fbpx
خبریں

امریکہ میں تشدد کا نشانہ بننے والی طالبہ سعودی نہیں: سعودی سفارت خانہ

امریکہ میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے جمعرات کو وضاحت کی ہے کہ شکاگو میں ایک سکول کی طالبہ کی سعودی شہریت سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں جنہیں زبانی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سعودی سفارت خانے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق وہ امریکہ میں مقیم سعودی شہریوں کے تحفظ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ میں سعودی سفارت خانے نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’شکاگو شہر کے ایک سکول میں ایک طالبہ کو نسل پرستانہ مقاصد کے ساتھ زبانی اور جسمانی حملے کا نشانہ بنانے کے متعلق ایکس  پلیٹ فارم کے متعدد ہینڈلرز اور کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے اشارہ کیا گیا کہ متاثرہ (سعودی شہری) تھیں۔

’ہیوسٹن میں سفارت خانے اور قونصلیٹ جنرل کی طرف سے معاملے کی پیروی کرنے اور متعلقہ امریکی حکام سے بات چیت کی گئی تو ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی جس سے یہ ظاہر ہو کہ متاثرہ سعودی شہری ہیں اور نہ ہی سفارت خانے یا قونصل خانے سے اس بارے میں کوئی اطلاع موصول ہوئی کہ مذکورہ واقعہ میں کسی بھی سعودی خاتون شہری پر حملہ کیا گیا ہے۔‘

امریکہ میں سعودی سفارت خانے کےبیان کے مطابق: ’سفارت خانہ اور قونصلیٹ جنرل اس واقعے سے متعلق حقائق کی تصدیق کے لیے اس معاملے کی پیروی جاری رکھیں گے۔ سفارت خانہ تمام امریکی علاقوں میں شہریوں، مرد اور خواتین کی سلامتی اور تحفظ کے لیے اپنی تشویش کی بھی تصدیق کرتا ہے۔‘

شکاگو سن ٹائم نامی امریکی اخبار کے مطابق امریکی گاؤں گلینڈیل ہائٹس کے مضافاتی علاقے میں گلنسائیڈ مڈل سکول میں تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں حجاب پہنے ایک لڑکی پر دوسرے طالب علم (لڑکے) نے حملہ کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوئین بی سکول ڈسٹرکٹ 16 کے سپرنٹنڈنٹ جوزف ولیمز نے تصدیق کی کہ جمعرات کو گلین سائیڈ مڈل سکول، 1560 بلومنگڈیل روڈ پر ایک اور طالب علم نے ایک طالب علم پر حملہ کیا، جبکہ دیگر نے کھڑے ہو کر واقعے کی ویڈیو بنائی۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے مبینہ حملے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکے نے ایک لڑکی کو سر سے پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔

مسلمانوں کے شہری حقوق اور وکالت کرنے والی تنظیم سی اے آئی آر شکاگو کے مطابق لڑکی کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ دو ماہ سے امریکہ میں ہے۔

واقعے کے بعد سکول نے گلینڈیل ہائٹس پولیس ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا۔ ولیمز نے کہا کہ محکمہ نے اپنی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ولیمز نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ حملہ نسلی، ثقافتی یا مذہبی عدم رواداری کی وجہ سے ہوا تھا۔ تاہم سی اے آئی آر شکاگو کا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکا گذشتہ سال حجاب پہننے والی ایک اور طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر غنڈہ گردی کے ایک اور واقعے میں بھی ملوث تھا۔

ولیمز نے ایک بیان میں کہا، ’ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار طالب علموں کو تمام متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

سی اے آئی آر شکاگو کے بقول انہیں امید ہے کہ سکول ڈسٹرکٹ ادارے میں غنڈہ گردی کے کلچر سے نمٹنے کے لیے کوششیں کرے گا۔

گلینڈیل ہائٹس مڈل اسکول میں مسلمان طالب علم پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button