fbpx
خبریں

الیکشن 2024: اسلام آباد میں گہما گہمی نہیں، شہری مہنگائی سے پریشان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں این اے 46، این اے 47 اور این اے 48 شامل ہیں۔

این اے 47 اسلام آباد کا بڑا حلقہ اور دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے وسطی علاقوں پر مشتمل ہے۔

آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے اس حلقے کے دورے کے دوران عوام کے مسائل جاننا چاہے اور یہ بھی کہ منتخب نمائندوں سے انہوں نے کیا امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

دیہی علاقوں کے ووٹرز کا کہنا تھا کہ یہاں جو بھی منتخب نمائندہ آیا، اس نے صرف تختیاں لگا کر کام کا آغاز کیا لیکن کام مکمل نہیں کیے۔

رہائشیوں کے مطابق حلقے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سیوریج کا ناقص نظام، گیس کی عدم فراہمی، مواصلات کا درہم برہم نظام  اور مہنگائی ان کے ترجیحی مسائل ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جو بھی اقتدار میں آئے، ان مسائل کو حل کرے تاکہ اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں رہنے والے بھی سکون کی زندگی گزاریں۔

دوسری جانب اسلام آباد کے شہری علاقے کے ووٹرز کے مسائل ٹوٹی پھوٹی سڑکیں تو نہیں لیکن وہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے پریشان ہیں۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں صفائی کا انتظام، گیس کے بھاری بل اور مہنگائی بھی ایک مسئلہ ہے، جو وہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے اپنے منتخب نمائندوں سے حل کروانے کی توقع کیے بیٹھے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد میں کل رجسٹرڈ ووٹرز 10 لاکھ 83 ہزار 29 ہیں، جن میں سے مرد ووٹرز کا تناسب 53 فیصد جبکہ خواتین ووٹرز کا تناسب 47 فیصد ہے، تاہم شہر میں انتخابی ہلچل نہ ہونے کے برابر ہے۔

کچھ شاہراہوں پر امیدواروں کے بینرز لگے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے بڑے پیمانے پر اسلام آباد میں ایک بھی انتخابی ریلی یا جلسہ نہیں کیا جبکہ 2018 میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے ڈی چوک پر الیکشن سے قبل تک لاتعداد جلسے اور ریلیاں منعقد کی تھیں، لیکن اس مرتبہ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملنے پر اب ان کی جماعت کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔

این اے 47 سے پی ٹی آئی کے امیدوار شعیب شاہین ہیں، مسلم لیگ ن سے طارق فضل چوہدری، پیپلز پارٹی سے سید سبط الحیدر  جبکہ مصطفیٰ نواز کھوکھر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

گذشتہ انتخابات میں اس حلقے سے پہلے عمران خان جیتے تھے، جنہوں نے میانوالی کی نشست اپنے پاس رکھی، جس کے بعد اس حلقے کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان جیتے تھے جبکہ 2013 میں طارق فضل چوہدری بھی اس حلقے سے جیت چکے ہیں۔

این اے 46 سے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے اسد عمر جیتے تھے جبکہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار عامر مسعود مغل، مسلم لیگ ن سے انجم عقیل، آزاد امیدوار نایاب علی، پیپلز پارٹی سے راجہ عمران اشرف اور جماعت اسلامی سے میاں اسلم امیدوار ہیں۔

اسی طرح این اے 48 سے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے خرم نواز جیتے تھے جبکہ اس مرتبہ اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے اسد پرویز، پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار علی بخاری اور آزاد امیدوار مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی آٹھ فروری کے انتخابات میں آزاد امیدوار خرم شہزاد نواز کی حمایت کرے گی۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔




Source link

Facebook Comments

رائے دیں

Back to top button