fbpx
خبریں

بلوچستان میں بیلٹ پیپرز کی فضائی راستے سے ترسیل شروع :صوبائی الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن بلوچستان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے سلسلے میں بلوچستان کے بعض علاقوں میں بیلٹ پیپرز کی فضائی راستے سے ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اعظم الفت کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ صوبے کے جن علاقوں کو فضائی راستے سے ترسیل شروع کردی گئی ہے ان میں زیادہ تر علاقے مکران ڈویژن میں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گوادر، پنجگور، کیچ اور خاران میں بھی بیلٹ پیپرز ایئر لفٹ کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بیلٹ پیپرز ہیلی کاپٹر اور سی ون تھرٹی کے ذریعہ بھجوائے جائیں گے۔‘

’بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے اوربذریعہ سڑک بھی علاقوں کو بیلٹ پیپرز کی ترسیل جاری ہے جبکہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے لیے تین فروری تک مجموعی طور پر 26 کروڑ بیلٹ پیپرز شائع کیے جا چکے ہیں۔‘

دوسری جانب مچھ حملے کے پانچ روز بعد بلوچستان میں ریلوے سروس بحال کر دی گئی اور صوبہ بلوچستان سے اندورن ملک کے لیے ٹرین سروس بحال کر کے ہفتے کو کوئٹہ سٹیشن سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس مسافروں کو لے کر روانہ ہو گئی۔

 ریلوے حکام کے مطابق بولان میل شیڈول کے مطابق پانچ فروری کو کراچی کے لیے روانہ ہو گی۔

پانچ روز قبل امن و امان کی صورت حال کے باعث ریلوے حکام نے مسافروں اور ٹرین کی حفاظت کے پیش نظر ٹرین سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔


کوٹئہ میں تخریب کاری کے خدشات کے بعد سکیورٹی الرٹ جاری

ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ میں تخریب کاری اور خاتون خودکش بمبار کے حملے کے خطرے کے پیش نظر دارالحکومت میں انتخابی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ جبکہ کوئٹہ میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پربھی پابندی عائد کردی گئی۔

نامہ نگار اعظم الفت کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی تاکیدی مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انتخابات کے حوالے سے کوئٹہ کے تمام انتخابی حلقوں میں سیکورٹی تھریٹ جاری کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ کی تین قومی نشستوں این اے 262، 263، 264 جبکہ صوبائی اسمبلی کی نو حلقوں پی بی 38، 39، 40، 41، 42، 43، 44، 45، 46 میں سیکورٹی تھریٹ جاری کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’دارالحکومت کوئٹہ کے تمام انتخابی حلقوں میں امیدواروں پر تخریب کاری، خاتون خودکش بمبار کے حملوں کے پیش نظر انتخابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔‘

ڈی سی کوئٹہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی امیدوار کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوس اور عوامی اجتماعات سے گریز کریں۔

کوئٹہ میں بم دھماکوں کے بعد موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق پابندی پانچ فروری تک رہے گی۔ تاہم خواتین، بچے اور بزرگ شہری اس پابندی سے مستثنٰی ہوں گے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر حکام نے پہلے سے ہی امیدواروں کو انتخابی مہم محدود کرنے کی ہدایت کردی گئی تھی جس کے بعد صوبے کے ڈپٹی کمشنرز نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تربت، آواران، لورالائی، حب، کوہلو، ضلع ڈیرہ بگٹی، زیارت اورسبی کے الیکشن امیدواروں کو انتخابی مہم اور اجتماعات محدود کرنے اور جلسے جلوس کے بجائے کارنرز میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔

تاہم ہفتے کی رات کوئٹہ بھر میں انتخابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان یونیورسٹی کے ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی سختی سے تاکید کرنے کا مراسلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ نے یونیورسٹی کے اساتذہ، پروفیسرز اور دیگر سٹاف کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں/اجتماعات میں شرکت کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ عمل یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔‘

ایک سرکولر میں کہا گیا کہ ’یونیورسٹی کے تمام ملازمین (انتظامی/تعلیمی ماہرین) کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے طریقوں سے پرہیز کریں اور کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی میں خود کو شامل نہ کریں۔‘

سرکولر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں، اگر رپورٹ ہوئی تو ان کے خلاف یونیورسٹی آف بلوچستان ای اینڈ ڈی رولز کے تحت سخت تادیبی کارروائی شروع کی جائے گی۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button