fbpx
خبریں

الیکشن 2024: ’پولنگ سٹیشنز پر معذوروں کے لیے عدم سہولیات پر دل دکھتا ہے‘

’میری عمر 60 سال ہے اور میں بچپن سے پولیو کی وجہ سے معذوری کا شکار ہوں۔ جب بھی پولنگ سٹیشن جا کر ویل چیئر کی سہولت نہیں دیکھتا تو دل ہی دل میں تکلیف ہوتی ہے کہ ہمیں انسان کیوں نہیں سمجھا جاتا۔‘

یہ کہنا تھا مشتاق حسین کا جو پشاور میں معذور افراد کے لیے قائم پیراپلیجک سینٹر میں ملازمت کرتے ہیں۔

مشتاق نے معذوری کو کبھی کمزوری نہیں سمجھا بلکہ وہ دیگر معذور افراد کے لیے عدم سہولیات پر پریشان رہتے ہیں۔

پاکستان میں آٹھ فروری(کل) کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور مشتاق فکر مند ہیں زیادہ تر پولینگ سٹیشنز پر ریمپ کی سہولت موجود نہیں۔

انہوں نے بتایا، ’یہ صرف کل کے انتخابات کی بات نہیں بلکہ ماضی میں بھی ہم نے کیے پولنگ سٹیشنز میں ریمپ کی سہولت نہیں دیکھی۔ اس حوالےسے ہم نے بارہا الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ 2018 میں عام انتخابات کے وقت انہوں نے الیکشن کمیشن سے بات کی تھی کہ تمام پولنگ سٹیشنز کو معذور افراد کے لیے قابل رسائی بنایا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا، جس پر انہوں نے ووٹ ڈالنے کا بایئکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تین لاکھ سے زائد معذور افراد موجود ہیں۔

تاہم مشتاق اور معذور افراد کے حقوق پر کام کرنے والے تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد کروڑوں میں ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشتاق کے مطابق 2017 میں پاکستان میں معذور افراد کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ تھی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں معذور افراد کی آبادی مجموعی آبادی کے تین فیصد سے زیادہ ہے۔

مشتاق نے بتایا،’اتنی بڑی آبادی کو ووٹ کی سہولت سے محروم کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ویل چیئر پر ایک بندہ خود کو تھکا کر پولنگ سٹیشن جاتا ہے لیکن حکومت اتنا نہیں کر سکتی کہ اس کے لیے مستقل نہیں تو کم از کم عارضی ریمپ کا بندوبست کر دے۔‘

کل ہونے والے انتخابات کے لیے 90 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جس میں 12 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے پاس معذور افراد کے لیے ایسکسیبل پولنگ سٹیشن کا ڈیٹا موجود نہیں۔ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے ترجمان محمد سہیل نے بتایا کہ ’جہاں ممکن تھا وہاں پولنگ سٹیشن کو معذور افراد کے لیے ایکسیسیبل بنایا گیا ہے۔‘

تاہم انہوں کے بتایا کہ کتنے پولنگ سٹیشنز میں معذور افراد کے لیے سہولت موجود ہے، اس کا ڈیٹا مرتب نہیں کیا گیا۔ ’معذور افراد کو ووٹ ڈالنے کی سہولت کے پیش نظر پوسٹل بیلٹ کی سہولت دی گئی تھی اور وہ پوسٹل بیلٹ کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔‘

مشتاق اس حوالے سے کہتے ہیں: ’ہم بھی چاہتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن جا کر باقی لوگوں کی طرح اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکیں لیکن ہمیں اس معاشرے میں عام افراد کی طرح نہیں سمجھا جاتا۔‘

انہوں نے کہا: ’پوری دنیا میں معذور افراد کی لیے تمام تر سہولیات دی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں معذور افراد کو تمام تر صلاحیتوں کے باوجود بوجھ سمجھا جاتا ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button