fbpx
خبریں

جشنِ ریختہ: جب پاکستانی ادب کی ’نمائندگی‘ ماہرہ خان نے کی

ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

کمال کی بات کہ اس شعر کی صحت دیکھنے کے لیے بھی یادداشت سے زیادہ ’ریختہ‘ پہ بھروسہ کیا۔ خیر ریختہ کہ ویب سائٹ اب کیا سے کیا ہو گئی ہے یہ بتانا ایک غیر ضروری تفصیل ہے۔ ذکر ہی جشن ریختہ کا جو اس بار دبئی میں منعقد ہوا۔

سنجیو صراف صاحب نے جب ریختہ شروع کی تو آج کا دن شاید ان کے گمان میں بھی نہ ہو لیکن تہذیبیں اور زبانیں بہت ڈھیٹ ہوتی ہیں، دریاؤں کی طرح ان کو اپنا راستہ مل ہی جاتا ہے ۔

گنگا جمنی تہذیب کی نقیب انڈیا میں جبر کا شکار اور پاکستان میں سرکاری زبان ہونے کے باوجود خطرے سے دوچار اردو کا جشن جب دبئی میں سجا تو اس کے لیے پاکستان سے بھی کچھ لوگوں کو مدعو کیا گیا۔

ظاہر ہے اردو کا ذکر دونوں ملکوں کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ لٹریچر فیسٹیول کی ایک روایت بنتی جا رہی ہے کہ انہی لوگوں کو بار بار زحمت دی جاتی ہے جو پہلے بھی کئی بار کسی نہ کسی جشن میں نظر آتے رہتے ہیں۔

اس میں کچھ خاص برائی بھی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں سٹیج پہ بیٹھنا، لوگوں سے بات کرنا اور ان کو تفریح فراہم کرنا آتا ہے۔ سو اس جشن میں بھی پاکستان سے زیادہ تر وہی لوگ مدعو کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ، زہرہ نگاہ، تہذیب حافی، عباس تابش، عدیل ہاشمی، عنبرین حسیب عنبر، انور شعور، بی گل، ماہرہ خان، ثمینہ پیرزادہ، عثمان پیرزادہ، عابدہ پروین اور شفقت علی خان۔

جنوری کا مہینہ دبئی میں خوشگوار ہوتا ہے لیکن اس بار کچھ زیادہ خوشگوار تھا۔ سڑکوں کے کنارے آتشی گلابی پٹونیا کے پھولوں نے آگ سی دہکا رکھی تھی۔ مطلع ابر آلود تھا اور 28 کی صبح ہلکی بارش بھی ہوئی۔

یہ جشن زعبیل پارک دبئی میں ہو رہا تھا۔ ہمارے دوست شعیب شاہد صاحب جو کچھ عرصہ پہلے تک ریختہ کا حصہ تھے، کچھ برس پہلے کسی کتاب کے سلسلے میں مجھ سے رابطے میں تھے۔ ان سے شرکت کے لیے پوچھا تو انہوں نے گپتا صاحب کا نمبر دیا جو یہ سارا معاملہ دیکھ رہے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مگر اس دل کا کیا کیجیے جو خلیفہ ہارون رشید کی طرح بھیس بدل کے اپنے ہی دوستوں کو دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اس جشن میں نیا کیا پیش کر رہے ہیں۔

ہر شخص کا ذخیرہ الفاظ اور موضوعات محدود ہی ہوتے ہیں، ایک برس میں دنیا کے حالات بھی بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوتے اس لیے یہ توقع تو عبث تھی۔ خوشی اس بات کی تھی کہ دبئی میں موجود اردو کے چاہنے والے اسی طرح شریک ہوئے جو شریک ہونے کا حق تھا۔

باتیں، لفظ، خوبصورت موسم اور حسین شہر۔ عربوں کو جب بھی جہاں بھی موقع ملا انہوں نے شہر بسائے، ہنر مندوں کی تکریم کی اور تہذیب کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔

تو ہم سندھ اور گنگا کی ودایوں کے باسی، اپنے ملکوں میں لڑ جھگڑ کے، ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ کے کسی اور کی سرزمین پہ اپنے زبان کا جشن مناتے ہوئے عجیب بھی لگے اور پیارے بھی۔

یہ سب لوگ مجھے کسی لائٹ ہاؤس پہ چند لمحوں کو سستاتے وہ پرندے لگے، جو اپنے دیس سے آ رہے ہیں اور جانے کہاں کہاں ہجرت کرنے پہ مجبور ہیں، لیکن لمحہ بھر کو یہاں بیٹھ کے اپنی بولی میں دکھ سکھ کر رہے ہیں۔

سیشنز بھرپور تھے۔ دبئی کی آبادی میں غیرملکی اور خاص کر پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیشی بہت تعداد میں موجود تھے۔ کئی جانے پہچانے پاکستانی اور انڈین بھی کچھ تو وہیں نظر آئے، باقیوں کے سوشل میڈیا پہ پوسٹ دیکھ کے اندازہ ہو گیا کہ دبئی والوں نے اس جشن کو واقعی جشن کی طرح منایا۔

ماہرہ خان نگاہوں کا مرکز تھیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ہر جگہ سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ کمیونٹی کو مل بیٹھنے کا موقع ملے جہاں وہ کہانیوں پر بات کریں، شعر و شاعری ہو، مذاق ہو۔ ہنسی خوشی ہم ایک ساتھ بیٹھا کریں۔‘

زبانوں کو دیس نکالا دے دیا جائے تو ان کے ساتھ ہی تہذیب بھی ہجرت کر جاتی ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ اردو کی یہ بستیاں جو برصغیر کے باہر آباد ہو رہی ہیں اردو زبان اور تہذیب کو بچائے رکھیں گی۔ لیکن آج یہ محسوس ہوا کہ اردو ہی یہ بستیاں بسا رہی ہے اور مختلف قومیتوں کے لوگوں کو آپس میں منسلک کر رہی ہے۔

جب بہت سے اردو بولنے والے اکٹھے ہو جائیں تو ایسے سرسامی اور انقلابی خیالات کے علاوہ مجھے سخت بےموقع شعر بھی یاد آجاتے ہیں سن لیجیے:

سب میرے چاہنے والے ہیں میرا کوئی نہیں
میں بھی اس ملک میں اردو کی طرح رہتا ہوں

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button