fbpx
خبریں

ایران میں فائرنگ سے نو پاکستانی قتل، اسلام آباد کا تہران سے تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان نے ہفتے کو ایران میں اپنے نو شہریوں کے قتل کو ’ایک ہولناک اور گھناؤنا واقعہ‘ قرار دیتے ہوئے تہران سے واقعے کی فوری تحقیقات اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹھرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے خبر دی کہ پاکستانی سرحد کے قریب صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر سراوان کے قریب سیرکان میں نامعلوم مسلح افراد نے نو غیر ملکی شہریوں کو قتل کر دیا۔

مہر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ذمہ داری ابھی تک کسی فرد یا گروپ نے قبول نہیں کی۔

تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بلوچ تنظیم حال وش نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ جان سے جانے والے پاکستانی مزدور تھے جو ایک آٹو ورک شاپ میں رہتے اور کام کرتے تھے۔

ویب سائٹ کے مطابق فائرنگ میں تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں کہا کہ ’زاہدان میں ہمارے قونصل ہسپتال جا رہے ہیں جہاں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور وہ طویل فاصلے اور سکیورٹی کی وجہ سے چند گھنٹوں میں وہاں پہنچ جائیں گے۔

’وہ مقامی حکام سے بھی ملاقات کریں گے اور دیگر چیزوں کے علاوہ ان پر زور دیں گے کہ اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی فوری ضرورت ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’ہم اس سنگین معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ سفارت خانہ جلد از جلد لاشوں کو وطن واپس لانے کی پوری کوشش کرے گا۔

’اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے عزم سے نہیں روک سکتے۔‘

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایران میں دہشت گرد حملے میں پاکستانیوں کی اموات پر دکھ ہوا۔

’یہ گھناؤنا حملہ ہمارے مشترکہ دشمنوں کی جانب سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے۔‘

انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ کارروائی کرے۔

ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے نو پاکستانیوں کے ’بہیمانہ‘ قتل پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ پاکستانی سفارت خانہ سوگوار خاندانوں کی مکمل مدد کرے گا۔

’زاہدان میں پاکستانی قونصلر پہلے ہی جائے وقوعہ اور ہسپتال جا رہے ہیں جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ہم نے اس معاملے میں ایران سے مکمل تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔‘

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ کو سراوان شہر کے قریب مسلح کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے ملک کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔  ایران اور پاکستان دشمنوں کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button