fbpx
خبریں

انڈیا: رام مندر کے افتتاح سے مودی کا اہم وعدہ پورا، مسلمان غمگین

شمالی انڈیا کے شہر ایودھیا میں تعمیر کیے جانے والے ایک بہت بڑے ہندو مندر پر تعمیر کی غرض بنا گیا لکڑی کا جال دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو رام مندر کی ’پران پرتیشٹھا‘ (رام مورتی کو مخصوص مقام پر رکھنا) تقریب کی صدارت کریں گے، لیکن مزدور گذشتہ ہفتے بھی آخر میں رہ جانے والا چھوٹا موٹا کام ختم کرنے کے لیے مرکزی گنبد پر چڑھ رہے تھے۔

آخری لمحات میں تیزی سے جاری تیاریاں اور بڑی تعداد میں پولیس کی موجودگی بھی اس متنازع مقام کی طرف آنے والے عقیدت مندوں کا جوش و خروش کم نہ کرسکی، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ہندو دیوتا بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مودی اور ان کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) تیسری بار اقتدار میں آنے کے لیے الیکشن لڑنے سے چند ماہ قبل پیر کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں ہندو قوم پرستوں کے ایک عشرے پر محیط عہد کو پورا کیا۔

وزیر اعظم کے شہر میں ہزاروں مذہبی رہنماؤں اور انڈیا کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی طاقتور شخصیات کے ساتھ آنے کے ساتھ ہی وہ گلیاں جو پہلے گنجان اور خستہ حال تھیں، ان میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

تاہم، شہر کے مسلمانوں اور ملک کی اقلیتی برادریوں کے درمیان یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ جدید ایودھیا میں لوٹنے والی خوشحالی میں تمام مذہبی پس منظر کے باشندے یکساں طور پر شریک نہیں ہیں۔

یہ مندر اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں بابری مسجد جو اس وقت انڈیا کی سب سے بڑی مسجد تھی، کو ہندو ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ بہت سے مسلمانوں کے لیے، یہاں تک کہ جو ماضی سے آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں، یہ جگہ انڈیا کی آزاد تاریخ کے سیاہ ترین واقعات میں سے ایک کی یاد دلاتی ہے۔

ایودھیا کی رہائشی 65 سالہ انوری بیگم کو آج بھی وہ دن یاد ہے جب مسجد کو گرایا گیا تھا: چھ دسمبر 1992۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے جس میں تقریبا 2000 افراد مارے گئے جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔

بیگم اپنے چھ بچوں اور شوہر کے ساتھ اپنے گھر پر تھیں جس کے بعد انہیں بھگا دیا گیا اور اس کے بعد ہونے والے فسادات میں عمارت جل کر راکھ ہو گئی۔ مذہبی کارکنوں یا کار سیوکوں نے صرف ان کے گھر کو آگ نہیں لگائی تھی: ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا تھا، اور ان کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

انہوں نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا: ’ہم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جب کار سیوک آئے اور حملہ کر دیا۔ میرے شوہر نے یہیں جھاڑیوں کے پیچھے چھپنے کا فیصلہ کیا جبکہ میں اور میرے بچے بھاگ گئے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ہجوم نے انہیں بتایا کہ ’وہ پولیس افسر ہیں اور ان کے لیے باہر نکلنے میں بہتری ہے۔ ’جب وہ باہر آئے، تو انہوں نے اسے مار ڈالا۔ ہمیں اس کے جسم کا کوئی عضو نہیں ملا۔ آج تک جلی ہوئی باقیات بھی نہیں ملی ہیں۔ میں نے اسے کم از کم دو، تین دن تک شہر کے آس پاس، ندی کے کنارے تلاش کیا۔ پورا دن، رات کے آٹھ بجے تک [میں نے تلاش کیا]، لیکن مجھے وہ نہیں ملا۔‘

’پولیس نے میری مدد نہیں کی۔ اس کے برعکس، وہ میرے ساتھ دست درازی کرتے تھے، وہ مجھے نہیں ملے یہاں تک کہ ان کی راکھ بھی نہیں(ملی)۔‘

جب وہ دیکھتی ہیں کہ مندر حکومت کی پشت پناہی سے تعمیر کیا جا رہا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ملک کے آئین میں سیکولرازم ہے، ان کے لیے ناانصافی کا احساس ختم کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’انہوں نے مسجد کی جگہ مندر بنا لیا ہے، یہ مجھے تھوڑا پریشان کرتا ہے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ جو ہوا سو ہوا۔ اس کے بارے میں سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

43 سالہ عبدالواحد قریشی اس دن مسجد سے صرف 50 میٹر پیچھے اپنے گھر میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت زیادہ کار سیوک تھے، جو ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس وقت صورت حال بہت نازک تھی۔ اگر کسی کو میری مسلم شناخت کے بارے میں پتہ چلتا، تو وہ مجھے مار ڈالتے۔‘

قریشی ایودھیا سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ایک قریبی شہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں: ہم ایک ہندو پڑوسی کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جو ایک ڈاکٹر تھا۔ انہوں نے ایک ایمبولینس بلائی جس میں ہمارے خاندان کے 17 لوگ چھپ گئے اور انہیں فیض آباد چھوڑ دیا گیا۔

’اس وقت، ہم اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا گھر جلتا ہوا دیکھا۔ لیکن سوچنے کا وقت نہیں تھا۔‘

اس واقعہ کے بعد سے وہ ایک ایسے ملک میں ایک مسلمان کے طور پر اپنی شناخت کا بوجھ محسوس کرتے ہیں جہاں تقریباً 80 فیصد آبادی ہندو ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا مطلب ہے، مجھے چیزوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے کیونکہ میں ایک مسلمان ہوں۔ میری موجودگی اور رہنے کے طریقے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ کچھ بھی کسی بھی وقت پرتشدد ہو سکتا ہے … اس لیے میں خوفزدہ ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر کوئی برا نہیں ہے۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو صرف مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ معاشرے میں ہر غلط چیز کے ذمہ دار وہ ہیں۔‘

انڈیا کی سپریم کورٹ نے 2019 میں ایک تاریخی فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کے لیے متنازع جگہ ہندو گروپوں کو دے دی تھی۔

یہ فیصلہ سنانے والے پانچ ججوں، جنہیں اب تقریب میں مدعو کیا گیا ہے، نے یہ بھی لکھا کیا کہ لاکھوں نہیں تو ہزاروں ہندوؤں کا مسجد کو منہدم کرنا اس کے 1991 کے حکم کی براہ راست خلاف ورزی ہے جس میں متنازعہ مقام کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجد کو ’مسمار‘ کرنا ایک ’سوچی سمجھی حرکت‘ اور ’قانون کی بالادستی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

شمالی ریاست اترپردیش میں 18 کروڑ ڈالر (14 کروڑ پاؤنڈ) کے مندر کے منصوبے کو  عطیات سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے، جبکہ بی جے پی کی ریاستی حکومت، مجموعی طور پر ایودھیا کی تعمیر نو پر اربوں مزید خرچ کر رہی ہے، جو مندر سے آنے والے مذہبی سیاحت کے مستحکم دھارے پر منحصر ہے۔ ایک نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، پارکس، سڑکیں اور پُل سب کچھ مستقبل قریب میں تعمیر ہوں گے۔

وید پرکاش گپتا، جو ایک مقامی سیاست دان اور بی جے پی کے قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں، کہتے ہیں کہ ’ایودھیا ایک عالمی شہر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اور وہاں 495 برسوں کی کفایت شعاری، جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ایک زبردست رام مندر تعمیر ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’پورا ملک اور دنیا خوش ہے کہ ایودھیا میں بھگوان رام آخر کار اپنے گھر میں رہیں گے۔‘

عظیم الشان افتتاح سے پہلے مندر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے عقیدت مندوں میں خوشی دیدنی ہے۔

ایک میڈیکل کانفرنس میں شرکت کے لیے ایودھیا آنے والی ڈاکٹر اور یاتری، سمتا پانڈے کہتے ہیں، ’یہ واقعی خوبصورت تھا۔‘

ان کی دوست سنیتا اگروال جو ان کے ساتھ ہیں، کہتی ہیں، ’یہ شاندار تھا۔‘ اسے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’سب سے پہلے، ہم سبھی ہندو ہیں۔ اس لیے بھگوان رام کو گھر لانا ہمارے مذہب کے لیے لازم ہے۔

’مودی جی جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہمارے مذہب کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ اور یہ نہ قابل تصور تھا کہ اس میں اتنا وقت لگے گا، اور اب ہماری خواہشات پوری ہو رہی ہیں۔‘

ان کے لیے حکومتی سرپرستی ،ہإ اس جگہ مندر کی تعمیر کوئی مسئلہ نہیں ہے، جہاں کبھی مسجد کھڑی تھی۔ نہ ہی وہ اس خیال کے بارے میں فکرمند ہیں کہ انڈیا سیکولرازم کے آئینی وعدے سے دور ہو رہا ہے۔

حکومت کے ایک مذہب کی طرف جھکاؤ کے بارے میں پوچھے جانے پر، وہ کہتی ہیں، ’یہ ایک اچھی بات ہے۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ انڈیا کو ہندو ریاست قرار دیا جانا چاہیے۔’کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جلد یا بدیر ہمیں ایک قرار دے دیا جائے گا۔‘

بی جے پی کے نچلی سطح کے ارکان کے اس طرح کے مطالبات کے باوجود، حکومت انڈیا کو ہندو ریاست قرار دینے کے کسی بھی منصوبے سے انکار کرتی ہے۔ فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب مودی سے اس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’آئین میں ترمیم کی کوئی بھی بات بے معنی ہے۔‘

گپتا کہتے ہیں ’یہ سیکولر لفظ۔ یہ سیکولرازم اصطلاح۔ مجھے سمجھ نہيں آرہی۔ آپ کس سیکولرازم کی بات کر رہے ہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ یہاں کبھی ایک مندر تھا اور یہ ایک بڑا مندر تھا۔ اور ہم ایک ایسا مندر بنانے جا رہے ہیں جو اتنا ہی بڑا تھا۔‘

انہوں نے اے ایس آئی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ، جس کا حوالہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے  2019 کے فیصلے میں دیا تھا۔

اس فیصلے نے اے ایس آئی کے اس دعوے کو تقویت بخشی کہ اس مقام پر ایک مندر ہو سکتا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ آثار قدیمہ کے آزاد ماہرین نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے۔

65 سالہ رام بلاس پانڈے کے لیے بابری مسجد کا انہدام ایک ایسی جدوجہد تھی جو رام مندر کی تعمیر کے ساتھ بالآخر رنگ لے  ہی آئی ہے۔

ایودھیا میں ہندو تنظیموں کے ایک گروپ اور مودی کی انڈیایہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحادی، وشو ہندو پریشد کے تحت کام کرنے والے کار سیوک، وہ ان سینکڑوں کارکنوں میں شامل تھے جو شہر میں ہجوم کو مسجد تک لے جانے کے ذمہ دار تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب پولیس نے کار سیوکوں کو  مسجد کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، تو ہم نے سوتر کے تھیلے، پانی اور کیلشیم ہائیڈرو آکسائیڈ کا استعمال کیا تاکہ ہم آنسو گیس سے متاثر نہ ہوں ۔ ہمیں کار سیوکوں کی معاونت کرنی تھی  اور انہیں آگے لے جانا تھا۔‘

بی جے پی کی نظریاتی شاخ راشٹریہ سویم سیوک دل (آر ایس ایس) کے ساتھ 1983 سے وابستہ ہونے کے بعد، وہ کہتے ہیں کہ ایودھیا میں کارکنوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایودھیا میں آنے والے کار سیوکوں کے کھانے اور رہائش کا خیال  رکھیں، اور شہر کی سڑکوں پر معلومات جمع کریں تاکہ کارکنوں کو اس میں جانے اور رکاوٹیں عبور کرنے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں مسجد مسمار کرنے میں ملوث نہیں تھا۔ لیکن یہ میری ذمہ داری تھی کہ میں ورکرز  کو مسجد تک پہنچنے میں مدد کرنے کے طریقے تلاش کروں۔‘

تین دہائیوں کے بعد بھی انہیں مسجد کو منہدم کرنے والوں کی مدد کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’میں مندر کی تعمیر سے مطمئن ہوں۔ میں اور میرے دوسرے ہندو بھائیوں اور بہنوں نے 40 سال پہلے جو تحریک شروع کی تھی، وہ آخر کار ختم ہو گئی ہے اور بھگوان رام آ رہے ہیں۔ اس سے بہتر کچھ بھی نہیں ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا اصرار ہے کہ مسجد کے انہدام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’یہاں دو برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

’درحقیقت یہاں کے مسلمان ہمارے بھائیوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ہم سبھی [کار سیوکوں] نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ اس وقت رہنے والے مسلم کنبوں کو تشدد متاثر نہ کرے۔‘

لیکن محمد سہراب کا تجربہ ایسا نہیں رہا۔ ایودھیا کے 37 سالہ رہائشی کہتے ہیں، ’آپ کو ہر جگہ امتیازی سلوک محسوس ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ دکان کھولیں گے تو آپ کی شناخت پہلے مسلمان کے طور پر ہوگی اور آپ کا کاروبار نہیں چلے گا۔ اگر آپ ہوٹل کھولتے ہیں، تو لوگ آپ کی دکان پر کھانے کے لیے نہیں آتے۔

’آپ کہیں بھی نہیں جا سکتے، ایک بار جب وہ آپ کو مسلمان کے طور پر پہچان لیتے ہیں… [ہندو] [شہر میں] کہیں بھی جا سکتے ہیں، لیکن مسلمان نہیں۔‘

ایودھیا کے رہائشی ہونے کے باوجود انہیں شک ہے کہ انہیں نو تعمیر شدہ مندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک بار جب انہیں پتہ چل جائے گا کہ مندر میں ایک مسلمان ہے، تو اعتراضات اٹھائے جائیں گے۔ وہ ہم سے پوچھیں گے کہ ہم وہاں کیوں ہیں۔ ہم سے سینکڑوں شناختی ثبوت اور ہمارے جانے کی وجہ پوچھی جائے گی۔ تب بھی جب وہ جانتے ہیں کہ ہمار تعلق اسی شہر سے ہے۔

’وہ کسی قبر، مقبرے یا مزار پر جا سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اگر ہم کسی مندر میں جاتے ہیں، تو بہت سی پابندیاں ہوں گی۔‘

سال 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لیے چھوڑ دی جانی چاہیے، لیکن اپنی نئی مسجد کی تعمیر کے لیے مسلم گروپوں کو زمین کا ایک علیحدہ ٹکڑا دیا جانا چاہیے۔ شہر کی حدود میں دھنی پور گاؤں میں تقریبا 25 کلومیٹر دور، پانچ ایکڑ زمین کی نشاندہی کی گئی تھی، اور اسے اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ کے حوالے کر دیا گیا تھا، جو مسلمانوں کا ایک ریاستی انتظامی ادارہ ہے۔

اس کے باوجود ایودھیا کے زیادہ تر حصوں میں ترقی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، بڑے ہوٹلوں کی بنتی نئی شاخیں اور مقامی لوگ اپنے گھروں کو ہوم سٹے میں تبدیل کر رہے ہیں، لیکن شہر کے مرکز سے دور مسجد کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔

سنی وقف بورڈ کی ایودھیا ضلع کمیٹی کے صدر اعظم قادری کہتے ہیں، ’حکومت نے مسجد کی تعمیر کے لیے مختص پانچ ایکڑ زمین پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ اگر رام مندر جیسی صرف 10 فیصد توجہ مرکوز کی جاتی تو مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہوتا۔‘

ایودھیا شہر میں آنے والے مزید یاتریوں کو جگہ دینے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں سال کے آخر تک روزانہ ایک لاکھ عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔

قادری کہتے ہیں کہ ’یہ بہت اچھی بات ہے کہ یہاں بہت ترقی ہو رہی ہے۔ لیکن ہم اس سے خوش نہیں ہیں۔ مسلمان اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہم نے ترقیاتی کاموں کے بارے میں وزیر اعظم کو خطوط بھی لکھے ہیں۔ انہوں نے نعرہ لگایا: ‘سب کے ساتھ مل کر، سب کے لیے ترقی اور سب کا بھروسہ’۔ لیکن چیزیں اس لائن پر آگے نہیں بڑھ رہی ہیں۔ حکومت کا ہدف صرف ایک کمیونٹی کی ترقی ہے۔‘

دھنی پور کے رہنے والے 45 سالہ محمد سہراب خان مسجد کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ ضروری منظوری حاصل کرنے اور منصوبہ بندی کی اجازت حاصل کرنے میں انتظامی رکاوٹوں کو قرار دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ’ایک بار مسجد کی تعمیر شروع ہونے کے بعد ترقیاتی کام یہاں بھی ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ پانچ میناروں پر مشتمل مسجد ہوگی اور اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا۔ نماز کی اذان کے ساتھ وقت پر فوارے خود کار طریقے سے چلیں گے۔ ایک مفت کینسر ہسپتال کے ساتھ ساتھ لا کالج اور میڈیکل کالج بھی ہوگا۔ وہاں ایک کمیونٹی باورچی خانہ بھی ہوگا۔

ڈیزائن کو ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سال مئی تک تعمیر شروع ہوسکتی ہے۔

’ہمیں امید ہے کہ ایک بار جب یہاں تعمیر شروع ہو جائے گی، تو حکومت بھی یہاں توجہ دے گی۔‘

کم از کم فی الحال، یہ بچوں کے لیے کھیل کا میدان اور بکریوں اور گایوں کے لیے چراگاہ ہے۔

ایودھیا میں، سہراب اس خیال پر  یقین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں ترقیاتی پروجیکٹوں کے درمیان تضاد کے باوجود، شہر آخر کار فرقہ وارانہ تناؤ سے آگے بڑھے گا جو دہائیوں سے اس کی پہچان بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ اس معنی میں ظلم کیا گیا کہ مندر وہاں تعمیر کیا گیا جہاں موجود مسجد کو غیر قانونی طور پر توڑا گیا تھا۔ ایک کمیونٹی کے طور پر، ہم بھی احساس ہے۔ لیکن مذہبی تناؤ کے معاملے میں، میں یہ کہوں گا کہ یہاں سب ٹھیک ہے۔ آخر کار حالات پرامن ہو گئے ہیں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button