fbpx
خبریں

ججوں کے خلاف مہم پر اب تک جو کارروائی ہوئی قانونی تھی: نگران حکومت

نگران وفاقی وزیر برائے اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے اتوار کو کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف پچھلے دنوں چلائی گئی مہم پر اب تک جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے دائرہ میں رہ کر کی گئی۔

انہوں نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز اور بہتان تراشی پر مبنی مہم چلائی گئی، جس پر وزارت داخلہ نے 16 جنوری کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی۔

یہ کمیٹی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 (تفتیش کے اختیار سے متعلق) کے تحت تشکیل دی گئی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو، اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے نمائندے اور کوئی ایک شریک رکن شامل ہیں۔

مرتضیٰ سولنگی کے مطابق جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 17 جنوری کو اور دوسرا اجلاس 23 جنوی کو ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں تاحال سوشل میڈیا کے تقریباً 600 اکاﺅنٹس کی تحقیقات ہوئیں اور تقریباً 100 انکوائریاں رجسٹر کی گئیں۔

نگران وزیر نے کہا کہ تقریباً 110 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے جن میں تقریباً 22 سیاسی کارکنان یا سیاست دان اور تقریباً 32 صحافی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک قانون کے تحت صرف نوٹس جاری کیے گئے ہیں، نہ کسی کو ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اب تک جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی اور عدالت اور قانون اپنا راستہ خود لے گا۔

مرتضیٰ سولنگی کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں، اس پر مناسب پابندیاں موجود ہیں۔ ’سپریم لا آف لینڈ میں درج ہے کہ آرمڈ فورسز اور عدلیہ کے خلاف آئین اور قانون کے دائرہ سے باہر مہم نہیں چلا سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بات تنقید کی نہیں، بات تضحیک اور کردار کشی کی ہو رہی ہے۔ ’پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کسی طور بھی تنقید کے زمرے میں نہیں آتی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف ’توہین آمیز اور غلط معلومات  کی تشہیر‘ کرنے پر 65 افراد کو نوٹسز بھیجے ہیں، جن میں شامل 47 صحافیوں اور یوٹیوبرز کو 30 اور 31 جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔

جن صحافیوں کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیے ان میں مطیع اللہ جان، سرل المیڈا، اقرار الحسن، شاہین صہبائی، ثمر عباس، عدیل راجہ، صابر شاکر، ثاقب بشیر، عمران ریاض اور فہیم ملک شامل ہیں۔

اسی طرح یوٹیوبرز میں اسد طور، صدیق جان، ملیحہ ہاشمی کو طلب کیا ہے جبکہ وکیل جبران ناصر کو بھی ایف آئی اے نے بلایا ہے۔

پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ (پاس) نے گذشتہ روز ایک اعلامیے میں بتایا کہ پاس اور ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے ایک مشترکہ اجلاس میں نوٹسز کے معاملے کا جائزہ لیا۔

اعلامیے کے مطابق آزاد عدلیہ کی طرح آزاد صحافت بھی جمہوریت کے فروغ کے لیے لازم ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ دونوں تنظیمیں نوٹسز کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہیں کہ صحافیوں کو ایسے اقدامات کے ذریعے ہراساں نہ کیا جائے اور نوٹسز واپس لیے جائیں بصورت دیگر تمام صحافتی تنظیمیں مل کر اگلا لائحہ عمل طے کریں گی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہفتے کو پریس ایسوسی آف سپریم کورٹ (پاس) اور ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ایک اعلامیے کا نوٹس لیا ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button