fbpx
خبریں

جنوبی وزیرستان: سب سے کم ٹرن آؤٹ کی وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے حلقہ پی کے 109 میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب صرف 11.9 فیصد اور اسی ضلع کے حلقہ این اے 42 میں 16 فیصد رہا ہے جو کہ ملک بھر میں سب سے کم ڈالے گئے ووٹوں کی شرح ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 42 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چار لاکھ 67 ہزار 292 ہے جس میں صرف 76 ہزار 330 افراد نے ووٹ ڈالا ہے۔

ڈالے گئے ووٹوں میں 17 ہزار 588 خواتین شامل ہیں جو مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کی 23 فیصد ہے۔

اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار زبیر خان کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے 20 ہزار 22 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اگر جیتنے والے امیدوار کے ووٹوں کا تناسب نکالا جائے، تو حلقے کے صرف 26 فیصد لوگوں نے کامیاب امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

اسی طرح اگر صوبائی اسمبلی کی حلقے پی کے 109 کی بات کی جائے تو اس حلقے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار آصف خان نے 11 ہزار 519 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے ہے۔

حلقہ پی کے 109 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 92 ہزار سے زیادہ ہے جس میں صرف 34 ہزار 844 افراد نے ووٹ ڈالا ہے۔ ان میں آٹھ ہزار 945 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

کامیاب امیدوار کے ووٹوں کا تناسب نکالا جائے تو انہوں نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے 33 فیصد ووٹ حاصل کیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ان حلقوں کے 2019 میں قبائلی اضلاع میں ضم ہونے کے بعد صوبائی حلقوں میں انتخابات میں ووٹوں کی شرح دیکھا جائے تو اس میں بھی یہ شرح کم دیکھی گئی ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ایک حلقے میں 2019 میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 16.1 فیصد تھی جو اب کچھ بڑھ کر 16.9 فیصد ہو گئی ہے لیکن مبصرین کے مطابق یہ پھر بھی بہت کم شرح ہے۔

اسی طرح اس ضلع کے دوسرے صوبائی حلقے میں 2019 کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 22.65 فیصد تھی جو اب 2024 میں 24 فیصد ہو گئی ہے۔

اگر 2019 اور اب 2024 کے انتخابات کو دیکھا جائے تو جنوبی وزیرستان کے ان حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح بہت کم ہے۔

کم ٹرن آؤٹ کی وجہ کیا ہے؟

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی صحافی نصیر اعظم جو انتخابات کے دن اپنے علاقے میں انتخابات کی کوریج کر چکے ہے نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم ٹرن آؤٹ کی بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کا ملک کے دوسرے شہروں میں آباد ہونا ہے۔

نصیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’شدت پسندوں کے خلاف مختلف آپریشنز میں یہاں لوگوں کے گھر تباہ ہوئے تھے اور اب وہ کئی سالوں سے دوسرے شہروں میں آباد ہیں جبکہ ووٹ ان کا اپنے علاقے میں رجسٹرڈ ہے۔ ‘

جنوبی وزیرستان کے زیادہ تر لوگ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، پشاور، لاہور اور کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ان کا ووٹ اپنے آبائی علاقوں میں ہی رجسٹرڈ ہے۔

نصیر اعظم نے انتخابات میں عوام کی دلچسپی کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کراچی اور لاہور میں آباد محسود لوگ ووٹ ڈالنے یہاں آئے تھے اور جو موجود تھے، انہوں نے ووٹ ڈالا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہوئی تھی تو وہاں مشکلات کے باوجود ووٹ ڈالا گیا جبکہ اس دفعہ خواتین بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلی تھیں۔ عوام کی ایسی دلچسپی ماضی کے انتخابات میں نہیں دیکھی گئی ہے۔‘

الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے ترجمان محمد سہیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ الیکشن کمیشن قوانین میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ جہاں ٹرن آؤٹ کم ہو تو وہاں انتخابات ملتوی یا دوبارہ کیے جائیں گے۔

سہیل خان نے بتایا کہ ’خواتین کے حوالے سے قانون ضرور موجود ہے اور جہاں پر ڈالے گئے ووٹوں میں خواتین کی شرح 10 فیصد سے کم ہو تو الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہاں انتخابات دوبارہ کرائے جائیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمود جان پشاور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ہیں اور قبائلی اضلاع کی سیاست پر نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان علاقے کو برسوں سے ایک ’وار زون‘ کے طور پر ڈیل کیا جاتا ہے اور دوسری بات کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر دیگر علاقوں میں آباد ہیں۔

محمود جان نے بتایا کہ ’ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے علی وزیر اس علاقے سے رکن قومی اسمبلی تھے لیکن وہ اپنے ٹینیور میں زیادہ تر جیل ہی میں رہے تو عوام بھی اس نظام سے مایوس ہو گئے ہیں۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ خواتین کی کم سے کم شرح یقینی بنانے کے لیے قانون تو موجود ہے لیکن مجموعی ٹرن آؤٹ کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آہستہ آہستہ یہ معاملات جب ہائی لائٹ ہوں گے تو قانون سازی بھی اس کے لیے کی جائے گی۔‘

سب سے کم ٹرن آؤٹ والے صوبائی حلقے سے غیر حتمی نتیجے کے مطابق نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی آصف خان نے بتایا کہ ’ہمارا حلقہ پورے پاکستان میں بہت مشکل حلقہ ہے کیونکہ ایک تو برف باری ہوئی تھی اور دوسری وجہ وہاں کے آبادی کا زیادہ تر دیگر شہروں میں رہائش پذیر ہونا ہے۔‘

آصف خان نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے طور پر بھرپور کوشش کی تھی کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور دیگر متصل اضلاع میں رہنے والوں کو سہولت فراہم کر کے ووٹ کے لیے لایا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’جتنا ہم سے ہو سکا ہم نے ووٹرز کو سہولت دی تاکہ ووٹ کا فریضہ سر انجام دے سکیں لیکن پھر بھی لوگ رہ گئے تھے۔ آپریشن کے بعد آٹھ سالوں سے ہمارے حلقے کے لوگ دیگر شہروں میں آباد ہیں کیونکہ ان کے گھر مسمار ہو چکے ہیں۔‘




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button