وہ حاضر سروس تھے تو سنتے آ رہے ہیں کہ ہم ٹیوب ویل اور کارخانے شمسی بجلی پر منتقل کر رہے ہیں۔ ’مجھے ریٹائر ہوئے تین سال ہو گئے ابھی تک کچھ نہیں ہو سکا حالانکہ ونڈ انرجی کا آپشن بھی استعمال ہوسکتا ہے مگر اس طرف کسی کی توجہ نہیں گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز جب وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو انہوں نے 100 یونٹ تک بجلی مفت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ’اس وقت طے ہوا تھا کہ حکومت پنجاب اپنے فنڈز سے سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل ادا کرے گی۔

’بل ادا کرنے سے پہلے ہی ان کی حکومت چلی گئی۔ یہ کوئی مستقل حل نہیں، عارضی ریلیف ضرور ہو سکتا ہے کہ ایک طرف سے پیسہ نکال کر دوسری طرف ڈال دیا جائے لیکن ایسا کب تک ہو گا؟‘

اسی طرح سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ حکومت میں آ کر لاہور سے قصور تک میٹرو بس کا روٹ بڑھائیں گے لیکن کیا یہ عملی طور پر ممکن ہے؟

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے جنرل مینیجر عزیر شاہ نے اسے مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ میٹرو بس پہلے ہی دو ارب 30 کروڑ روپے سالانہ خسارے میں چل رہی ہے۔

’اگر روٹ کو گجومتہ سے قصور تک بڑھایا جائے تو اس پر لاگت بہت آئے گی۔ دوسرا یہ کہ اس طرف روٹ پر آبادی نہ ہونے کی وجہ سے سواری نہیں ہوگی۔ پہلے ہی اس طرف سے شام اور صبح کے علاوہ سواری نہیں ہوتی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عزیر شاہ کے بقول اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروس لاہور ماس ٹرانزٹ کے تحت چلتی ہیں جس میں دو مذید لائنز کا اضافہ ہونا ہے۔

’پرپل اور بلیو لائن مکمل ہونے تک لاہور میں ٹرانسپورٹ منصوبہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس میں تاخیر ہوتی رہی آئندہ حکومت کو سب سے پہلے اس پر کام کرنا ہوگا۔‘

ن لیگ اور پی پی پی کی طرح پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جے یو آئی سمیت دیگر جماعتیں بھی ملک کے شدید معاشی مسائل حل کرنے کی دعوے دار ہیں۔

تاہم ماہر معیشت الماس حیدر پوچھتے ہیں کہ سیاسی لیڈر اتنے بڑے بڑے وعدے تو کر رہے ہیں لیکن عوام اور میڈیا ان سے پتہ کریں کہ بڑے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

الماس کے بقول: ’سیاسی لیڈر جو مرضی وعدے کرتے رہیں جب تک آئی ایم ایف کا معاہدہ برقرار ہے یہ اپنی مرضی سے سبسڈی تک نہیں دے سکیں گے۔

’منصوبوں کے لیے خطیر رقم چاہیے۔ قرض تو پہلے ہی اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کی قسط دینے میں ہمارا بجٹ متاثر ہوجاتا ہے۔‘

الماس کے مطابق: ’عوام کو سہولت دینا ہر حکومت کی یقینی طور پر ترجیح ہوتی ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے کئی وعدے پورے کیے بھی ہیں۔ لیکن بیشتر صرف وعدے ہی رہ گئے عملی طور پر کسی کو کچھ نہیں مل سکا۔‘

الماس حیدر کے مطابق ماضی کی حکمران جماعتوں نے کسی نہ کسی صورت اپنے حجم کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی لیکن اس بار معاملہ یہ ہے کہ معاشی حالات بہت برے ہیں اس لیے آئندہ حکومت کو ان چیلنجز سے نمنٹنا ہوگا۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button