fbpx
خبریں

انتخابات میں شکست: جہانگیر ترین نے سیاست اور سراج الحق نے امیر کا عہدہ چھوڑ دیا

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں شکست کے بعد استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین نے سیاست اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین نے پیر کو ایکس پر سیاست چھوڑنے اور چیئرمین آئی پی پی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

جہانگیر ترین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس انتخابات میں میری حمایت کی اور اپنے مخالفین کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کے عوام کی خواہشات کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ لہٰذا میں نے چیئرمین آئی پی پی کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں جہانگیر ترین نے دو نشستوں پر انتخابات لڑا تھا تاہم انہیں دونوں ہی نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم حالیہ انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی کو دو نشستوں پر کامیابی ہوئی ہے۔

جہانگیر ترین نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’میں آئی پی پی کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘

’اللہ کے فضل و کرم سے میں ذاتی حیثیت میں اپنی صلاحیت کے مطابق اپنے ملک کی خدمت کرتا رہوں گا۔ امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان ترقی کرے گا۔‘

جہانگیر ترین نے گذشتہ سال جون میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے نام سے اپنی جماعت کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما سراج الحق نے بھی ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دے دیا ہے۔‘

سراج الحق آٹھ فروری کو ہوئے عام انتخابات میں اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے تھے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق دستور کی دفعہ 17(3) (الف) اور 4 کے تحت امیر جماعت کی مدت امارت ختم ہونے سے تین ماہ پہلے انتخابی کمیشن امیر کے انتخاب کے عمل کا آغاز کرتا ہے۔ امیر جماعت کا انتخاب ہر پانچ سال بعد دستور کے مطابق ہوتا ہے۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button