fbpx
خبریں

الیکشن 2024: وہ عوامی مسائل جو انتخابی مہم میں نظرانداز ہوئے

آٹھ فروری سر پر ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ تمام تیاریاں تقریبا مکمل ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات ننانوے فیصد دم توڑ چکے ہیں۔

اب تک کی انتخابی مہم اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے عوام سے جلسے جلوسوں میں جو کہنا تھا کہہ دیا۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ مہم داخلی معاشی صورت حال اور سیاست پر زیادہ مرکوز رہی اس میں خارجہ امور، معاشی اصلاحات، ماحولیاتی تبدیلی یا سکیورٹی مسائل پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے الیکشن 2024 کے سلسلے میں اپنی اپنی فیلڈ کے تین ماہرین کو مدعو کیا اور ان سے اس انتخابی مہم پر معیشت، خارجہ امور اور سکیورٹی معاملات پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔

اس گفتگو میں ماہر معاشیات ڈاکٹر ادریس خواجہ شامل تھے  جن کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں اور تعلیم انفو نامی طلبہ کی مدد کے لیے ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں۔ ان کا تعلق پشاور سے ہے۔

انڈی اردو کے دوسرے معزر مہمان سابق سینیئر سفارت کار ایمبیسڈر عبدالباسط تھے جن کا بھی تعلق پشاور سے ہے اور جو انڈیا اور امریکہ سمیت دنیا کے اہم مراکز میں سفارتی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

پاکستان اور شدت پسندی پر کئی کتابوں کے مصنف اور سینیئر صحافی زاہد حسین بھی گفتگو میں شریک تھے۔ اسلام آباد میں صحافیوں کے استاد سیاست کے بھی ماہر ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گفتگو کا آغاز ادریس خواجہ نے کیا جنہوں نے مانا کہ معاشی صورت حال ہی انتخابی مہم پر زیادہ چھائی رہی تاہم مسلم لیگ ن کا روٹی کی قیمت کو پچیس روپے سے پانچ روپے پہ لانا کتنا آسان ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو درست کرنے کے لیے بنیادی تبدیلیاں چاہییے جیسے کہ مینوفیکچرنگ اور زرعات پر توجہ۔

انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کسان اور مزدور کارڈ کا وعدہ کرتی رہی۔ تو ایک جانب پاکستان پر سبسڈیز ختم کرنے کا دباؤ ہے اور دوسری جانب مزید رعایتوں کی باتیں؟

گفتگو میں خیلجی ممالک سے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ذکر ہوا۔ نئی حکومت کے لیے یہ کتنی اہم ہوگی اور موجودہ ملکی سیاست میں کون سی قیادت اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

عبدالباسط متفق تھے کہ انتخابی مہم تقریبا ختم ہوچکی ہے لیکن خارجہ امور پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ تعلقات کی بہتری کی بات کریں تو انڈیا بڑا ہمسایہ ہے لیکن کسی نے غلطی سے بھی جلسے جلوسوں میں نام نہیں لیا۔

صرف انڈیا نہیں افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی حالیہ سرحدی کشیدگی نے پاکستان کو سفارتی محاذ پر مشکل صورت حال سے دوچار کیا ہے؟

سکیورٹی کی صورت حال بلوچستان میں انتخابی مہم کے دوران قابل تشویش رہی۔ زاہد حسین نے اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ انتخابی مہم ماند رہنے کی وجہ سلامتی کے خطرات تھے یا کچھ اور۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button