fbpx
خبریں

برطانیہ اور امریکہ کے یمن میں حوثی ٹھکانوں پر تازہ فضائی حملے

برطانیہ اور امریکہ نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر پھر فضائی حملے کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی اور امریکی جنگی طیاروں کی مشترکہ کارروائی میں حوثیوں کے میزائل سٹوریج کے مقامات اور لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہازوں پر حملے شروع ہونے کے بعد سے ان عسکریت پسندوں کے خلاف مربوط حملوں کا یہ دوسرا مرحلہ ہے۔

پیر کی رات کیے گئے حملے 10 روز قبل امریکہ اور برطانیہ کے پہلے مشترکہ آپریشن کے مقابلے میں بہت محدود تھے، جس میں حوثیوں کے زیرانتظام یمن کے طول و عرض میں 60 مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں اس گروپ کے خلاف بڑے حملوں کے باوجود بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے اہم تجارتی راستوں پر بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ابتدائی طور پر حوثیوں نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں مشکلات کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے اپنے میزائل حملوں میں برطانوی اور امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

ایک مشترکہ بیان میں امریکہ، برطانیہ، بحرین، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیدرلینڈز کی حکومتوں نے کہا ہے کہ ’درست حملوں‘ کا مقصد حوثیوں کی ان صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں کم کرنا ہے جو وہ عالمی تجارت اور بے گناہ میرینز کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ حملوں میں حوثیوں کے زیرانتظام یمن کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں اور امریکی بحریہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جنہیں نشانہ بنایا گیا ان میں ’میزائل سسٹم اور لانچرز، فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور ہتھیار ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ جیسے مخصوص اہداف شامل ہیں۔

یہ مشترکہ فضائی حملے پیر کی شام وزیر اعظم رشی سونک اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد کیے گئے تھے، جس میں دونوں رہنماؤں نے حوثیوں کے حملے روکنے اور ناکام بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا تھا۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے پیر کو وائٹ ہاؤس کی روزانہ کی پریس بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ رشی سونک اور بائیڈن نے ’بحیرہ احمر میں جو کچھ ہو رہا ہے اور حوثیوں کی صلاحیتوں کو روکنے اور کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کثیر الجہتی نقطہ نظر جاری رکھنے کی ضرورت‘ کے بارے میں بات چیت کی۔

برطانوی افواج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے علاوہ، امریکہ نے حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر سات فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ان کے زیرانتظام فضائی اڈوں اور مشتبہ میزائل لانچ مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس کا کہنا تھا، ’ہم نے اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے دفاع میں حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کی صلاحیتوں کو کم کرنے کے مقصد سے کی گئی اس کارروائی سے ان کے محدود ذخیرے اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو ایک اور دھچکا لگے گا۔‘

رواں ماہ کے شروع میں خلیج عدن میں ایک علیحدہ آپریشن کے نتیجے میں امریکی بحریہ کی سپیشل فورسز کے دو آپریٹرز لاپتہ ہوگئے تھے، جنہیں پینٹاگون نے ناکام امدادی کوششوں کے بعد مردہ قرار دیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں امریکی ایرانی جدید روایتی ہتھیار لے جانے والے ایک غیر قانونی جہاز میں سوار ہونے کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے کہا کہ امریکہ اپنے دو نیول سپیشل وارفیئر جنگجوؤں کی موت پر سوگ وار ہے اور ان کی قربانیوں کا ہمیشہ احترام کرے گا۔

دریں اثنا حوثیوں کی حکمراں کونسل کے رکن محمد البوخیتی نے زور دیا ہے کہ یہ گروپ اپنے حملے اور مغرب کی مخالفت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ اور برطانیہ کی جارحیت سے یمنی عوام کے غزہ کے مظلوموں کے لیے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں نبھانے کے عزم میں اضافہ ہوگا۔ آج جنگ یمن، جو نسل کشی کے جرائم کو روکنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور امریکی-برطانوی اتحاد کے درمیان ہے۔‘

اس سے قبل حوثی تحریک نے خلیج عدن میں امریکی فوجی کارگو جہاز اوشن جاز پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ نے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوشن جاز کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی خبریں ’بالکل غلط‘ ہیں۔

بیڑے نے زور دے کر کہا کہ نیول آپریشنل ہیڈکوارٹرز نے ’اپنی محفوظ ٹرانزٹ کے دوران‘ اوشن جاز کے ساتھ ’مسلسل رابطہ برقرار رکھا۔‘

اضافی رپورٹنگ: ایجنسیاں

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button