fbpx
خبریں

الیکشن 2024: پشاور میں ووٹنگ کے آغاز سے گنتی کا عمل، کیا صورت حال رہی؟

پاکستان میں عام انتخابات میں ووٹنگ کا عمل آج شام پانچ بجے مکمل ہوگیا ہے اور ابھی گنتی کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج سامنے آرہے ہیں۔ 

خیبر پختونخوا میں 2013 اور 2018 کے انتخابات کی کوریج کرنے کے بعد آج 2024 انتخابات کی کوریج بھی کی لیکن آج ہونے والے انتخابات میں پشاور کے مختلف پولنگ سٹینشز میں ووٹرز کی وہ دلچسپی نظر نہیں آئی جو ماضی کے انتخابات میں تھی۔

یونیورسٹی روڈ، صدر بازار، اور مرکزی کاروباری مارکیٹس تقریبا بند رہیں اور سڑکوں پر صبح سے دوپہر تک رش نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم دوپہر کے بعد سیاسی جماعتوں کے بینرز لگی گاڑیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

صبح ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پشاور میں این اے 31 میں قائم مرد اور خواتین پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا تو وہاں پر ووٹرز نہ ہونے کے برابر تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ووٹرز کے علاوہ پولنگ سٹیشن سے باہر پی ٹی آئی اور اے این پی کے کیمپوں میں تھوڑا بہت رش دیکھا گیا لیکن باقی سیاسی جماعتوں کے کیمپوں میں اکا دکا ووٹرز موجود تھے۔ 

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے کیمپوں میں لوگ تو موجود تھے، تاہم کسی کیمپ میں ماضی کی طرح انتخابی امیدوار کو نہیں دیکھا گیا۔ 

پی ٹی آئی کے کیمپ میں نوجوان زیادہ نظر آئے جبکہ باقی سیاسی جماعتوں کے کیمپوں میں زیادہ تر بڑی عمر کے ووٹرز موجود تھے۔ تاہم یہ صورتحال ان کیمپوں کی ہے جہاں میں گیا مگر ایسا ممکن ہے کہ دیگر پولنگ سٹیشنز پر امیدواروں نے دوری کیا ہو۔

انتخابی عمل کے دوران ایک مثبت چیز یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر امن رہے اور جہاں پر بھی ہم گئے تو وہاں پر سیاسی جماعتیں ووٹرز کی رہنمائی میں مصروف نظر آئے۔ کچھ پولنگ سٹینشز کے باہر کارکنان کے درمیان لڑائی جھگڑا دیکھا گیا تاہم مجموعی طور ووٹنگ کا سلسلہ پر امن رہا اور ووٹنگ پراسس درست طریقے سے جاری رہا۔

ایک تبدیلی جو ماضی کے انتخابات سے مختلف دیکھی گئی وہ پولنگ سٹینشن کے اندر اور باہر پاکستان فوج کے اہلکاروں کی غیر موجودگی تھی۔ جن پولنگ سٹینشز کا ہم نے دورہ کیا ہے، وہاں پر صرف پولیس اہلکار پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر تعینات تھے اور آرمی کے جوان موجود نہیں تھے۔

اس حوالے سے ایک پولیس اہلکار سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ آرمی کے جوان پولنگ سٹیشن کی حدود میں نہیں ہیں تاہم ادھر ادھر سکیورٹی کے خاطر گشت کر رہے ہیں۔ 

ایک پولنگ سٹینشن کے باہر تین چار آرمی کے جوان کھڑے تھے لیکن ایک طرف پر، اور پولنگ سٹینشن کے اندر جانے اور ووٹرز کی چیکنگ کی ذمہ داری پولیس اہلکار سر انجام دے رہے تھے۔ 

میں نے قبائلی ضلع خیبر کے ایک پولنگ سٹیشن کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر بھی پرامن طریقے سے پولنگ کا عمل جاری تھا۔ 

وہاں کے ایک پریزائڈنگ افسر سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مقابلے میں ووٹرز کم نکلے ہیں اور صبح سے دوپہر تک تو لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ 

جب نتائج کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک پولنگ سٹیشن میں گنتی کے عمل میں موجود تھا اور وہاں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کو برتری حاصل تھی۔ پولنگ سٹیشن سے باہر نکلنے کے بعد مخالف سیاسی جماعت کے ایک حمایتی نے پوچھا کہ کون آگے ہے، تو میں جواب دیا پی ٹی آئی۔ 

اسی پر انہوں نے بتایا، ’یہ تو لگتا ہے ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے کیونکہ ہم تو سمجھ رہے تھے پی ٹی آئی ہارے گی۔‘

سکیورٹی کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر صوبہ بھر میں انتخابی عمل پرامن رہا۔ تاہم ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق پولیس وین پر حملے کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں۔ 




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button