fbpx
خبریں

ایران میں نو پاکستانیوں کا قتل: پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کی مذمت

ایران نے ہفتے کو سراوان شہر میں نو پاکستانیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے دشمنوں کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے جبکہ ہفتے کو ہی تہران پہنچنے والے پاکستانی سفیر نے ایرانی صدر کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دیں۔

اتوار کو ایرانی سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ایران سراوان میں ہونے والے مسلح واقعے کی سخت مذمت کرتا ہے جس میں نو پاکستانی شہریوں کی اموات ہوئیں اور تین زخمی ہوئے۔

بیان میں پاکستانی حکومت اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اور پاکستان دشمنوں کو دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ہفتے کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے خبر دی تھی کہ پاکستانی سرحد کے قریب صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر سراوان کے قریب سیرکان میں نامعلوم مسلح افراد نے نو غیر ملکی شہریوں کو قتل کر دیا۔

مہر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ذمہ داری ابھی تک کسی فرد یا گروپ نے قبول نہیں کی۔

تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بلوچ تنظیم حال وش نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ جان سے جانے والے پاکستانی مزدور تھے جو ایک آٹو ورک شاپ میں رہتے اور کام کرتے تھے۔

ویب سائٹ کے مطابق فائرنگ میں تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں ایران میں دہشت گرد حملے میں پاکستانیوں کی اموات پر دکھ ہوا۔

’یہ گھناؤنا حملہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کی جانب سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے۔‘

انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ کارروائی کرے۔

جس کے بعد ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ کو سراوان شہر کے قریب مسلح کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے ملک کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔  ایران اور پاکستان دشمنوں کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد ہفتے کو تہران پہنچنے والے پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دیں۔

تہران میں واقع پاکستانی سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ایران کے ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے دوران ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔‘

پاکستان نے 17 جنوری کو ایران میں تعینات پاکستانی سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر جو اس وقت ایران میں تھے انہیں پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 16 جنوری کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے منگل کو رات گئے تصدیق کی کہ ایران نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں دو بچے جان سے گئے اور تین زخمی ہوئے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی ’بلااشتعال خلاف ورزی کی شدید مذمت‘ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ’ناقابل قبول‘ ہے اور اس کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو خبر دی تھی کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا۔

جس کے بعد پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جبکہ جمعرات 18 جنوری کو پاکستان نے ایران کے اندر واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقعے پر پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’آج صبح (جمعرات) کو پاکستان نے ایران کے اندر ان ٹھکانوں کے خلاف موثر حملے کیے ہیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں کے ذمہ دار ’دہشت گردوں‘ کے زیر استعمال تھے۔‘

راولپنڈی سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’درست حملے، کلر ڈرونز، راکٹوں، بارودی سرنگوں اور سٹینڈ آف ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے جن کے دوران وسیع نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی۔‘

بیان کے مطابق: ’بلوچستان لبریشن آرمی (بی آر اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نامی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جس کا کوڈ نام مرگ بر سرمچار تھا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان فوج کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے جانے والے ٹھکانے بدنام زمانہ ’دہشت گرد‘ استعمال کر رہے تھے جن میں دوست عرف چیئرمین، بجر عرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغر عرف بشام اور وزیر عرف وزی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کے حملے میں نو افراد مارے گئے تھے۔

جس کے بعد پاکستان اور ایران نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد 22 جنوری کو تعلقات کی مکمل بحالی پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے 22 جنوری کو جاری کو ایک اعلامیے  کے مطابق دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد اور تہران کے سفیر 26 جنوری سے اپنی پوزیشن پر واپس کام شروع کر سکیں گے۔ 

اس مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کی دعوت پر ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان 29 کو اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔ 

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button