fbpx
خبریں

الیکشن 2024: حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

عام انتخابات 2024 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 نشستوں سمیت کل 191 نشستوں کے لیے صوبے میں 19 ہزار چھ پولنگ سٹیشنز ہوں گی۔

ان میں سے پانچ ہزار نو سو 97 نارمل پولنگ سٹیشنز جبکہ چھ ہزار پانچ سو 31 حساس اور چھ ہزار چار 96 پولنگ سٹیشنز انتہائی حساس ہیں۔

نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے جمعے کو چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، ڈی جی رینجرز، تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈی آئی جیز اور صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کے ساتھ اجلاس کیا جس میں صوبے میں پولنگ سٹیشز کی سیکورٹی سمیت مختلف انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلی سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ عام انتخابات کی سکیورٹی کے لیے ایک لاکھ نو ہزار پولیس فورس کی ضرورت ہے، مگر اس وقت ایک لاکھ پانچ ہزار اہلکار موجود ہیں۔

’جب کہ 4000 پولیس اہلکاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی معاون فورس جیسے اینٹی انکروچمنٹ فورس، ایکسائز پولیس، اینٹی کرپشن سول ڈیفنس، فرنٹیئر کانسٹیبلری سے پورا کیا جائے گا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالر شید چنا نے کہا: ’پولیس کے علاوہ 10 ہزار رینجرز اہلکار اور 14 ہزار پاکستان فوج کے اہلکار بھی الیکشن کی سیکورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔‘

انڈپینڈٹ اردو کو ملنے والی سندھ پولیس کی رپورٹ کے مطابق نارمل پولنگ سٹیشن کے باہر چار پولیس اہلکار، حساس پولنگ سٹیشن پر چھ اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشن پر سندھ پولیس کے آٹھ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشن کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان سندھ کے ترجمان نبیل احمد ابڑو کے مطابق قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی یا بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات یا عام انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشنز کو سیکورٹی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے نبیل احمد ابڑو نے بتایا: ’الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی پولنگ سٹیشن کو انتخابات کے دوران سکیورٹی کی صورت حال کی بنیاد پر نارمل، حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشن کی کیٹیگری میں شامل کرتا ہے۔

’الیکشن کمیشن صرف تمام پولنگ سٹیشنز کو مخصوص کیٹیگری میں شامل کرتا ہے، مگر کسی بھی پولنگ سٹیشن کی مخصوس سکیورٹی کی صورت حال کا تعین الیکشن کمیشن خود نہیں کرتا بلکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔

’پولنگ سٹیشنز کو ان تین کیٹیگریز میں اس لیے شامل کر کے اعلان کیا جاتا ہے، تاکہ الیکشن والے دن مخصوص پولنگ سٹیشن کو پیش متوقع سیکورٹی خدشات کے پیش نظر صوبائی حکومت حفاظتی اقدامات کرنے کے ساتھ پولیس اور دیگر فورسز کو تعینات کرسکے۔‘

کسی بھی پولنگ سٹیشن کو نارمل، حساس یا انتہائی حساس قرار دینے کے لیے کن باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے جواب میں نبیل احمد ابڑو نے کہا کہ ’ہر پولنگ سٹیشن کی حدود میں موجود مذہبی، فرقہ وار، لسانی تنظیموں اور شدت پسند گروہوں کی موجودگی کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا کہ کسی بھی پولنگ سٹیشن پر ماضی میں سیکورٹی کی صورت حال خراب ہوئی تھی یا نہیں۔ تو اس حساب سے یہ تعین کیا جاتا ہے کہ کس پولنگ سٹیشن کو کس کیٹیگری میں رکھا جائے تاکہ الیکشن کے دوران اس طرح سے سکیورٹی کے انتظامات کیے جاسکیں۔‘

نبیل احمد ابڑو کے مطابق: ’کوئی پولنگ سٹیشن ماضی میں نارمل پولنگ سٹیشن کی کیٹیگری میں شامل تھا مگر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنے والے انتخابات سے قبل اپنی رپورٹ میں ممکنہ سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تو پھر فیصلہ کیا جائے گا کہ اس مخصوص پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا جائے یا انتہائی حساس پولنگ سٹیشن قرار دیا جائے۔‘

الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام سکیورٹی فورسز کے اہلکار پولنگ سٹیشن کے باہر موجود ہوں گے۔

انتخابات کے دوران سکیورٹی کے علاوہ دیگر انتظامات کون کرتا ہے؟

نبیل احمد ابڑو کے مطابق الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخابات منعقد کرانا ہے۔ سکیورٹی، پولنگ عملے کو پولنگ سٹیشن لانے اور انتخابات کا وقت ختم ہونے کے بعد بیلٹ باکس سمیت الیکشن کمیشن کے دفتر لانے کے لیے گاڑیوں، تمام پولنگ سٹیشنوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی اور دیگر سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کا کام ہے۔

اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنز کے آس پاس ضروری آلات اور ڈاکٹروں سے لیس ایمبولینس، فائر ٹینڈرز سمیت دیگر انتظامات بھی صوبائی حکومت کو کرنے ہیں۔

نبیل احمد ابڑونے کہا کہ جسمانی معذور یا سپیشل افراد جو وہیل چیئر پر ووٹ دینے آتے ہیں انہیں پولنگ سٹیشن کے اندر لے جانے کے لیے ہر پولنگ سٹیشن میں ریمپ کا انتظام کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے۔ 2018 کے عام انتخابات کے دوران عمرکوٹ سندھ میں وہ واحد ضلع تھا جہاں تمام پولنگ سٹیشنز میں معذور افراد کی وہیل چیئر کے لیے ریمپ بنائے گئے تھے۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button