fbpx
خبریں

انتخابات 2024: مسلم لیگ ن کے منشور پر عمل درآمد کتنا ممکن ہے؟

پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات سے 11 روز قبل مسلم لیگ ن نے اپنی جماعت کا منشور پیش کر دیا ہے۔

اس منشور میں بنیادی طور پر مہنگائی ایک سال میں دس فیصد جبکہ پانچ سال میں چار سے چھ فیصد پر لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں انتخابات جیتنے کی صورت میں فی کس آمدنی کا پانچ سال میں ہدف دو ہزار ڈالر، بیروزگاری میں پانچ فیصد جبکہ غربت میں 25 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی طرح پانچ سال میں ایک کروڑ سے زائد نوکریاں دینے، تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بڑھانے، افرادی قوت کی سالانہ ترسیلات زر 40 ارب ڈالر تک پہنچانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن نے عوام سے شمسی تونائی کی پیداوار، زراعت اور صنعتی شعبوں کو فروغ دینے کے وعدے بھی کیے ہیں۔

تاہم ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کے خیال میں مسلم لیگ ن نے جو اپنے منشور میں معاشی پلان دیا ہے وہ ’صرف خواہشات‘ پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے منشور کا ’حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس بدترین معاشی بحران سے ملک کو نکال کر اہداف پورے کرنے کا طریقہ کیا ہوگا۔‘

اسی طرح سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ ’جس طرح ن لیگ کی قیادت تاخیر کر رہی تھی لگتا تھا شاید کوئی بہت بڑا قابل عمل حل منشور میں پیش کیا جائے گا۔ لیکن وہی پرانے وعدے اور سیاسی دعوے کیے گئے ہیں جو تمام سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے کرتی آئی ہیں۔‘

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’نواز شریف کی جانب سے جو آئندہ کا منشور دیا گیا ہے وہ ان کے سابقہ دور کی ترقی کو مدنظر رکھ کر پیش کیا گیا ہے۔ گذشتہ پانچ سالوں میں جو معاشی بحران پیدا ہوا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ان کے پاس فوری ترقی یا مسائل حل کرنے کا کوئی نیا فارمولہ نہیں۔‘

منشور میں نیا کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو ن لیگ نے منشور میں باتیں کیں یہ سب ناممکن ہیں۔ کیونکہ جو خواہشیں کی ہیں وہ پوری کیسی ہوں گی، اس کا روڈ میپ پیش نہیں کیا گیا۔

’جو بھی دعوے کیے گئے ہیں ان میں یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ اب پہلے سے کیا مختلف ہوگا کہ یہ حالات تبدیل ہوجائیں۔‘

ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ ’منشور تو ہمیشہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں پیش کرتی ہیں لیکن الیکشن کے بعد بھول جاتی ہیں۔ سیاسی دعووں کا سہارا صرف الیکشن جیتنے کے لیے کیا جاتا ہے اس پر عمل درآمد میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔‘

سابق نگران وزیر اعلیٰ حسن عسکری نے اس بارے میں کہا کہ ’گذشتہ کئی دہائیوں سے منشور کے نام پر لوگوں کو خواب دکھائے جاتے ہیں، لیکن بعد میں مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔‘

حسن عسکری کہتے ہیں کہ ’ہر چیز سستی کریں گے، برآمدات بڑھا کر درآمدات کم کریں گے، بجلی سستی ہوگی، خوشحالی لائیں گے، یہ دعوے ہر سیاسی لیڈر کی زبانی سننے میں آتے ہیں اور لوگ جذباتی ہو کر یقین کر لیتے ہیں مگر بدلا کچھ نہیں۔ وہی پرانے خواب وہی چہرے۔ نظام بہتری کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ عمران خان نے بھی کیا، اب نواز شریف بھی کر رہے ہیں، بلاول نے بھی نوکریان دینے کا اعلان کیا لیکن جب ان کی حکومتیں تھیں تب کیوں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوئے یہ کوئی نہیں بتاتا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسن عسکری کے خیال میں ’جب تک کوئی سیاسی جماعت برسر اقتدار آنے کے بعد عملی طور پر لوگوں کو اپنی پالیسیوں سے خوش حال نہیں کرتی، بجلی دعووں کی بجائے عملی طور پر سستی نہیں کرتی، زراعت اور صنعت کو ترقی دینے کا عملی مظاہرہ نہیں کرتی۔ منشور صرف ایک رسمی حیثیت ہی رکھے گا جو ہر الیکشن سے پہلے خواب دکھانے کے کام آتا رہے گا۔‘

تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ ن کی جانب سے جو منشور پیش کیا گیا ہے اس مین نیا کچھ نہیں۔ کیونکہ نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملکی معیشت صرف معمول پر لانے کے لیے بھی سخت محنت کرنا پڑے گی۔‘

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اپنے گذشتہ دور حکومت میں انہوں نے (نواز شریف) جس طرح سی پیک منصوبے پر کافی کام کیا۔ بے روزگاری، بجلی کا بحران اور مہنگائی ختم کرنے میں کردار ادا کیا اب معاشی صورت حال فی الحال ایسی نہیں۔‘

’اگر ان کے دور کی پالیسیوں کا تسلسل رہتا تو منشور میں اب بات آگے بڑھتی۔ مگر ان کو ہٹا کر نئی جماعت کو اقتدار دیا گیا جنہوں نے نہ صرف معاشی صورت حال بگاڑ دی بلکہ ترقی کا پہیہ روک کر مہنگائی بھی ناقابل برداشت سطح تک بڑھا دی۔‘

منشور کتنا قابل عمل؟

حسن عسکری کے مطابق: ’پیپلز پارٹی، ن لیگ یا پی ٹی آئی تینوں جماعتوں نے منشور کا اعلان تو کر دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس پر عمل درآمد کس طرح کریں گے۔ کوئی صحت کارڈ، کوئی انکم سپورٹ کارڈ کا اعلان کر کے کارڈ کارڈ کھیل رہا ہے۔ کوئی مفت بجلی اور روزگار کے وعدے کر رہا ہے، یہ کوئی نہیں بتاتا کہ پہلے حکومت ملنے پر وہ یہ سب کیوں نہیں کر سکے۔‘

حسن عسکری کے بقول: ’دراصل عوام کو سہولیات دینے، مسائل حل کرنے کے اقدامات سے ان کے ساتھ موجود لوگوں کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ہر شعبے میں وہی لوگ گھسے ہیں جو سیاسی جماعتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر موجود ہیں۔ الیکشن جیت کر سب اپنے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں اور اسی عوام کو لوٹتے ہیں جن سے ووٹ لے کر سرکاری عہدوں تک پہنچتے ہیں۔‘

’کوئی سیاسی لیڈر سرکاری اخراجات میں کمی، بے جا پروٹوکول کا خاتمہ، کفایت شعاری تک پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو لوگوں کو مشکل سے کیا نکالیں گے۔‘

دوسری جانب سلمان شاہ کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے منشور پر عملی طور پر کام نہیں کر سکتی۔ کہیں ذاتی مفادات آڑے آجاتے ہیں، کہیں نظام کی خرابیاں رکاوٹ بنتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

’سیاسی لوگ ہوں، بیورو کریسی ہو یا ادارے، کوئی ترقی کے فارمولے کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ جس طرح انڈیا، ویتنام، چین نے نظام میں بنیادی ریفارمز کیں، روکاوٹیں دور کیں، کاروباری حالات سازگار کیے، غیر ملکی درآمدات کی بجائے برآمدات کی طرف توجہ دی وہ یہاں ہونا ممکن نہیں۔‘

سلمان شاہ نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی حکومت اس وقت نہ کسی منشور پر عمل کر سکتی ہے نہ ہی نظام بہتر کر سکتی ہے جب تک تمام مرکزی عہدیدار مل کر ملکی مفاد کے لیے اکھٹے نہیں ہوتے۔

’کوئی کام کرنے لگتا ہے تو اسے نظام کے اندر موجود طاقتیں ہی روک لیتی ہیں۔ نئے نئے تجربات سے بنیادی ڈھانچہ ہی مضبوط ہونے کی حالت میں نہیں۔ جب تک سب مل کر اپنے ملکی وسائل میں رہتے ہوئے ترقی کا فارمولا بنا کر اسے کامیاب نہیں کرائیں گے بہتری کے امکانات پیدا نہیں ہوں گے۔‘

سلمان غنی نے کہا کہ ’منشور پر عمل درآمد سے متعلق نواز شریف سے پوچھا کہ اس پر عمل درآمد کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے؟ تو انہوں نے انگلی آسمان پر اٹھا کر جواب دیا اللہ کی مدد سے عمل کریں گے۔ نواز شریف کو یہ غصہ ہے کہ ان کی 2017 میں حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج حالات بہت بہتر ہوتے۔‘

ان کے مطابق ’نواز شریف نے جو منشور پیش کیا وہ وہیں سے شروع ہو رہا ہے جہاں سے انہوں نے چھوڑا تھا۔ حالات کو اب اس سطح پر لانے کے لیے بھی کئی دشواریاں ہیں جہاں سے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ لہذا امید کی جاسکتی ہے کہ اگر نوازشریف کو پہلے جتنا مینڈیٹ ملا تو وہ ان چینلجز سے کسی حد تک نمنٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

’البتہ سوال تو یہ بھی کھڑا ہے کہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کی اتحادی حکومت کے ڈیڑھ سالہ دور میں معاشی صورت حال نہیں سنبھل سکی اور مہنگائی بھی ناقابل برداشت حد تک پہنچی تو اب کیسے فوری بہتری آئے گی؟‘




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button