fbpx
خبریں

انتخابات میں صحافیوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو ریاست کے تین ستون کہا جاتا ہے۔ آزاد میڈیا کو چوتھا ستون اس لیے گردانا جاتا ہے کیونکہ اسے ریاست کے تین ستونوں کی کارکردگی پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔

ملک میں حالیہ انتخابات کے حوالے سے میڈیا کے کردار کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا کو غیرجانبدار رہنا چاہیے صرف اسی صورت وہ حقائق عوام کے سامنے لا سکتا ہے مگر ایک عمومی رائے یہ بن چکی ہے کہ میڈیا کی حیثیت اب نظر رکھنے والی نہیں بلکہ وہ اب ’منظورِ نظر‘ بن چکا ہے اور جس سیاسی جماعت نے اقتدار حاصل کرنا ہے اسے میڈیا کو اپنا ہمنوا بنانا پڑے گا۔

لیکن یہ ایک الگ بحث ہے کہ سماجی میڈیا کی بے پناہ اثر پذیری کے بعد روایتی میڈیا کتنا موثر رہ گیا ہے اور اب اس کی رائے کو عوام میں کتنی پذیرائی ملتی ہے۔

پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے میڈیا کو پہلی بار 1977 کے انتخابات میں استعمال کیا گیا۔ اس بات کا انکشاف 1993 میں چھپنے والی کتاب ’پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا سیاسی کردار‘ میں کیا گیا ہے جسے معروف صحافی منیر احمد نے لکھا تھا۔

کتاب پر پاکستان میں پابندی لگ گئی تاہم عدالت نے بعد ازاں اشاعت کی اجازت دے دی۔ کتاب میں درج ہے کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کو یقین تھا کہ پیپلز پارٹی مارچ 1977 کےا نتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہ تھے انہوں نے اپنے سپیشل سیکریٹری راؤ عبدالرشید سے ملاقات کر کے انہیں ہدایت کی کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے وقفے وقفے سے ایک سروے کرایا جائے۔

انتخابی سروے میں صحافیوں کا استعمال

راؤ عبدالرشید جو پہلے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ رہ چکے تھے، جس کے بعد بھٹو نے انہیں اپنا سپیشل سیکریٹری تعینات کر دیا تھا، انہوں نے بھٹو کو کہا کہ اگر حکومت اپنے وسائل سے یہ سروے کرائے گی تو اس پر کافی رقم خرچ ہو جائے گی اس لیے یہ کام آئی بی سے کروایا جائے۔

بھٹو نے آئی بی کے ڈائریکٹر اکرم شیخ کو 26 جون 1976 کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ آئی بی وزیراعظم کی خواہش کے مطابق انتخابات کے حوالے سے سروے کرائے۔

تاہم انہوں نے خط میں لکھا کہ آئی بی نجی شعبے کے ذریعے بھی یہ سروے کروا سکتی ہے لیکن نجی شعبے کو کسی صورت اس بات کا علم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ سروے خفیہ ادارے کروا رہے ہیں۔

اکرم شیخ نے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا کہ آئی بی نے یہ کام شروع کر دیا ہے تاہم وہ اس کام کے لیے کوئی نیا ادارہ قائم کرنے کے حق میں اس لیے نہیں ہیں کیونکہ اس کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کی بھرتیاں کرنی پڑیں گی جس پر کافی وقت بھی لگ جائے گا اور اس پر ہونے والے اخراجات کی وجہ سے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوں گے جس کی وجہ سے نیا ادارہ متنازع بن جائے گا۔ ویسے بھی نئے بھرتی ہونے والوں سے اس طرح کا اہم کام لینا مناسب نہیں ہو گا۔

اس لیے انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے حوالے سے سروے کرانے کے لیے انٹیلی جنس بیورو کے موجودہ ریسرچ سیل پر ہی انحصار کرنا بہتر ہو گا، جس کے لیے ہر ضلع میں دو نمائندے مقرر کیے جائیں گے جبکہ کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں نمائندوں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’یہ نمائندے عامل صحافیوں میں سے منتخب کیے جائیں گے چونکہ صحافی پہلے ہی فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں اور ان کی رسائی عوام کے تمام طبقات تک ہے اس لیے ان کو دوہزار روپے ماہانہ فی کس کے حساب سے رقم دی جائے گی۔ منتخب کردہ صحافیوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کریں۔ صحافیوں کو اس ضمن میں انتخابی حلقے دیے جائیں گے جہاں جا کر وہ سروے کریں گے۔ انٹیلی جنس بیورو کے مقرر کردہ صحافیوں کی یہ بھی ذمہ داری ہو گی کہ وہ متعلقہ انتخابی حلقوں میں ذات برادری کے حوالے سے موجود ووٹوں کا بھی سروے کریں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس ذات برادری کے طبقے کا رجحان کس جماعت کی طرف ہے۔‘

ان کے مطابق ’انٹیلی جنس بیورو کے لیے کام کرنے والے یہ صحافی اپوزیشن کی انتخابی مہم کی کامیابی اور ناکامی کے متعلق بھی ہمیں رپورٹ ارسال کریں گے اور وہ اس بات کا بھی پتہ چلائیں گے کہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار اپنی انتخابی مہم کس انداز میں چلا رہے ہیں اور ان کے پیچھے موجود ہاتھ کون سے ہیں۔ ان نمائندوں کے پاس پہلے ہی دفتر، ٹیلی فون اور دوسری سہولتیں موجود ہیں اس لیے ان سہولتوں کی فراہمی کے لیے اضافی اخراجات نہیں کرنے پڑیں گے۔

’اگر کوئی صحافی مستقل طور پر ہمارے ساتھ کام کرنا چاہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہو گا تاہم ہمیں یہ اختیار ہو گا کہ ان کو جب چاہیں فارغ کر دیں۔ انٹیلی جنس بیورو کے منتخب کردہ صحافی آزادانہ حیثیت میں کام کریں گے جبکہ ان پر کراس چیک بھی ہو گا تاکہ سروے رپورٹ کی صداقت کا اندازہ ہو سکے۔ مذکورہ نمائندوں کی تقرری انتہائی احتیاط سے کی جائے گی اور ان کو کام پر لگانے سے اس بات کا یقین بھی کیا جائے گا کہ وہ اپنا کام انتہائی ایمانداری اور رازداری سے انجام دیں گے۔ انٹیلی جنس بیورو ان صحافیوں پر مکمل طور پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ ان کے کام کو پرکھنے کے لیے سینیئر انفارمرز کا تقرر کرے گا جن کو ماہانہ چار ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی۔

’یہ انفارمرز صحافیوں کی رپورٹوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی اپنی رپورٹیں بھی ارسال کریں گے۔‘

انٹیلی جنس بیورو نے وزیراعظم کو جو رپورٹ ارسال کی اس کے مطابق اس منصوبے پر اخراجات کا تخمینہ 42 لاکھ روپے تھا جس میں سے 37 لاکھ 80 ہزار روپے صحافیوں کو ادا کیے جانے تھے۔

بعد ازاں وزرات اطلاعات میں بھی ایک سروے سیل بنایا گیا جس کے لیے صحافیوں کو تین ہزارروپے فی کس کے حساب سے ماہانہ ادائیگیاں کی گئیں۔ ان کے لیے بنگلے کرائے پر لیے گئے اور ان کو کاریں بھی فراہم کی گئیں تاکہ سروے کرنے میں انہیں آسانی رہے۔

آئی بی کے انتخابی سروے کیا کہتے رہے؟

منیر احمد لکھتے ہیں کہ وزیراعظم کو 22 فروری 1977 کو جو رپورٹ پیش کی گئی اس میں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی 192 میں سے 95 نشستیں آسانی سے مل جائیں گی۔ پنجاب کی 116 میں سے 54 نشستیں آسانی سے مل جائیں گی جبکہ 35 پر سخت مقابلہ ہو گا۔ 27 نشستوں پر اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

سندھ کی 43 نشستوں میں سے 18 پر پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی ہے جبکہ پانچ پر سخت مقابلہ ہو گا اور اپوزیشن کے حصے میں آٹھ نشستیں آئیں گی۔ بلوچستان میں 7 نشستیں ہیں جہاں پیپلز پارٹی کی کامیابی چار پر یقینی ہے۔

ان خفیہ رپورٹوں میں بھٹو کو مشورہ دیا گیا کہ پنجاب کے 26 حلقے ایسے ہیں جہاں پیپلز پارٹی محنت کرے تو اسے کامیابی مل سکتی ہے۔ ان حلقوں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کیا حکمتِ عملی اختیار کریں تو انہیں مخالف امیدوار پر برتری مل سکتی ہے۔

تاہم جب انتخابی نتائج آئے تو پیپلز پارٹی کو اس سے کہیں زیادہ نشستیں مل گئیں جس کی پیش گوئی انٹیلی جنس بیورو نے کی تھی۔

پیپلز پارٹی کو 155 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور اپوزیشن کا اتحاد پاکستان نیشنل الائنس صرف 36 نشستیں حاصل کر سکا۔ بلوچستان کی ساتوں نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لیں۔

بھٹو خفیہ اداروں کے سیاسی استعمال کی تردید کرتے رہے۔

جب جنرل ضیاالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا تو انہوں نے بھٹو حکومت کے خلاف ایک وائٹ پیپر شائع کیا جس میں الزام لگایا کہ انہوں نے خفیہ اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا جواب بھٹو نے اپنی کتاب ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ میں دیا ہے اور لکھا ہے کہ ’جنرل ضیا نے میرے سپیشل سیکریٹری راؤ رشید، ایف ایس ایف کے ڈی جی مسعود محمود، ڈی جی آئی بی شیخ اکرم کو گرفتار کیا حالانکہ میرے اصل انٹیلی جنس آفیسر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی تھے جنہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’جنرل جیلانی نے میرا تختہ الٹ جانے سے چند ماہ قبل ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’اس وقت ملک میں بھٹو کے مقام و مرتبے کی حامل یا اس سے قریب تر مقام و مرتبے کی حامل کوئی متبادل قیادت موجود نہیں۔‘

’یہ جنرل جیلانی ہی تھے جو مجھے قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے میجر جنرل ضیا الحق کے نام پر غور کروں۔ تاہم اس معمولی سے انکشاف کے بعد میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون کس کے ہاتھوں میں کھیلا ؟ ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور ان کے چیف آف دی سٹاف میرے ہاتھوں میں کھیلتے رہے یا میں ان کے ہاتھوں میں کھیلا؟‘

بھٹو نے اپنی کتاب میں آگے چل کر لکھا کہ ’خفیہ اداروں کو استعمال کرنے کی روایت تو ایوب دور سے چل رہی تھی۔ صدر ایوب نے خفیہ اداروں کو میرے خلاف استعمال کیا اور کوشش کی کہ میری جماعت قائم نہ ہو سکے۔ بھٹو نے صدر ایوب کی جانب سے خفیہ اداروں کو استعمال کرنے کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 1965 کی جنگ جاری تھی ایوب نے راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس آئی کو طلب کیا اور پوچھا کہ آپ انڈین آرمرڈ ڈویژن کا سراغ کیوں نہیں لگا سکے ؟ میں بھی بطور وزیرِخارجہ وہاں موجود تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے کپکپاتے ہوئے جواب دیا کہ ’سر! ہمیں تو جون 1964 کے انتخابات اور ان سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button