fbpx
خبریں

انتخابی ریلی میں پیسے نچھاور کرنے پر مسلم لیگ ن تنقید کی زد میں

آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل پاکستان میں اس وقت سیاسی ہلچل ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ملک بھر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے جلسے جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔

جہاں میدان میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، وہیں سوشل میڈیا پر بھی محاذ گرم ہے اور سیاسی جماعت کے کارکن اپنی اپنی پارٹی کو عوامی مقبولیت میں سب سے آگے دکھانے کے لیے سرگرم ہیں۔

اسی دوران گذشتہ روز سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے لاہور کے ایک حلقے کی ویڈیو ایکس پر شیئر کی، جس میں مسلم لیگ ن کی ریلی میں شریک افراد پر پیسے نچھاور ہو رہے ہیں اور لوگ وہ پیسے لوٹ رہے ہیں۔

اس ویڈیو کے ساتھ مریم اورنگزیب نے لکھا: ’لاہور نواز شریف کا ہے اور اُس کا ہی رہے گا بس۔‘

اس ویڈیو پر لوگوں کی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں کچھ لوگ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور پارٹی کے حق میں بات کر رہے ہیں، وہیں کچھ صارفین اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

ڈاکڑ نسیم شریف نے مریم اورنگزیب کی تائید کرتے ہوئے ساتھ میں لکھا: ’نا قابل یقین۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’اتنی خوشی ہو رہی ہے ،ایسا لگ رہا ہے میاں صاحب ہمارے درمیان ہیں۔ 2008 میں میاں صاحب بہارہ کہو آئے تھے اور یہی ماحول دیکھتے دیکھتے وہاں بھی بن گیا تھا۔‘

ایک صارف نے اسے ’غلامی‘ سے تشبیه دیتے ہوئے کہا: ’بادشاہ اور غلام کا تعلق ابھی تک ویسا ہی ہے۔‘

سمرفی ننجا کے نام سے ایکس اکاؤنٹ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ٹیگ کرتے ہوئے نوٹوں کی بارش لکھ کر سوال کیا گیا کہ ’کیا یہ صاف اور شفاف انتخابات ہیں؟‘

ہاشمیات نے مریم اورنگزیب کو مخاطب کرکے کہا: ’ایک بار ویڈیو چلا کر بھی دیکھ لی ہوتی۔‘

حسن شاہ نے اس پوسٹ پر اپنا تجزیہ دیا کہ ’10، 10 روپے کے نوٹ اگر چاہت فتح علی خان بھی چوک میں کھڑا ہو کر بانٹنے لگ جائے تو اتنا میلہ سجا لے گا۔‘

اسی طرح نصراللہ نے بھی اس ویڈیو پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’پیسے دے کر ووٹ نہیں خریدے جاتے اور نہ عوام  اکٹھے کیے جاتے ہیں، یہ تو براتوں میں کیا جاتا ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button