fbpx
خبریں

انٹرنیٹ سروسز کی معطلی، سینیٹ داخلہ کمیٹی کا حکام سے وضاحت مانگنے کا فیصلہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز نے جمعے کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ محکموں کو طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے آج (جمعے کو) کمیٹی کے ایک اجلاس کے بعد بتایا کہ اس معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کو پارلیمنٹ ہاؤس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 

محسن عزیز کے مطابق کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ متعلقہ حکام سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسوں سمیت کب کب اور کن وجوہات کی بنیاد پر انٹرنیٹ کی بندش سامنے آئی، پوچھا جائے گا۔

 

ایوان بالا کی داخلہ کمیٹی کا یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا جب آٹھ فروری کو عام انتخابات ہونا ہیں۔

 

20 جنوری کو انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سروسز کئی گھنٹے متاثر رہنے کے بعد بحال ہوئی تھیں۔ اس سے قبل 17 دسمبر اور سات جنوری کو بھی سروسز میں تعطل آنے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے۔ 

 

پی ٹی اے نے 20 جنوری کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر انٹرنیٹ سروس کے متاثر ہونے کو تکنیکی مسئلہ قرار دیا تھا۔

تاہم سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس واچ ڈاگ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر الپ ٹوکر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ یہ بندش ’واضح طور پر منظم‘ تھی اور پی ٹی آئی کے پروگراموں کے دوران پہلے بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی گئیں۔‘

22 جنوری کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ’ملک میں انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ تکنیکی تھی اور اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مستقبل میں ایسا کوئی رخنہ نہیں آئے گا۔‘

سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی نے آج الزام عائد کیا کہ ملک میں پی ٹی آئی کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے ایکس پر پی ٹی اے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عمر سیف کو ٹیگ کرتے ہوئے وضاحت طلب کی کہ ویب سائٹ کو کیوں بلاک کیا گیا ہے؟

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز کا کہنا ہے کہ انتخابات کو قابل اعتماد بنانا چاہیے کیوں کہ دنیا دیکھ رہی ہے، غیر ملکی مبصرین بھی آئیں گے جو چھوٹی چھوٹی چیزیں دیکھیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیٹ کی داخلہ کمیٹی میں آج سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیکا قانون میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا، جس میں چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ملزمان کی سزائیں اور جرمانہ بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

پیکا قانون 2016 کے سیکشن 22 اور 42 میں ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں۔

 

بل میں چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ملزمان کی سزائیں سات سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے اور جرمانہ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی۔

 

سینیٹر ثمینہ کی سفارشات میں ’وفاقی حکومت امریکہ کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا معاہدہ کرے جہاں پاکستان میں استعمال ہونے والی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا ڈیٹا موجود ہونے” کی ترمیم بھی شامل ہے۔ ان تمام سفارشات پر آئیندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

 

ان کی تجاویز پر بھی پی ٹی اے اور آئی ٹی حکام کو طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی رائے دے سکیں۔

 

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button