fbpx
خبریں

الیکشن 2024: پولنگ سکیم جاری، ملک میں 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشن قائم

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آٹھ فروری 2024 کو ملک ہونے والے عام انتخابات کے لیے پولنگ سکیم کا خلاصہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پورے ملک میں مجموعی طور پر 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشنز قائم کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق کل 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشنز میں سے مردوں کے لیے 25 ہزار 320 اور خواتین کے 23 ہزار 950 پولنگ سٹیشنز ہیں جبکہ 41 ہزار 405 مشترکہ پولنگ سٹیشنز بھی ہیں جہاں مرد و خواتین دونوں ووٹ ڈالیں گے۔

پنجاب

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں 50 ہزار 944 پولنگ سٹیشنز ہیں۔ جن میں مردوں کے 14 ہزار 556 اور خواتین کے 14 ہزار 36 پولنگ سٹیشن ہیں۔ پنجاب میں 22 ہزار 352 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔

سندھ

الیکشن کمیشن کی سمری کے مطابق صوبہ سندھ میں 19 ہزار چھ پولنگ سٹیشنز ہیں جن میں مردوں کے چار ہزار 439 اور خواتین کے چار ہزار 308 پولنگ سٹیشنز ہوں گے جبکہ 10 ہزار 259 مشترکہ پولنگ سٹیشنز ہوں گے۔

خیبر پختونخوا

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں کل 15 ہزار 697 پولنگ سٹیشنز ہیں جن میں مردوں کے چار ہزار 814 اور خواتین کے چار ہزار 289 پولنگ سٹیشنز ہیں جبکہ چھ ہزار 594 مشترکہ پولنگ سٹیشنز بھی ہیں۔

بلوچستان

اس کےعلاوہ صوبہ بلوچستان میں پانچ ہزار 28 پولنگ اسٹیشنز ہیں جن میں مردوں کے 1511 اور خواتین کے 1317 پولنگ اسٹیشنز یں جبکہ دو ہزار 200 مشترکہ پولنگ سٹیشنز ہیں۔

لیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں دو لاکھ 76 ہزار 402 پولنگ بوتھ ہیں جن میں مردوں کے 1 لاکھ 47 ہزار 560 اور خواتین کے ایک لاکھ 27 ہزار 842 پولنگ بوتھ ہیں۔

کل پولنگ بوتھس میں سے پنجاب میں ایک لاکھ 49 ہزار 434، سندھ میں 65 ہزارپانچ پولنگ بوتھ، خیبر پختو نخوا میں 47 ہزار 81 اور بلوچستان میں 14 ہزار 882 پولنگ بوتھ ہوں گے۔


پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں ان کی ایک ریلی کو روکنے کی کوشش کے دوران پولیس نے 50 کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق کارکنوں نے پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔

پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان فلک الماس کے مطابق پارٹی نے کلفٹن میں ریلی نکالی جسے پولیس نے ’زبردستی منتشر‘ کر دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران پولیس نے 50 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے اتوار سے ملک بھر میں انتخابی ریلیاں نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب کراچی پولیس نے بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او بوٹ بیسن ریاض نیازی سمیت متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ریاض نیازی شدید زخمی ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان نے تین تلوار پر پی ٹی آئی کی ریلی پر پولیس کی شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کرنے کے باوجود پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر بھر میں آج ’ہر سیاسی جماعت کی سرگرمیاں جاری ہیں مگر پی ٹی آئی کے خلاف مذموم سازش رچائی جارہی ہے۔‘


 پی ٹی آئی کا آج سے ملک بھر میں انتخابی ریلیاں نکالنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں 28 جنوری دن دو بجے سے انتخابی ریلیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لوگوں کو گھروں سے باہر آ کر پارٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی سے روکا جا رہا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور دفاتر پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ سینیئر سیاست دان اور پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کے والد میاں محمد اظہر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کسی بھی شکل میں کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں اور مقبول ترین رہنما عمران خان جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی تیز رفتاری کے ساتھ سماعت جاری ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق: ’ہم بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس جارحانہ طرز عمل کا نوٹس لیں جس کا مقصد جعلی انتخابی عمل کی راہ ہموار کرنا ہے۔‘

اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر خان نے ہفتے کو پارٹی کے انتخابی امیدواروں کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کل اتوار کو آپ سب پرامن انداز میں ملک بھر میں ریلیاں نکالیں۔ اپنے انتخابی نشانات کو عوام تک لے جائیں تاکہ عوام انہیں پہچان سکیں۔


ای سی پی کا الیکشن مینیجمنٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے سلسلے میں ملک بھر کے 859 مقامات سے الیکشن مینیجمنٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ کر لیا۔

ہفتے کو الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کے لیے مقرر کردہ 859 دفاتر الیکشن مینیجمنٹ سسٹم کے تجربے کا حصہ تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ای ایم ایس کا سب سے بڑا مقصد ریٹرننگ افسران کی سطح تک انتخابی نتائج کی ترسیل اور ترتیب ہے۔

تجربے کے دوران ریٹرننگ افسران نے کامیابی کے ساتھ انتخابی نتائج کی ترسیل اور ترتیب کا عمل انجام دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق: ’ملک بھر میں 859 مقامات پر قائم ریٹرننگ افسران کے دفاتر تجرباتی مشق میں شریک ہوئے۔ ڈی ایس ایل کنیکٹیوٹی، ای ایم ایس ایپ لاگ ان، استعمال اور نتائج کے مراحل کی مشق کی گئی۔‘
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پریزائیڈنگ آفیسرز کی جانب سے نتائج کی ترسیل اور آر اوز کی جانب سے نتائج کی تدوین مکمل کی گئی۔

ای ایم ایس کا بنیادی مقصد آر او کی سطح پر نتائج کی تدوین و ترتیب ہے، مشق کے دوران تمام آر اوز نے مکمل کامیابی کے ساتھ نتائج کی تدوین و ترتیب مکمل کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پریس ریلیز کے مطابق: ’پریزائیڈنگ آفیسرز کی جانب سے نتائج کی ترسیل بھی تسلی بخش رہی، چند مقامات پر کنیکٹیوٹی کی دشواری کی وجہ سے نتائج کی ترسیل اور تدوین میں معمولی چیلنجز سامنے آئے جنہیں فوری طور پر دور کیا جا رہا ہے۔‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیر سے شروع ہونے والی 8300 ایس ایم ایس سروس کے ذریعے عوام کو ان کے ووٹوں اور پولنگ اسٹیشنوں سے آگاہ کرنے کا انتظام بھی کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق ووٹرز کو اپنی ووٹنگ کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر 8300 پر بھیجنا ہوگا۔ اس سروس کی فیس دو روپے فی ایس ایم ایس ہے۔

ترجمان نے رائے دہندگان پر بھی زور دیا کہ وہ پولنگ سٹیشن پر کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے بروقت اپنے اور اپنے اہل خانہ کی تفصیلات حاصل کریں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button